منی لانڈرنگ تحقیقات پر اب تک کس سیاسی شخصیت کی پالیسی چل رہی تھی،چیف جسٹس نے حسین لوائی سے مکالمہ میں اہم انکشاف کردیا

منی لانڈرنگ تحقیقات پر اب تک کس سیاسی شخصیت کی پالیسی چل رہی تھی،چیف جسٹس نے ...
منی لانڈرنگ تحقیقات پر اب تک کس سیاسی شخصیت کی پالیسی چل رہی تھی،چیف جسٹس نے حسین لوائی سے مکالمہ میں اہم انکشاف کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان اورحسین لوائی کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔

حسین لوائی نے کہا کہ اس عمر میں مجھ پر الزام لگتا بدقسمتی ہے،میرا قصور صرف اکاﺅنٹ کھلنے کے وقت بینک کا صدر ہونا ہے،3 سال سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تحقیقات پر چودھری شجاعت کی مٹی پاﺅ پالیسی چل رہی تھی،عدالت کے نوٹس لینے پر تحقیقات دوبارہ شروع ہوئی ہیں۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ضلعی عدالت کے معاملے میں چیف جسٹس کیسے قصوروار ہو سکتا ہے،ضلعی عدالت معاملے میں میری بدنیتی ہو توذمے دار ہو سکتا ہے،آپ کے کیس میں بدنیتی کا تعین ایف آئی اے کر رہی ہے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کی 70 سال سے زیادہ عمر ہے ،اس عمر میں آپ کی گرفتاری پر افسوس ہے،حسین لوائی نے کہا کہ 3 سال سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تحقیقات پر چودھری شجاعت کی مٹی پاﺅ پالیسی چل رہی تھی،عدالت کے نوٹس لینے پر تحقیقات دوبارہ شروع ہوئی ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد