یہ تاشقند کا محلہ چلّن زار

یہ تاشقند کا محلہ چلّن زار
یہ تاشقند کا محلہ چلّن زار

یہ تاشقند کا محلہ چلن زار ہے ۔ کھلی سڑکیں ، دونوں اطراف سبز گھاس اور پھول ۔ پانچ منزلہ فلیٹوں کی قطاریں ، ہر چار بلاک کے درمیان بچوں کے لئے کھیل کے پارک ، ہر علاقے میں بہترین اسکول کی عمارتیں، اور ہاں صبح صبح لوگ دو دو چارچار کی خاندانی ٹولیوں میں پیدل خوش گپیاں کرتے ہوئے اپنے علاقے کے اسکول کی طرف جار رہے ہیں۔ یہ لیجئے اسکول کی عمارت آگئی ۔ عمارت کوغباروں اور قومی جھنڈوں سے سجا یا گیا ہے۔ اسکول کے باہر ایک بہت بڑے بورڈ پر تمام امیدواروں کی تصویروں اور انکے بائیو گرافی والے پوسٹر لگے ہوئے ہیں اس طرح انکی پارٹی کا منشور یا ان کا ذاتی منشور بھی لکھا ہوا ہے۔ ان تمام پوسٹرز کا بندوبست الیکشن کمیشن نے کیا ہے اور یہ ایک سائیز اور ایک تعداد میں چسپاں ہیں۔ گیٹ پر ایک یادو پولیس والے ہیں۔ وہ اسکو سلام کرتے ہیں ۔ اسکول کے باہر کوئی نعرہ بازی نہیں کوئی الیکٹیبلز اپنی بسوں ٹرکوں اور ٹرالیوں میں وو ٹروں کو لانے کا بندوبست نہیں کر رہے۔ لوگ خود آرہے ہیں ۔ اپنی کاروں پر ، موٹر سائیکلوں پر آپ آسکتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ پیدل ہی آرہے ہیں چونکہ پولنگ اسٹیشن محلے میں ہی ہے۔ 

لیجئے آپ ہال میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہاں چیف پولنگ آفیسر یا اسکا ڈپٹی آپ کو دروازے پر خوش آمدید کہتا ہے۔ ایک طرف لائن میں پندرہ بیس میز کرسیاں لگی ہوئی ہیں۔ ہر میز پر ایک پولنگ اسٹیشن کا کارندہ بیٹھا ہے، زیادہ تر عورتیں ہیں ۔ دراصل اسکول میں کام کرنے والی ٹیچرز ہیں۔ ہربلاک یا ہر گلی کے ووٹرز کی علیٰحدہ علیٰحدہ لسٹ ہے۔ آپ اپنی میز پر جاتے ہیں۔ اپنا ایڈریس بتاتے ہیں اور اپنا مقامی پاسپورٹ (NID) دکھاتے ہیں۔ لسٹ میں آپ کا نام موجود ہے۔ آپ نام کے آگے دستخط کرتے ہیں اور بیلٹ پیپرلے لیتے ہیں۔ ان کے سامنے پانچ سات کیبن بنے ہوتے ہیں پر دے لٹکے ہوتے ہیں۔ معذوروں کے لئے علیٰحدہ کیبن ہے۔ آ پ اپنے کیبن میں جاتے ہیں وہاں اپنے امیدوار کے نام کے سامنے دستخط کرتے ہیں اور باہر آکر سب کے سامنے شیشے کے بنے ہوئے بیلٹ باکس میں اپنا ووٹ ڈال دیتے ہیں۔ اور ہاں الگر ہال میں داخلے تک آپ کو اپنے فیصلے پر کوئی شک ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہال میں بھی ایک بورڈ پر تمام امیدواروں کی تصویروں ، بائیوگرافی اور منشور والے پوسٹرمہیا ہیں۔ آپ تمام پوسٹرز پر نظر ڈالیں۔ آرام سے وہاں تحریریں پڑھیں۔ تصویریں دیکھیں اور فیصلہ کر کے پھر ووٹ کا بیلٹ پیپر حاصل کریں۔ 

ہال میں کوئی بحت مباحثہ ، شور شرابا نہیں ۔ مسکراہٹیں اور قہقہے میں ، اچھا تو یہ لیجئے ایک خاتون آگئیں ۔ بے چاری نے ایک چھوٹا سا بچہ اٹھایا ہوا ہے کوئی بات نہیں ۔ ادھر ایک نزدیکی کمرے میں بچوں کا کمرہ بنا ہوا ہے ۔ تجربہ کار خواتین وہاں بچوں کو سنبھال لیتی ہیں ان کو کھلونے دے کر دل بہلاتی ہیں اتنے میں آپ جا کر ووٹ ڈال سکتی ہیں ۔ خاتون نے بھی ووٹ ڈالا دس منٹ لگے۔ اور واپس آکر بچے لے کر گھر چلی گئی ۔

ارے وہ دیکھئے ۔ ہمارے محلے کے ایک بزرگ علی شیر آکا آگئے۔ ذرا نرم دکھائی دیتے ہیں۔ پولنگ آفیسر سوال کرتا ہے۔ ’’علی شیرا کا کیا ہوا ؟

’’ بس کچھ پیٹ میں گڑ بڑ ہے اور کمر میں بھی درد ‘‘۔

’’ آئیے آئیے ‘‘پولنگ آفیسر انہیں لے کر ایک دوسرے کمرے میں لے جاتا ہے۔ وہاں تجربہ کار ڈاکٹر اور نرسیں موجود ہیں۔ دس پندرہ منٹ علی شیر کا ہشاش بشاش کمرے سے نکلتے ہیں۔ ووٹ ڈالتے ہیں اور گھر کی طرف چل پڑتے ہیں ۔ میزوں پر بیٹھی ہوئی پولنگ اسٹیشن کی کارکنوں سے آپ جب چاہیں پوچھ سکتے ہیں کتنے لوگوں نے ووٹ ڈالا؟ کتنے لوگ رہ گئے۔ وہ دو تین منٹ میں اپنی لسٹ دیکھ کر آپ کو تازہ بہترین صورتحال بتا دیں گی۔ اور وہاں ووٹ ڈالنے کے بعد ہاں سے نکلے میں تو ایک طرف ملے کا سماں ہے۔ اسکول کے صحن میں میوزک چل رہا ہے اور ووٹروں کو فری پلاؤ اور چائے دی جارہی ہے۔ نہیں نہیں ، یہ کسی امیدوار کی طرف سے ووٹ خرید نے کی سازش نہیں۔ یہ سارا بندوبست اور سہولتیں الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹروں اور امیدواروں کے لئے وقف ہیں۔ آپ کا صرف اتنا کام ہے کہ آپ اپنا نام بطور اُمیدوار الیکشن کمیشن کر دے دیں۔ اپنی تصویریں اپنا منشور پارٹی کا منشور اور اپنی بائیو گرافی الیکشن کمیشن کو دے دیں۔ باقی سارا انتظام الیکشن کمیشن کرے گا۔ تمام امیدواروں کو ٹی وی ، ریڈیو، اخبارات اور پوسٹرز میں ایک جیسا وقت اور جگہ ملے گی۔ ایک جیسے وسائل مہیا کیے جائیں گے۔ البتہ لوگوں کے گودی بیٹھ جانا یا محلے میں کارنر میٹنگیں کرنا آپ جتنا کر سکتے ہیں کرلیں لیکن یہ بند عمارتوں ، اسٹیڈیمز یا ہالوں میں ہونا چاہیے۔ ٹریفک بند کرنے اور بازاروں کو بند کرنے عوام کو تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 

اور ہاں آپ امیدوار ہیں اور بیرون ملک رہنے والا کوئی ازبیک اگر آپ کو چندہ دینا چاہتا ہے تو یہ نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی کوئی امریکی برطانوی ازبیک آپ کو چندہ دے سکتا ہے۔ اسے دراصل بیرونی طاقتوں کی ازبیک وطن کے معاملات میں مداخلت تصور کیا جائے گا۔ اگر کوئی ڈیمو کریسی کی مدد کرنا چاہتا ہے تو وہ الیکشن کمیشن کورقم بھیج دے جو سارے امیدواروں پر برابر تقسیم ہوجائے گی۔ اور ہاں بیرونی ممالک سے صحافی ، مبصر بھی الیکشن کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ ان کے دوروں کا بندوبست بھی الیکشن کمیشن کرتا ہے۔ تاہم وہ اپنے طور پر بھی جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔ ازبیکستان میں ہونے والی پارلیمنٹ کے یا صدارتی انتخابات میں ہم نے کئی پاکستانیوں کو بطور مبصر دیکھا۔ مثلاً اتحاد اخبار کے چیف ایڈیٹر طاہر فاروق ، ایکسپریس کے جاوید چودھری ، مشہور بزنسمین محمد امین غازیانی اور میجر طارق حیات وغیرہ۔ پاکستان کے سینٹ اور پارلیمنٹ کے کئی ممبران بھی ازبیک انتخابات میں بطور مبصر شرکت کر چکے ہیں۔ یہ سب کچھ ہے ۔ اچھا ہے۔ خاموشی سے ہوتا ہے اور سکون سے اقتدار منتقل ہوجاتاہے۔ کچھ بھی تو نہیں ہوتا ۔ الزامات جوابی الزامات ،اعلانات ، دھرنے اور تقریریں ، یوٹرن اور عدالتیں۔ جھگڑے اور قتل ، خون اور جمہوریت ، نجانے یہ سب کچھ کیوں نہیں ہوتا ۔ 

ہمارے لیڈر پانچ سال پارلیمنٹ سے تنخواہ لیتے ہیں اور پارلیمنٹ میں صرف اٹھارہ دن جاتے ہیں۔ آئندہ آنے والے انتخابات کے لئے قانون سازی کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں آتے ہیں ۔ دنیا بھر میں گھومتے رہتے ہیں اور ان کا مورال۔۔۔۔۔۔ جی مورال کی تو بات ہی نہ کریں۔ ان کی روزانہ کی باتیں دیکھ لیجئے۔ شاید ہم انہیں لیڈر کہہ ہی نہیں سکتے۔ دراصل کئی بیرونی ممالک میں پر سکون انتخابات ان کے عوام کی اعلیٰ تعلیمی حالت کا نتیجہ ہے۔ اور برصغیر پاک و ہند میں انتخابات کا غیر جمہوری عمل اور نتیجہ ہمارے عوام کی جہالت کا نتیجہ ہے۔ ہمارے عوام تو ان پڑھ ہیں۔ لیکن ہمارے لیڈر تو بددیانتی ، جہالت اور منافقت کی عظیم ترین بلندیوں پر براجمان ہیں۔ 

تو خیر آئیے خواتین و حضرات عمل کریں۔ سوچیں اور مزید سوچیں ۔ ہم کم از کم ان لیڈروں کو ووٹ بالکل نہ دیں جو بد زبان ہوں ، جو اپنے بیانات بدلتے ہوں۔ جو وعدے کر کے انہیں پورا کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ جو اقتدار کے لئے الیکشن کے نزدیک آتے ہی پارٹیاں بدلتے یا پارٹیاں چھوڑتے ہوں۔ یا جو اپنے آپ کو آزاد کہتے ہیں یہ آزاد ہیں اسکا مطلب ہے یہ نہ پارٹی کو جوابدہ ہیں، نہ عوام کو اور نہ ہی اپنے آپ کو ۔ ہمیں انہیں ووٹ نہیں دینا جو ان پڑھ ہیں ۔ صاف ظاہر ہے جو پڑھ ہی نہیں سکتے وہ قانون کیا بنائیں گے۔ ہمیں جاگیرداروں ، سرداروں ، سرمایہ داروں ، لٹیروں ، چوروں ، بیرونی یہودی و عیسائی لابیوں کے ایجنٹوں کو ووٹ نہیں دینا۔ ہمیں ان کو بھی ووٹ نہیں دینا جو دوسرے اداروں کو اپنے معاملات میں ملو ث ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ اب ظاہر ہے آپ پوچھیں گے کہ کس کو ووٹ دیں تو بھائی جسکو ان سب سے تھوڑا سا اچھا سمجھتے ہو اسے ہی ووٹ دے دو کہ جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لانہیں کرتے۔ جمہوریت زیادہ باد ۔ 

.

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...