ساٹھ اور اسی کی دہائی میں پھنسی قوم

ساٹھ اور اسی کی دہائی میں پھنسی قوم
ساٹھ اور اسی کی دہائی میں پھنسی قوم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نوحہ گروں کو خبر کرو کہ ان کے کاروبار میں تیزی آنے لگی ہے، کفن سینے والوں سے بھی کہو کہ وہ سفید کپڑے کا ذخیرہ کر لیں ، قبریں کھودنے والوں سے کہو کہ وہ اپنے بیلچے تیار رکھیں ، مولوی حضرات سے بھی کہہ دو کہ جنازگاہوں کے آس پاس رہیں کہ ایک ایک دن میں بیس بیس جنازے پھر اٹھنے لگے ہیں۔ ابھی وہ دن بہت پرانے تو نہیں ہوئے جب پچاس ، پچاس اور ستر ، ستر ایک ایک حملے میں بے دردی کے ساتھ مارے جایا کرتے تھے۔ میری سیاست ایو ب کے دور میں اور میرا مذہب ضیاء کے دور میں پھنس کے رہ گیا ہے-

خیال تھا کہ ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے انتخابات جمہوریت کو مضبوط کریں گے مگر یہ اسی طرح کی خام خیالی رہی جس طرح میں یہ سوچ رہا تھا کہ میرے فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کے قیمتی نذرانے پیش کر کے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے لئے جہاں اس وقت کی حکومت نے فیصلہ کرتے ہوئے ایک بڑے مکتبہ فکر کی ناراضی بھی مول لی تھی جس کی براہ راست ترجمانی اس وقت کے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن اور بالواسطہ ترجمانی جمعیت علمائے اسلام کے امیرمولانا فضل الرحمان کر رہے تھے، جنہیں اپنے لوگ کہتے ہوئے عمران خان کی پارٹی والے پشاور میں دفتر کھولنے کو تیار ہو رہے تھے، عوام نے اس وقت اربوں روپوں کے اضافی ٹیکس بھی ادا کئے تھے تاکہ جہاں آپریشن ضرب عضب کے لئے فنڈز مہیا ہو سکیں وہاں مجبوری کے عالم میں اپنے گھر چھوڑنے والے بے گناہ اور امن پسند قبائلیوں کو بھی دوبارہ عزت ، احترام اور سہولت کے ساتھ آباد کیا جا سکے، لگتا ہے کہ دنوں اور راتوں کی بہت ساری محنتیں ایک ساتھ اکارت ہوئی ہیں۔

اچھا! آپ کہتے ہیں کہ نوحہ گروں کے کاروبار میں تیزی نہیں�آئے گی، کفن سینے والوں سے بھی کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ سفید کپڑے کا ذخیرہ کرلیں کہ انتخابات کے زمانے میں کپڑا ویسے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور وہ مزید مہنگا ہو جائے گا ،آپ کہتے ہیں کہ چند دنوں کی بات ہے پھر قبریں کھودنے اور جنازے پڑھانے کا کام بھی نہیں بڑھے گا کہ یہ آفت عارضی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ طالبان نے پشاور میں صرف اے این پی کی کارنر میٹنگ میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہارون بلور کو ہی نشانہ بنایا ہے جواس بشیر بلور کا بیٹا ہے جسے اس سے پہلے اس کے نظرئیے کی سزا دی گئی تھی۔ آپ کہتے ہیں کہ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جس میں ان کے فدائی عبدالکریم نے ہارون بلور کے ساتھ ساتھ بیس دوسروں کو بھی موت کے گھاٹ اتار اہے۔ طالبان کی طرف سے صرف یہی دھمکی دی گئی ہے کہ عوام اے این پی کے جلسوں ، جلوسوں اور دفاتر سے دور رہیں کہ مستقبل میں بھی اس جماعت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ آپ کا اصرار ہے کہ مسئلہ محض ایک جماعت کا ہے اور اسے اپنے نظریات کی وجہ سے سرگرمیاں محدود کر دینی چاہئیں کہ متحدہ مجلس عمل، تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور کسی حد تک پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے لئے بھی براہ راست کوئی دھمکی نہیں ہے لہذا اس مسئلے سے کچھ حفاظتی اقدامات کر کے نمٹا جا سکتا ہے۔ یوں بھی انتخابات میں محض دو ہفتے ہی باقی رہ گئے ہیں اور ان دنوں میں دہشت گرد کتنے حملے کر لیں گے۔ آپ کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں کہ سب اچھا ہے کہ اگر ہمارے ماننے نا ماننے سے آپ نے کون سا مان لینا ہے۔

مگر ایک لمحے کو ٹھہرئیے اور اس سوال کا جواب دیجئے کہ کیا وجہ ہے کہ ہم سیاست میں ایوب کے دور سے باہر ہی نہیں نکل رہے جس میں پوڈو اور ایبڈو کے قوانین تھے، ان کے تحت ناپسندیدہ سیاستدانوں کو نااہل قرار دیاجاتا تھا اور یہ ظلم یہاں تک روا رکھا گیا کہ پاکستان کے بانی کی پیاری ہمشیرہ مادرملت محترمہ فاطمہ علی جناح تک پر غدار ی کا الزام لگا دیا گیا۔ ہم اس وقت بھی پے در پے اسی طرح نااہلیاں دیکھ رہے ہیں جیسی ہماری بزرگوں نے دیکھی ہیںیا ہم نے کتابوں میں پڑھی ہیں، ہاں، یاد آیا کہ پرویز مشرف کے دور میں بھی وطن کے عظیم ترین مفاد میں یہی سکرپٹ تھا ۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس میں بہت بڑی نااہلی اور ناکامی سیاستدانوں کی ہے جنہوں نے قوانین بناتے ہوئے ان کے غلط استعمال کی راہ روکنے بارے نہیں سوچا مگر چھری بنانے والوں نے اسے اگر پھل اور سبزیاں کاٹنے کے لئے بنایا ہو توبہت ساروں کو اسی چھری کو گلے کاٹنے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ جس طرح سیاست ایوب خان کے دور سے باہر نہیں نکل رہی بالکل اسی طرح ہمارے مذہبی سیاسی معاملات بھی جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں بری طرح پھنس کے رہ گئے ہیں۔ اس دور میں افغانستان کو فتح کرنے کے لئے تشکیل دئیے گئے طالبان آج بھی ایک خطرے کی طرح موجود ہیں۔ اس خطرے کو پیپلزپارٹی کے دور میں سوات آپریشن اور مسلم لیگ ن کے دور میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی گئی اور اس میں ہم اس حد تک کامیاب رہے کہ انتخابی مہم سے دہشت گردی تقریبا ختم ہو چکی تھی مگر ظاہریہ ہو رہا ہے کہ دہشت گردی کا درخت موجود بھی ہے اور اپنا کڑوا اور کسیلا پھل بھی دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

میں یہ بھی مان لیتاکہ محض آپریشن ضرب عضب ہی نہیں بلکہ دیوبندی مکتبہ فکر کے محب وطن اور صاحب شعور علمائے کرام کی وجہ سے ہم دہشت گردی کے عفریت کو بہت حد تک کچلنے میں کامیاب ہوئے اور یہ کہ انتخابات تک باقی رہ جانے والے بارہ ، چودہ دن بھی ڈرتے ڈراتے اورروتے دھوتے گزر جائیں گے مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے ایک نیا پودا لگا لیا ہے جس کی شاخیں اتنی پھیل گئی ہیں کہ عام انتخابات میں اس کے امیدواروں کی تعداد بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیان ہو رہی ہے۔

اس امر سے انکا رنہیں کہ پاکستان بنانے کے لئے مذہب کی بنیاد پر نعرہ لگا تھا مگر قائداعظم محمد علی جناح نے اس مذہب کی بنیاد پر باہمی منافرت پھیلنے کے خطرے کو پاکستان بننے کے ساتھ ہی بھانپ لیا تھا ۔ انتہا پسندی کا کاروبار کرنے والے قیام پاکستان کے فورا بعدقائداعظم محمد علی جناح کے جس خطاب کی نفی کرتے ہیں اس خطاب کی روح، بنیاد اور مقاصد سب اس خطرے کی روک تھام تھے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے مستقبل پر نظر رکھنے والے سیاستدان ، بیوروکریٹس اور مسلح افواج اس خطرے سے نمٹ سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے نمٹنے کی فراست ، ہمت اور ارادہ ہم میں موجود ہو۔ کیا یہ ایک سانحہ نہیں کہ ایک مذہبی گروہ کی صرف اس وجہ سے سرپرستی ہو رہی ہے کہ وہ ایک اندازے کے مطابق مخالفین کے ووٹ کاٹ سکتا ہے جبکہ اس فائدے سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ایسے گروہ کسی ایک کے ووٹ کاٹیں یا نہ کاٹیں ، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ تمام پاکستانیوں کی گردنیں ضرور کاٹتے ہیں۔ سانحہ یہی ہے کہ ہم ساٹھ اور اسی کی دہائی میں پھنسے ہوئے ہیں، ان دہائیوں سے باہر نکلنے کی بجائے ہم اپنے آپ کو ان میں مزید الجھائے جا رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم