ڈیم فنڈریزنگ ،سب سے آسان طریقہ 

ڈیم فنڈریزنگ ،سب سے آسان طریقہ 
ڈیم فنڈریزنگ ،سب سے آسان طریقہ 

  

شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے پانی کے بحران جیسے مسئلہ پر نوٹس لیا ہے اور اپنے طور پر ایک فنڈ بھی قائم کر دیا ہے جس میں عوام اور مختلف اداروں کی جانب سے فنڈ جمع کروانے کا سلسلہ جاری ہے اور تا دم تحریر اس میں چار کروڑ روپے جمع ہو چکے ہیں۔

دیامر بھاشا ڈیم چلاس اور گلگت کے درمیان واقع ہے اور یہ پانی اسٹور کرنے سے زیادہ بجلی پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اگر اس مقام پر پانی ذخیرہ ہو بھی جائے پہاڑی سلسلہ ہونے کے باعث زراعت کے لئیے اتنا مفید نہیں ہو سکتا ہے۔نو سال قبل دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت اندازہ کے طور پر نو کھرب لگائی گئی تھی جس سے 4500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو سکتی تھی۔اب سوال یہ بنتا ہے کہ اگر فنڈز دستیاب ہو بھی جائیں تو بھی مدت تکمیل آٹھ سال سے کم نہیں ہو سکتی اور لاگت بھی دگنی ہو چکی ہوگی۔

جہاں سیاستدانوں کی ترجیح 93 ارب کی اورنج ٹرین ہو اور اسے پایہ تکمیل پہنچانے کے لئیے پورے جنوبی پنجاب کے فنڈز لگا دئیے جائیں اور حاصل کچھ نہ ہو بلکہ ایک بارش ہی پورے لاہور کا نقشہ بدل دے۔ وہاں کسی بڑے ڈیم کی تعمیر ایک ایسا خیالی منصوبہ لگتی ہے جسے کوئی خلائی مخلوق ہی تعمیر کر سکتی ہے۔

اگر ملک پاکستان کی بیس کروڑ آبادی کا ہر فرد بیس ہزار روپیہ عطیہ کرے تو کہیں جا کر آٹھ کھرب روپے بنتے ہیں اور یہ بات بھی سمجھنے کے لئیے ہے عملی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے۔

قوموں کی زندگی میں ایسے دشوار مرحلے آیا کرتے ہیں اور عوامی تعاون کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے محترم جناب چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے جو انقلابی قدم اٹھایا ہے اسکی مثال نہیں ملتی یقیناً انکی خواہش ہوگی کہ فنڈز جلد سے جلد جمع ہوں۔ اگر حکومتی سطح پر مناسب اقدامات کیئے جائیں تو زیادہ فنڈز جلدی حاصل ہو سکتے ہیں۔

حال ہی میں پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں جو چھ فیصد کمی کی گئی ہے اسے اسی طرح ڈیم فنڈ ٹیکس کے نام پر لاگو کر دیا جائے اس عمل سے ایک ماہ میں دس ارب کی خطیر رقم حاصل ہوسکتی ہے اسی طرح بجلی اور گیس کے بلز میں مخصوص رقم کا ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔ موبائل کارڈ پر جو ٹیکس کم کر دیا گیا ہے اسے بھی تین ماہ کے لیئے دوبارہ بحال کر دیا جائے اور حاصل کردہ رقم ڈیم فنڈ میں جمع کر لی جائے۔گویاصرف چندے کی مد میں حاصل ہونے والی رقم اس بڑے کام کے لئیے بہت ناکافی ہوگی۔اسی طرح ہر امپورٹ۔ ایکسپورٹ کنسائمنٹ پر ایک پرسنٹ ڈیوٹی لگا دی جائے۔

پانی زندگی ہے اور اسکے بغیر معاملات زندگی بہت مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں ۔سب سے پہلے بڑے ڈیمز کی اہمیت عوام الناس میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جسمیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں میڈیا کو مفت اشتہارات دینے چاہئیں۔صرف چندہ جمع کر کے ٹارگٹ تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ قرض اتارو ملک سنوارو اسکیم کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ برابر راست اس تمام عمل کی مانیٹرنگ کر رہی ہے جس سے اسکی شفافیت یقینی ہوجائے گی۔ 

عوام تو یوں بھی بلواسطہ بلا واسطہ ٹیکس دینے کے عادی ہوگئے ہیں اور انہیں یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ انکا پیسہ کرپشن کی نذر ہورہا ہے یا ترقیاتی کاموں میں لگ رہا ہے۔ایک ایسا منصوبہ جو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا تو مستقبل میں جنگیں بھی لڑی جا سکتی ہیں۔اعلیٰ عدلیہ اور ریاست مل کر کرپٹ لوگوں سے وصول شدہ رقم کو بھی ملک کے وسیع تر مفاد میں ڈیم کی تعمیر کے لیئے استعمال کر سکتے ہیں۔ڈیمز کی تعمیر کا ڈول چیف جسٹس صاحب نے ڈال دیا ہے تو یہ نئی آنے والی حکومت کی بھرپور ذمّہ داری ہوگی کہ اسکے لئے حقیقی معنوں میں قانون سازی بھی کرے اور فنڈ بھی مختص کرے۔ قرضے لے کر قرضوں کا سود چکانے کی روش ختم کرنی ہوگی۔کیونکہ پانی پاکستان ہے ۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ