دو کوٹہ: متعدد برادریوں کی طرف سے حمایت کا اعلان‘ گھلو‘ ارائیں اتحاد کی پوزیشن مضبوط

دو کوٹہ: متعدد برادریوں کی طرف سے حمایت کا اعلان‘ گھلو‘ ارائیں اتحاد کی ...

دوکوٹہ ( نمائندہ پاکستان )گھلو آرائیں اتحاد کے حلقہ این اے 165سے(بقیہ نمبر31صفحہ12پر )

امیدوار میاں ماجد نواز آرائیں ،حلقہ پی پی 235سے چوہدری غضنفر عباس گھلو اور حلقہ پی پی 236سے میاں خالق نواز آرائیں کی پوزیشن روز بروز مضبوط ہو رہی ہے اور حلقے کی درجنوں برادریوں نے ان کے پورے پینل کی حمایت کا علان بھی کر دیا ہے اڈا بہالواہ ،موضع شتاب گڑھ ،موضع عزیز قہم اور موضع علی واہ میں میاں ماجد نواز آرائیں اور چوہدری غضنفر عباس گھلو نے کارنر میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیسے کے بل بوتے پر الیکشن کمپین چلا کر لوگوں کو متنفر کرنے والے یاد رکھیں کہ ہمارا اصل سرمایہ حلقے کی عوام ہیں جو کہ ہمارے ساتھ ہیں اور ہمارا یہ سرمایہ کبھی ختم نہیں ہو گا انہوں نے کہا کہ سابقہ ادوار میں بر سر اقتدار رہنے والوں نے عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے حکومتی مراعات کے مزے لیے حلقے کی تعمیر و ترقی کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جس وجہ سے آج پورا حلقہ مسائل کی آماجگاہ بنا ہو اہے سڑکوں کی حالت زار اور ہر قصبے میں سوریج کے مسائل ان کی کار گردگی کا پول کھول رہے ہیں انہوں نے کہا کہ گھلو آرائیں اتحاد کے دونوں خاندانوں کے بزرگوں نے پہلے بھی عوام کی بے لوث خدمت کی اور علاقائی مسائل حل کروانے میں اپنا کردار ادا کیا انشا اللہ ہم بھی کامیاب ہو کر اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پورے حلقے میں تمام بنیادی سہولتیں عوام کی دہلیز پر فراہم کرنے کیلئے بھر پور اقدامات اٹھائیں گے انہوں نے کہا کہ پانچ پانچ مرتبہ اس حلقے سے منتخب ہونے والے اب پھر جھوٹے وعدے کر کے عوام کو اپنے اعتماد میں لینا چاہ رہے ہیں لیکن عوام اب ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے انہوں نے کہا کہ وڈیرہ شاہی اور موروثی سیاست نے عوام کو محرومیوں کے سوا کچھ نہیں دیا انشا اللہ ہمارا گروپ ان وڈیروں کو شکست دے گا اس وقت حلقے کی تمام یونین کونسلوں سے برادریاں ہمارے گروپ کی حمایت کر رہی ہیں جس سے ہمارے سیاسی مخالفین اور ان کے سپورٹر بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں محسن جعفری ،عبد الرؤف واہلہ ،چوہدری راشد آرائیں ،محمد ریاض مغل ،محمد عارف جٹ ،محمد الیاس ،محمد اکبر ،اصغر آرائیں ،محمد شفیع ،سلیم جٹ ،زوار حسین زرگر ،مختار حسین ،محمد اکرم جٹ ،منشاء آرائیں سمیت کثیر تعداد میں لوگ اس موقع پر موجود تھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر