دوٹوک فیصلے کی گھڑی آن پہنچی!

دوٹوک فیصلے کی گھڑی آن پہنچی!

وطن عزیز پاکستان تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے، تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ فروغِ اسلام کے سلسلہ میں مشائخ عظام و علمائے کرام نے تاریخ کے ہر دور میں جو درخشاں کردار اد کیا ہے وہ تاریخ اسلام کے کئی سنہری ابواب پر مشتمل ہے۔ یہ مشائخ عظام کی تعلیمات عالیہ کا ہی ثمر ہے کہ پاکستان کی بنیاد اسلام کے نظریہ پر رکھی گئی۔ آج ملکی حالات پریشان کن، مذہب کی زبوں حالی انتہائی افسوسناک، لادینیت اور فرقہ واریت کے مہلک جراثیم جو ہماری نوجوان نسل کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہے ہیں، ان کا تریاق صرف اور صرف مشائخ عظام اور علمائے کرام کے اتحاد میں ہی مضمر ہے۔ وطن عزیز کی بگڑتی ہوئی دینی، مذہبی، مسلکی، روحانی، اقتصادی، اخلاقی اور سیاسی صورتحال اب اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں قومی بقاء اور ملکی وجود خطرے میں ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہماری تمام قیادت باہم دست و گریباں اور اہل اللہ اور وارثانِ اولیاء کے تقدس کو پامال کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ ایسے وقت میں کہ جب ختم نبوت پر غداری کی مرتکب سابقہ حکومت مسلم لیگ (ن) کا رویہ انتہائی مایوس ، افسوسناک، غداری، مودی نواز اور مرزائی نوازی پر مبنی ہے‘ حکمرانوں کے بیانات اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین و قانون سے متصادم، بالخصوص غدارِ ختم نبوت اور غدارِ ملک و قوم نوازشریف نے پاکستانی قوم جو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط قوم تھی، اس میں دراڑیں ڈال کر اپنے مفادات کو تقویت دی، اب 2018ء میں ہونیوالے عام انتخابات سے وطن عزیز کا مستقبل وابستہ ہے، اگر اس قوم نے ایسے نازک ترین دور میں بھی اپنے ووٹ کا صحیح استعمال نہ کیا تو استحصال کی ذمہ دار وہ خود ہو گی۔ پاکستان کو ہر ایک نے لوٹا، بالخصوص قبضہ مافیا اور اشرافیہ نے ملک دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر صرف اپنی تجوریاں بھریں، عوام کو پچھلے 70سالوں میں کچھ نہ دیا، امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتے چلے گئے۔ 2018ء کے یہ عام انتخابات میں پاکستان کے سب سے بڑے طبقے اہلسنّت کیلئے ایک سنہری موقع تھا کہ وہ اتحاد و اتفاق قائم کر کے نظام مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نفاذ کیلئے میدانِ عمل میں آتے تو نہ صرف بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوتے بلکہ اہلسنّت کے نمائندوں کی ایک کثیر تعداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے فلور پر پہنچ کر پاکستان میں اسلام کے نفاذ کیلئے آواز بلند کر سکتی تھی۔

 

میں بحیثیت سجادہ نشین و جانشین حضرت امیر ملت پچھلے تین سال سے کوشاں تھا، مشائخ عظام و علمائے کرام کے کنونشنز منعقد کروائے‘ کانفرنسز کروائیں جن میں مشائخ عظام و علمائے کرام سے میں یہ گزارش کرتا رہا کہ ہمارے اسلاف و اکابرین کا کردار بڑا واضح اور مسلمہ ہے لہٰذا ہمارا فرض بنتا ہے کہ اپنے اسلاف کے کردار کی حفاظت اور پاکستان کے استحکام و سالمیت، اتحاد اُمت، دین حق کی سربلندی، معاشرے میں ہر سطح پر موجود سماجی، سیاسی، معاشی، معاشرتی، دینی، روحانی اور مذہبی خرایبوں کی اصلاحات اور ان کے مکمل خاتمہ کیلئے علمائے کرام اور مشائخ عظام کا اکٹھے ہو کر میدانِ عمل میں آنا نہایت ضروری تھا اور ہے۔ میں اس تحریر کے توسط سے ان تمام طبقات سے مخاطب ہوں جو وطن عزیز پاکستان میں رہنے والے اور توحید کا پرچار کرنے والے، غلام رسول میں موت بھی قبول ہے کا نعرہ لگانے والے، حسینیت زندہ باد، یزیدیت مردہ باد کا علم بلند کرنے والے اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرنے والے‘ باہمی مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کا پرچار کرنے والے‘ قلم و قرطاس کی حرمت کے علمبردار، ٹی وی چینلز پر غریبوں‘ مسکینوں‘ بیواؤں کی عزت و افلاس کے جذباتی مناظر دکھا کر قوم سے بھاری چندے وصول کرنے والی خیراتی چیرٹیز کے انسانیت نواز، قوم کو نشانِ منزال دکھانے والے ادیب، شاعر، دانشور، صحافی، اپنی علمی اور قلمی صلاحیتوں کو سرمایہ داروں‘ جاگیرداروں‘ وڈیروں اور حکمرانوں کے پاس گروی رکھنے والے، پاکستان سے یورپ آ کر تبلیغ اسلام کا پرچم اٹھانے والے خطیب اور واعظ، امن عالم کے پرچم دار صوفی حضرات کی خدمت میں میری عاجزانہ گزارش ہے کہ اب دوٹوک فیصلے کا وقت آ گیا ہے۔ پاکستان نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے، اب وطن عزیز کا قرض اُتارنے کی گھڑی ہے، سابقہ کوتاہیوں کے ازالے کا سنہری موقع ملا ہے۔ پچھلے 70برسوں کے دوران ہم نے اور آپ نے جس فرسودہ‘ عوام دشمن اور استحصالی نظام کے تحت جن کرپٹ ترین عناصر کو پودوں سے تناور درخت بنایا ہے، آج وہ سارے مکروہ چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں۔

 

آج بہترین موقع ہے کہ ہم کسی کا آلہ کار بننے کی بجائے ان نعروں پر عمل کریں جو ہم سب بچپن سے لگا بھی رہے ہیں، سن بھی رہے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں۔ ان نعروں اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو پیٹ پوجا، ذاتی مفادات، ریاکاری اور سستی شہرت کے حصول کی بجائے عملی جامہ پہنا کر من حیث القوم حقیقی معنوں میں تکمیل پاکستان کی غیرمتزلزل اور مضبوط بنیاد رکھنے کیلئے تمام تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے ہر حلقے سے ہمارے نعروں‘ ہمارے نظریات پر عملی پہرہ دینے والے پڑھے لکھے‘ ایماندار‘ صالح اور باصلاحیت امیدواروں کو منتخب کیا جائے، چاہے وہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہوں یا ان کا کسی بھی پارٹی سے تعلق ہو، فیصلہ اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔

وہ کرپٹ عناصر جن کی وجہ سے آج پاکستان مسائلستان بن چکا ہے، اسے الیکشن 2018ء میں عبرت کا نشان بنانے کیلئے عوام آگے آئے اور ان سدابہار حکمران خاندانوں کو خیر کی دُعا دیکر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رخصت کر دیا جائے۔ عوام اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھیں، اپنے ووٹ کو عوام کی عدالت کا چیف جسٹس جان کر، اپنے عبادت پر مبنی نعروں کی روشنی میں پاکستان کی تقدیر بدل دیں۔ ووٹ کی طاقت سے وطن عزیز پاکستان کو صحیح معنوں میں عظیم تر بنا دیں، فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔

اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو!

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...