’’کس کی نظر گی کے یہ گھر ماتمی ہوا‘‘بلور خاندان ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کے نشانے پر

’’کس کی نظر گی کے یہ گھر ماتمی ہوا‘‘بلور خاندان ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کے ...

پشاور) محمد شہباز چیمہ ( پشاور شہرکے امن کو ایک دفعہ پھر کسی کی نظر لگ گئی اور شہر ایک دفعہ پھر لہو لہو ہو گیا اس دفعہ پشاور میں جو دھماکہ ہوا اس میں بلور خاندان کے ہارون بلور جو کہ بشیر بلور کے صاحبزادے تھے شہید ہو گئے گزشتہ رات کو ہارون بلور اپنی الیکشن کمپین کے سلسلے میں رات 11 بجے کے قریب اندرون شہر کارنر میٹنگ کے دوران جونہی تقریر کرنے کے لئے آ رہے تھے کہ خود کش حملہ آور نے گلے ملتے ہی دھماکہ کر دیا پشاور کے علاقہ یکہ توت میں اے این پی کے صوبائی رہنما اور pk-78 کے امیدوار ہارون بلور انتخابی جلسے کے دوران خود دھماکے میں شہید ہو گئے ہارون بلور کے علاوہ بیس افراد اور بھی اس دھماکے کی نذر ہو گئے اور 56 افراد زخمی ہیں جن میں 10 افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے ہارون بلور رشید گڑھی کے علاقہ میں جلسہ کرنے کے بعد یکہ توت کے علاقہ میں کارنر میٹنگ کے لئے آئے تھے کہ اس دوران دھماکہ ہو گیا اور دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنائی دی اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اس دھماکے میں ہارون بلور شہید ہو گئے بشیر بلور کے صاحبزادے ہارون بلور نے بھی اپنے والد کی طرح جام شہادت نوش کر لیا دھماکے کے فورا بعد ہارون بلور کو مقامی ہسپتال میں لے جایا گیا اور ہسپتال میں ہی ہارون بلور نے جام شہادت نوش کیا اس دوران ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ اے این پی کے کارکن بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچ گئے اور ہارون بلور کی شہادت کی خبر سنتے ہی کارکن مشتعل ہو گئے اور ہسپتال میں بھی تورڑ پھوڑ کی اس کے علاوہ مخالفین کے دفاتر میں بھی جا کر توڑ پھوڑ کی اور نعرے بازی کی ،اس جلسے میں ہارون بلور کے چچا غلام بلور نے بھی شرکت کرنا تھی جو کہ NA-31 سے نیشنل اسمبلی کے امیدوار ہیں لیکن غلام بلور بھی شہر کے اندر ہی ایک انتخابی جلسے میں مصروف تھے جس کی وجہ سے وہ لیٹ ہو گئے اس سے قبل 2013 کے الیکشن میں ہارون بلور کے والد بشیر بلور کو بھی خود کش دھماکے میں شہید کر دیا گیا تھا وہ بھی اپنے انتخابی مہم سے واپس آ رہے تھے کہ دسمبر 2012 ء کو خود کش دھماکے میں شہید ہو گئے ،بلور خاندان پے درپے سانحات سے دو چا ر ہوتا رہا اس سے پہلے 1997 ء میں شبیر بلور جو کہ غلام احمد بلور کے اکلوتے بیٹے تھے الیکشن کے دوران وہ بھی مخالفین کی گولیوں کا نشانہ بن گئے تھے اس طرح دسمبر 2012 ء میں بلور خاندان پر ایک اور قیامت ٹوٹی اور بشیر بلور شہید ہو گئے اور اس کے دو سال بعد بشیر بلور کے صاحبزادے اور ہارون بلور کے بھائی عثمان بلور دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے اور اب اس کے ساڑھے تین سال بعد ہارون بلور شہید ہو گئے ہیں ،ہارون بلور بھی اپنے والد کی طرح بہادر تھے اور موت سے نہیں ڈرتے تھے وہ ہمیشہ اپنے قریبی دوستوں کو یہ کہتے تھے کہ موت تو ایک دن آ ہی جانی ہے اس سے ڈر کر بھی کیا کروں گا ہارون بلور کے قریبی دوست ان کو ہمیشہ کہتے تھے کہ سیاست میں خطرات بہت زیادہ ہیں اس کو خیر آباد کہہ دو وہ کسی کی بھی نہیں سنتے تھے ،دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کی نمازے جنازہ وقفے وقفے کے بعد ادا کی جاتی رہی ۔

مزید : کراچی صفحہ اول