فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر474

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر474
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر474

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

علی سردار جعفری نومبر 1913ء میں بلرام پور میں پیدا ہوئے تھے ۔ اینگلو عربک کالج دہلی سے بی اے پاس کیا اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا جو کہ اس زمانے میں برصغیر کے ذہین مسلمانوں کی آماجگاہ تھی۔

زمانہ طالب علمی ہی میں وہ اشتراکی تحریک سے متاثر ہوگئے تھے۔ انجمن ترقی پسند مصنّفین کی تشکیل ہوئی تو وہ اس کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ ان کی پہلی تحریر 1927ء میں طبع ہوئی تھی۔ ان کی نثری تصنیف (جو افسانوں اور مضامین کا مجموعہ تھا) 1938ء میں شائع ہوئی تھی۔ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے لیکن اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان کے اشعار کا پہلا مجموعہ ’’پرواز‘‘ 1944ء میں شائع ہوا تھا۔ اس اثناء میں وہ ایک سال جیل میں رہے۔ جرم یہ تھا کہ انہوں نے جنگ کے خلاف نظمیں لکھی تھیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر473پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

علی سردار جعفری نے افسانے بھی لکھے۔ غزلیں اور نظمیں بھی تخلیق کیں۔ ان کی تصنیفات میں منزل (افسانوں کا مجموعہ) پرواز (نظموں کا مجموعہ) پیار (ڈراموں کا مجموعہ) نئی دنیا کو سلام (طویل نظم) خون کی لکیر (طویل نظم) امن کا ستارہ (طویل نظم) ایشیا جاگ اٹھا (طویل نظم) ترقی پسند ادب (نثری مضامین کا مجموعہ) ایک خواب اور (نظموں کا مجموعہ)۔ پتھر کی دیوار(نظمیں) لہو پکارا ہے (نظمیں) پیغمبران سخت (میر ۔ غالب اور اقبال کے بارے مین تجزیاتی مقابلے) اقبال شناسی (تنقید مضامین) اور دوسری کتابیں شائع ہیں۔

علی سردار جعفری نے ادبی جرائد کی ادارت بھی کی۔ ماہنامہ ’’نیا روپ ‘‘ ہفت روزہ ’’پرچم‘‘ سہ ماہی ’’گفتگو‘‘ ہفت روزہ ’’قومی جنگ‘‘ وغیرہ ان کی ادارت میں شائع ہوتے رہے اور یہ اپنے زمانے کے بہت معیاری جرائد تھے۔ علی سردار جعفری کی نظموں کے مختلف زبانوں میں تراجم کیے گئے۔ بھارتی حکومت نے انہیں اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’’پدم شری‘‘ اور ’’جن پت‘‘ سے نوازا تھا جبکہ پاکستان کی حکومت نے انہیں ’’تمغہ اقبال‘‘ دیا تھا۔

علی سردار جعفری ادبی افق پر اس وقت نمودار ہوئے تھے جب 1930ء میں ’’انگارے ‘‘ کے عنوان سے افسانوں کا ایک مجموعہ شائع ہوا تھا۔ یہ حقیقت پسندی اور ترقی پسند تحریروں کی سمت پہلا قدم تھا اور اسی سے بعد مین انجمن ترقی پسند مصنّفین نے جنم لیا۔ یہ مجموعہ اس وقت کے رائج سماجی نظام کے خلاف ایک اعلان بغاوت تھا

سجاد ظہیر کے ساتھ علی سردار جعفری انجمن ترقی پسند مصنّفین کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ یہ لوگ انگریزی حکومت کے باغی تھے۔ سردار جعفری نے مزدوروں اور محنت کشوں کے ساتھ شانہ بشانہ بھی کام کیا کیونکہ وہ محض شاعر اور ’’بابو‘‘ نہیں تھے۔ ایک عملی انسان تھے۔

علی سردار جعفری بنیادی طور پر نظم گو شاعر تھے۔ انہوں نے نظم کی ہیئت اور معنویت کے سلسلے میں کئی تجربے بھی کیے تھے۔ مثلاً سرخ سویرا۔ صبح انقلاب ۔ خون بیتی وغیرہ لیکن ان کا اصل مقام نظم گو شاعر کی حیثیت سے متعین ہوچکا ہے۔ انہوں نے کچھ غزلیں بھی لکھی ہیں مگر اس مصنف میں زیادہ نمایاں نہ ہوئے۔ دراصل ان کا رجحان غزل کی طرف تھا بھی نہیں ۔ ان کا شمار کلاسیکل ترقی پسند شعراء میں کیا جاتا ہے۔

جب ترقی پسند مصنّفین نے فلم کو ذریعہ اظہار بنانے کا فیصلہ کیا تو کئی نامور شعراء اور ادیب فلمی صنعت سے وابستہ ہوگئے۔ ان میں علی سردار جعفری بھی تھے کئی ادیبوں اور شاعروں نے فلم سازی ‘ ہدایت کاری اور نغمہ نگاری کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ کہانیاں اور مکالمے بھی لکھے لیکن علی سردار جعفری کو فلموں نے اپنی طرف راغب نہیں کیا۔ انہوں نے چند فلموں کے لیے نغمات تحریر کیے اور پھر اس شعبے سے قطع تعلق کرلیا۔

علی سردار جعفری صحیح معنوں میں انسان دوست اور سیکولر شخصیت تھے۔ جب بھارت نے پوکھران مین ایٹمی تجربہ کی اتو علی سردار جعفری نے اس کی شدید مذمت کی اور اسے برصغیر کو تصادم اور بربادی کی جانب لے جانے کا اقدام قرار دیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے خلاف بھی انہوں نے آواز بلند کی اور کئی نظمیں اور مضامین لکھے۔ متعصّب ہندو جماعتوں کی طرف سے انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں مگر وہ اپنی آواز بلند کرنے سے باز نہ آئے۔

علی سردار جعفری کو رفتہ رفتہ یہ احساس ہوگیا تھا کہ بھارت میں اردو کا مستقبل خطرے میں ہے۔ انہوں نے ادبی انجمنوں اور سرکاری اداروں پر بہت دباؤ ڈالا کہ اردو کی حفاظت کے لیے مناسب اقدام اٹھائے جائیں مگر افسوس کہ ان کی ششوں میں کامیاب نہ ہوسکے۔ وہ آخر عمر تک مستعد اور تندرست رہے لیکن اگست 2000ء میں دماغ کے کینسر نے انہیں گھیر لیا۔ اس بیماری سے وہ جانبرنہ ہوسکے۔ انہوں نے 87 سال کے قریب عمرپائی جن میں 70ستّر سال ادب اور ادبی تحریکوں کی نذر کردیے۔

دنیا سے رخصت ہوئے ہوئے وہ ایک مطمئن اور پر سکون انسان تھے کیونکہ انہوں نے ساری زندگی اپنے نظریات کے مطابق اور ان کے پرچار میں صرف کی تھی۔ دنیاوی آسائشوں اور ترغیبات سے انہیں کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ شاید یہی ان کی صحت اور خوشی کا راز تھا۔

جو لوگ بھارت کی فلموں سے بہت زیادہ متاثر ہیں وہ ہر پہلو سے بھارتی فلمی صنعت کی برتری اور پاکستانی فلمی صنعت کی کمتری ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کی فلمی صنعت بتدریج مائل بہ زوال ہی رہی اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کے بارے میں بار ہا اظہار خیال کیا جا چکا ہے اور اس کے اسباب بھی بیان کیے جا چکے ہیں لیکن بہر صورت بھارتی فلمی صنعت کی برتری ثابت کرنا تھی کس طرح مناسب نہیں ہے۔

پچھلے دنوں ایک صاحب نے اس بات پر بے حد افسوس کا اظہار کیا بھارت میں فلم سازوں ‘ ہدایت کاروں اور فنکاروں کے ایک نئی نسل میدان میں آچکی ہے جو اپنے والدین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس میدان میں داخل ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا بہت کم ہو ا ہے اور کوئی بھی ایسی مثال موجود نہیں ہے کہ کسی نامور فلمی شخصیت کی اولاد نے کامیابی حاصل کی ہو یا نام پیدا کیا ہو۔ اس میں کوئی مبالغہ بھی نہیں ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اول تو پاکستان میں فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں نے اپنی اولادوں کو فلمی صنعت سے روشناس کرانا ہی مناسب نہ سمجھا اور اگر ایسا ہوا بھی تو نئی پود کے یہ لوگ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

اس کے دو اساب ہیں ۔ایک معاشی اور دوسرا معاشرتی ۔ پاکستان میں صنعت سازی کبھی بھی فلم سازوں یا فنکاروں کے لیے دولت کمانے کا وسیلہ نہ بن سکی۔ اس کی وجہ محدود مارکیٹ اور بیرونی دنیا میں پاکستانی فلموں کا عدم تعارف ہے۔ جس کام سے ذہین اور تعلیم یافتہ افراد کو معقول آمدنی کا امکان ہی نہ ہو وہ اس کو کیوں اپنائیں گے جبکہ دوسرے شعبوں میں وہ اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر بہت زیادہ ترقی کر سکتے ہیں اور دولت بھی کما سکتے ہیں۔ دوسرا سبب معاشرتی ہے۔ پاکستان میں فلمی صنعت کو کبھی معاشرے میں قدرو احترام کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ سوسائٹی میں اس سے وابستہ افراد کو بلند مقام نہیں دیا گیا۔ خاندانی اور اخلاقی روایات کے تحت یہ ایک ناپسندیدہ پیشہ اور رسوا کن کام سمجھا گیا ہے۔ ان دونوں حقائق کی موجودگی میں پاکستان میں فلم والوں نے اپنی نئی نسل اور اولادوں کو اس شعبے سے دور ہی رکھا۔ سوائے معدودے چند مثالوں کے۔

ڈبلیو زیڈ احمد کے بیٹے فرید احمد نے ہدایت کاری کا پیشہ اختیا رکیا تو ان کے والد یا اہل خاندان نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ فرید احمد نے عندلیب‘ بندگی‘ جان پہچان اور انگارے جیسی فلمیں بنا کر اپنی شناخت پیدا کی۔ بعد میں وہ مختلف وجود کی بنا پر نقلِ وطن کر کے کینیڈا چلے گئے تھے۔ وہاں سے کینسر کے آخری اسٹیج میں مبتلا ہو کر لاہور آئے اور اللہ کو پیارے ہوگئے۔

پرانے لوگوں میں نذیر صاحب کے ایک بیٹے افضل نذیر نے ڈسٹری بیوشن کا بزنس کیا تھا۔ ایک دو فلموں میں اداکاری بھی کی مگر ناکام رہے۔ نذیر صاحب کے کسی اور بیٹے یا بیٹی نے اس شعبے کی طرف توجہ نہیں دی حالانکہ نذیر صاحب اور ان کی بیگم سورن لتا دونوں فلمی دنیا کے درخشاں نام تھے۔

(جاری ہے)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ