گھر میں سوتی خاتون کو اچانک اپنی 7 سالہ بیٹی کی چیخوں کی آواز آئی، اس کے کمرے میں گئی تو ایسا شرمناک ترین منظر کہ زندگی کا سب سے زوردار جھٹکا لگ گیا، اس کا اپنا ہی۔۔۔

گھر میں سوتی خاتون کو اچانک اپنی 7 سالہ بیٹی کی چیخوں کی آواز آئی، اس کے کمرے ...
گھر میں سوتی خاتون کو اچانک اپنی 7 سالہ بیٹی کی چیخوں کی آواز آئی، اس کے کمرے میں گئی تو ایسا شرمناک ترین منظر کہ زندگی کا سب سے زوردار جھٹکا لگ گیا، اس کا اپنا ہی۔۔۔

  

شارجہ (مانیٹرنگ ڈیسک) جنسی جرائم دنیا کے ہر حصے میں رونما ہونے والے معمول کے جرائم کا حصہ ہیں لیکن بعض اوقات کوئی درندہ ہوس کے ہاتھوں وحشی ہو کر حیوانیت کی ایسی حدوں کو چھو جاتا ہے کہ جس کے بارے میں سوچ کر ہی انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے, ناقابل یقین درندگی کا ایک ایسا ہی واقعہ متحدہ عرب امارات میں پیش آیا ہے جہاں ایک غیر ملکی نے اپنی ہی کمسن بیٹی کو جنسی حیوانیت کا نشانہ بنا ڈالا۔

گلف نیوز کے مطابق بچی کی عمر سات سال ہے اور اس کے ساتھ یہ المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ رات کے وقت اپنے بیڈروم میں سو رہی تھی۔ بچی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اچانک اپنی بیٹی کی چیخیں سن کر وہ بیدار ہوئیں اور اس کے کمرے کی جانب بھاگیں۔ دروازہ اندر سے لاک تھا جسے خاتون نے دیوانہ وار پیٹنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلا تو ایک ایسا منظر سامنے تھا کہ جس کا تصور کوئی ماں اپنے بھیانک ترین خواب میں بھی نہیں کر سکتی۔ اس کا خاوند شراب کے نشے میں دھت تھا اور اپنی ہی بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنا چکا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے لئے یہ واقعہ ایسا صدمہ خیز ثابت ہوا کہ وہ اسی وقت اپنی بچی کو لے کر گھر سے نکلی اور اپنے وطن جانے کے لئے ائرپورٹ جا پہنچی۔ اس کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ اس کے پاس پاسپورٹ یا ٹکٹ بھی نہیں تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے جب اسے نیم دیوانگی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگتے دیکھا تو خواتین اہلکاروں کی مدد سے اسے پرسکون کرنے اور اس کا مسئلہ جاننے کی کوشش کی گئی۔ تب یہ ہولناک انکشاف سامنے آیا کہ اس کی بچی کو اس کے اپنے ہی باپ نے درندگی کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون سے معلومات لینے کے فوری بعد اس کے خاوند کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس بدبخت کے خلاف قانونی کاروائی جاری ہے جبکہ دریں اثناء بچی اور اس کی والدہ کو فیملی سپورٹ سنٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔ دونوں شدیدصدمے کی کیفیت میں ہیں اور انہیں نارمل حالت میں لانے کے لئے نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

مزید : عرب دنیا /جرم و انصاف