احتساب بلا تفریق اورپٹواری نہیں’’اوپر‘‘سے شروع ہو گا:چیئرمین نیب

احتساب بلا تفریق اورپٹواری نہیں’’اوپر‘‘سے شروع ہو گا:چیئرمین نیب

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی،آن لائن)نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ا اقتدار میں رہنے والے بعض لوگوں کو پہلی دفعہ پوچھ گچھ کا سامنا ہے، ہمارے ہاں بہت سے ارباب اختیار ایسے تھے جو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ ان سے قومی خزانے میں خورد برد بارے پوچھا جائیگا۔کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ اب احتساب پٹواری سے نہیں اوپر سے شروع ہوگا، نیب جو کچھ کررہا ہے وہ کسی انتقامی کاروائی کا حصہ نہیں اور نیب کو الیکشن میں دخل اندازی دینے کی بھی کوئی ضروت نہیں، یہ جمہور پر ہے کہ وہ کسے برسراقتدار لاتے ہیں، اس کا نیب سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے کچھ کیا ہے، چاہے وہ سیاستدان ہو یا کوئی بھی ہو، اس سے پوچھا جائے گا، اسے سیاست نہ کہا جائے، نیب کی سرگرمیاں جہاد اور عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔چیئرمین نیب نے کہاکہ اقتدار میں رہنے والے بعض لوگوں کو پہلی دفعہ پوچھ گچھ کا سامنا ہے، ہمارے ہاں بہت سے ارباب اختیار ایسے تھے جو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ ان سے قومی خزانے میں خورد برد بارے پوچھا جائیگا اور جب پوچھا گیا تو کسی نے کہا وہ وزیراعلیٰ تھے اور کسی نے کہا وہ وزیر خزانہ تھے، انہیں بڑے آرام سے سمجھایا گیا کہ اب مغلیہ دور گزر چکا ہے، اب ان کا فرمان نہیں چل سکتا، اب آپ کا ہر حکم لوگوں کی بہتری کیلئے ہونا چاہیے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ آخر کب تک ہم جانوروں کی طرح زندگی گزاریں گے،کرپشن دیمک نہیں کینسرہے۔انہوں نے کہاکہ نیب کسی قسم کی سیاست میں ملوث تھا اور نہ ہوگا، ان لوگوں کی طرف سے من گھڑت الزامات لگائے گئے جنہیں یہ پسند نہیں کہ نیب اتنا با اختیار بھی ہوسکتا ہے اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ سکتا ہے، ملک میں ان لوگوں کیلئے اب کوئی جگہ نہیں جنہوں نے 70سال میں ملک کیلئے کچھ نہیں کیا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی وجہ سے ملک کا نظام رک گیا، یہ الزام سجھ نہیں آتا، آج تک ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس کے اثرات ملکی معیشت پر ہوں، کیا نیب کو علم نہیں کہ معیشت عالم نزاع میں ہے۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ بیرون ملک موجود کروڑوں اربوں ڈالر صاحب اختیار اور کچھ اور طبقات کے ہیں، انہیں جواب دینا ہوگا کہ پاکستان کیلئے جو پیسہ تھا وہ باہر کیسے گیا، اس پیسے کی واپسی میں تاخیر ہے کیونکہ طریقہ کار کچھ پیچیدہ ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ کرپشن میں سارے صوبے برابر کے شریک ہیں، کوئی کسی سے پیچھے نہیں، وسائل بے دردی سے لوٹے گئے، نیب کی کوشش ہے کہ لوٹے وسائل اور رقومات کو واپس لایا جائے تاکہ عوام پر خرچ کی جاسکے۔انہوں نے سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے، یہ وہ دولت ہے جو چوری نہیں کی گئی بلکہ بلوچستان کے وسائل اور خزانے پر ڈاکہ ڈالا گیا اسے نظر نہیں کیا جاسکتا۔چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ احتساب ہوگا، بلا تفریق ہوگا ورنہ نہیں ہوگا،پانچ لاکھ کی جگہ 5کروڑ خرچ ہوں گے تو نیب سوال پوچھے گا۔ انہوں نے کہا ایک وزیراعلیٰ سے انکوائری کی جارہی ہے اور مزید دو وزرائے اعلیٰ سے تحقیقات کی جائیں گی لہٰذا یہ تاثر نہ دیا جائے کہ نیب انتقامی کارروائی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں محتاط طریقے سے اپنا کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا تعلیمی اداروں کا حال آپ کے سامنے ہے لہٰذاہم کب تک جانوروں کی طرح زندگی گزاریں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئی کسی بھی عہدے پر رہا ہو احتساب کریں گے کیونکہ

مزید : کراچی صفحہ اول