شانگلہ ، سیاسی سرگرمیاں عروج پر ، پی ٹی آئی اور اے این پی نے قوت کا مظاہرہ کیا

شانگلہ ، سیاسی سرگرمیاں عروج پر ، پی ٹی آئی اور اے این پی نے قوت کا مظاہرہ کیا

ا لپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر )شا نگلہ میں سیاسی گہما گہمی عروج پر-تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے قوت کا مظاہرہ کردیا جبکہ مسلم لیگ ہفتہ کو الپوری گراؤنڈ میں جلسہ کررہاہے جس کیلئے انتظامات اخیری مراحل میں داخل۔تحریک انصاف نے شانگلہ کے پہلے صوبائی حلقے پی کے23میں جلسہ کیا جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے پی کے24میں اپنا قوت کا مظاہرہ کیا ۔شانگلہ میں گزشتہ ہفتے سے سیاسی اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا،پیپلز پارٹی نے قومی وطن پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا تو اسی حلقے میں غوربند کمیٹی کے آذادامیدوار نورمحمدخان غوربند قومی اتحادکے نامزدامیدوارشیخ القران مولانا سربازخان ربانی کے حق میں دستبردار ہوگئی،متحدہ مجلس عمل میں اختلافات ختم ہونے کے بعد جماعت اسلامی کے امیدوار واقف شاہ اور قاسم شاہ دست بردار ہوئے ،این اے 10میں مسلم لیگ امیرمقام اچانک دست بردار ہوکر اس کی جگہ ڈاکٹر عباد کو ٹکٹ دیا گیا اور وہ یہاں سے امیداوار ائے۔پیپلز پارٹی کے این اے امیدوار انجینئرحمیداقبال بھی منظر عام سے غائب ،قومی نشست میں پیپلز پارٹی نے خالی چھوڑدیا ہے جس پر اتحادی کا امکان ہے۔شانگلہ کے قومی نشست این اے 10 پرمسلم لیگ کے ڈاکٹر عباداللہ۔تحریک انصاف کے وقاراحمدخان۔عوامی نیشنل پارٹی کے سدیدالرحمان۔متحدہ مجلس عمل کے امیرسلطان ۔عوامی ورکر پارٹی کے بخت نصیب خان۔آزادامیدوار پرویزاحمدایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جس میں واضح طور پر مسلم لیگ کے ڈاکٹر عباداللہ۔تحریک انصاف کے وقاراحمدخان۔عوامی نیشنل پارٹی کے سدیدالرحمان کا کانٹا دار مقابلہ متوقع ہے۔ شانگلہ کے پہلے صوبائی نشست پی کے 23میں تحریک انصاف کے شوکت یوسف زئی۔ متحدہ مجلس عمل کے محمدیارخان۔ عوامی نیشنل پارٹی کے متوکل خان۔پیپلز پارٹی کے افسرالملک۔مسلم لیگ کے محمدرشاد۔عوامی ورکرپارٹی کے عمرخان۔آزاد امیدواران میں مولانا سربازخان جمال الدین الدین،رشیداحمد ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جس میں واضح طور پر تحریک انصاف کے شوکت یوسف زئی۔ متحدہ مجلس عمل کے محمدیارخان۔ عوامی نیشنل پارٹی کے متوکل خان۔ مسلم لیگ کے محمدرشاد۔ پیپلز پارٹی کے افسرالملک کا کانٹا دار مقابلہ متوقع ہے۔ شانگلہ کے دوسرے صوبائی نشست پی کے 24میں مسلم لیگ کے فضل اللہ۔تحریک انصاف کے عبدالمولیٰ۔متحدہ مجلس عمل کے شیرعالم خان۔ قومی وطن پارٹی کے سجاد احمدخان۔عوامی نیشنل پارٹی کے فیصل زیب ۔عوامی ورکر پارٹی کے نصراللہ خان ۔آزاد امیدواران میں اخترعلی چتان۔ احمدسعید۔ محمدعلی خان ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جس میں واضح طور پر مسلم لیگ کے فضل اللہ۔تحریک انصاف کے عبدالمولیٰ۔متحدہ مجلس عمل کے شیرعالم خان۔ قومی وطن پارٹی کے سجاد احمدخان کا کانٹا دار مقابلہ متوقع ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی منشور پیش کرنے کے بعد پہلا جلسہ تھا جس کو مبصرین شانگلہ کا سیاسی کامیابی سمجھتے ہیں جبکہ مخالفین جلسے کو ناکام بتا رہے ہیں۔ شانگلہ کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ تین دہائیوں سے مسلسل کامیاب ہونے والے امیدواروں نے شانگلہ کیلئے عملی طور پر کوئی کردار ادا نہیں کیا جس کی وجہ سے ضلع شانگلہ صوبہ خیبر پختونخوا کے پچیس اضلاع میں چوبیسویں نمبر پہ ہے ، اس بار عوام کس کو اپنے ووٹ کے ذریعے ایوان اقتدار میں پہنچائیں گے ؟ کیا ان لوگوں کو جنہوں نے شانگلہ کو ہمیشہ نظر انداز کیا اور یا پھر نئی قیادت کو جو اپنے عزم ، تخلیق اور صلاحیتوں سے اس پسماندہ ضلع کو ایک مقام دلا سکیں گے، 25جولائی کے انتخابات شانگلہ کے عوام کی رائے کیا ہوگی ؟ یہ ایک سوال ہے یا المیہ؟ کیا شانگلہ کی حقیقی ترقی اور خوشحالی کی طرف ایک مثبت قدم اٹھانے کیلئے عوام اپنے لئے مخلص اور ایماندار قیادت ڈھونڈ لیں گے یا پھر سٹیرو ٹائپ انتخابات میں وہی شکل مہرے پھر سے نمودار ہونگے ؟۔ٍسیاسی فضاؤں میں گرمی جمہوری روایات کی پختگی کے جانب قدم ہے ، اگر ملک میں جمہوری عمل اسی طرح مستحکم رہتا ہے تو سیاسی شعور میں پختگی ائیگی اور سیاسی پارٹیوں کی طرح عوامی سوچ میں بھی پختگی پیدا ہوگی ، یوں ملک کی طرح ضلع شانگلہ میں سیاسی میدان میں ترقی کی جانب رواں ہوگا جو اگے جاکر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے گا۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر