کیا عمران خان وزیر اعظم نہیں بن پائیں گے ؟؟

کیا عمران خان وزیر اعظم نہیں بن پائیں گے ؟؟
کیا عمران خان وزیر اعظم نہیں بن پائیں گے ؟؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

”عمران خان کے ہاتھوں میں وزیر اعظم بننے کی کوئی لکیر نہیں ،وہ خر دماغ ہیں،کوئی پتہ نہیں کہ کب وہ کیا اقدام اٹھالیں؟ان کی رنگین مزاجیوں کے تبصرے بھی عام ہیں،فوج انہیں بھی پسند نہیں کرتی ....“ یہ سب باتیں ایسی ہیں جن کا ذکر برسوں سے کیا جارہا ہے اور ن لیگ ،پی پی کے علاوہ بھی نجومی ،فلاسفر،تجزیہ نگار کہتے آرہے ہیں کہ عمران خان جو بھی کرلیں پاکستان کے وزیر اعظم نہیں بن پائیں گے ۔سوال یہ ہے کہ کس ایما پر نہ بن پائیں گے ؟ اگر ان کا کردار درست نہیں، جنسی اخلاقی طور پر ان کا دیوالیہ نکل چکا ہے تو پھر وہ پاکستان کے صف اوّل کے کھلاڑی سے سیاستدان کیسے بن گئے؟انہوں نے احتجاجی سیاست سے ن لیگ کا بھرتہ کیسے بناڈالا اور نواز شریف کو پھر سے جیل بھجوادیا ۔کیا اس میں انکی مدد کسی ایسی قوت نے کی ہے جو ان کا کاندھا استعمال کرکے نواز شریف اور زرداری سے جان چھڑوانا چاہتی ہے؟پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بالفرض عمران خان آلہ کار بنے تواس کا انہیں کیا صلہ ملے گا ؟کیا ان سے کام لینے کے بعد ایسے حالات پیدا کردیئے  جائیں گے کہ ان کا بھی "کنڈا" نکال باہر کیا جائے گا ؟ خیر اسکا فیصلہ تو اب دوہفتوں میں ہوجائے گا ،وہ سونامی بن کر اٹھے ہوئے ہیں کسی مقام پر پہنچ کر ہی انہیں قرار ملے گا لیکن فی الحال تو ریحام خان نے انہیں اور بے قرار کردیا ہے ،ایسے الزامات عائد کردیئے ہیں کہ انہیں سن کر کوئی بھی خوش نہیں اور ہر کوئی چیف جسٹس صاحب کی جانب تکنے لگنا ہے ۔

عمران خان پر انکی سابقہ بیوی ریحام خان نے الیکشن سے پہلے آن لائن کتاب شائع کرکے عمران خان پر ڈرون اٹیک کیا ہے،یہ نشانہ ٹارگٹ پر لگ گیا تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لینا چاہئے ،اگر چوک گیا تو ستے خیراں۔امید پرستوں کو امید ہے کہ کوئی انہونی ،کرامت،کوئی نیکی آڑے آجائے گی اور غیبی مخلوق عمران خان کو ریحام خان کے حاسدانہ معاندانہ اٹیک سے بچا لے گی ،اگر عمران خان وزارت عظمیٰ پر نہ بیٹھ سکے تو ریحام خان اسکا کریڈٹ خود وصول کریں گی کہ ان کا ڈسا واقعی پانی نہ مانگ سکا ۔

ریحام خان کی کتاب کو محض الزامات یا فسانہ بھی نہیں کہا جاسکتا تاہم اگر کہہ بھی دیا جائے تو حرج نہیں ۔اس بات میں کتنی صداقت ہے کہ انہوں نے سب واقعات ہڈ بیتی پر مبنی لکھے یا کسی نے بریف کئے تو انہوں نے لکھے ؟ان کی کتاب لکھنے کی دیوانگی تو پچھلے تین سال سے جاری تھی،ایک چٹکی بھر نہیں بلکہ مٹھی بھر اس دیوانگی کا یہ خاکسار بھی گواہ ہے۔ریحام خان کے سابقہ قریبی دوست اور انہیں اینکر بنانے والے مبین رشید چونکہ میرے بھی ذاتی دوست ہیں، اُنہوں نے ریحام خان کے ساتھ اچھا وقت بتایا ہے ،طلاق کا زخم لیتے ہی جب ریحام خان انگلینڈ گئی تھیں تو یہ مبین رشید ہی تھے جن کی میڈیا تقریب میں انہوں نے منہ دکھائی دی اور ان کے وسیلہ سے طلاق کی کنفرمیشن ہم سب تک پہنچی تھی۔مبین رشید بڑے پہنچے ہوئے صحافی ہیں،پاکستان آنے سے پہلے اُنہوں نے ریحام خان کو نیو ٹی وی کی اینکر بنوادیا اور معاوضہ پچاس لاکھ سے اوپر طے کرایا۔مبین رشید نے اسی وقت ریحام خان کی کتاب کا پراجیکٹ شروع کردیا تھا جو اردو میں لکھی جانی تھی ،یہ پراجیکٹ پاکستان کے مایہ ناز ڈرامہ رائٹر ،کالم نگاراور میرے جگری یار کے پاس پہنچا ،ہوشربا بات یہ ہے کہ اس وقت تک کتاب میں جو مواد مہیا کیا جانا تھا ،اس کے لئے ریحام خان کے پاس بھی کوئی خاص لائن نہیں تھی،یہ محض ”نام “ کو کیش کرانے تک محدود تھی،یہ بھی تخمینہ لگالیا گیاتھا کہ کتاب کی کتنی کاپیاں شائع ہونی تھیں؟مجھ سے پرنٹنگ سمیت کئی باتیں ڈسکس ہوئیں،حتٰی کہ اس کتاب کے کچھ ابواب مجھ سے لکھوانے کی بھی بات ہوئی لیکن میں نے بوجو ہ یکسر معذ رت کرلی ۔ خیر بعض معاملات طے نہ ہوسکنے کے باعث یہ پراجیکٹ ادھورا رہ گیا تاہم اس کتاب کا ٹائٹل جو مبین رشید نے بنوایا تھا وہ بھی گردش میں آگیا تھا،مبین رشید کے برطانیہ میں مخالفین نے اسکو اچھالا ۔مبین رشید کو اس وقت پورا یقین تھا کہ کتاب میں ایسا کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں،جو لکھنا ہے وہ رائٹر عمران خان کی زندگی ،اسکے سکینڈلز کو سامنے رکھ کر اور ٹوٹی پھوٹی ’’ ریحامیہ انفرمیشن‘‘ پر انحصار کرتے ہوئے ٹھوک دے گا ،یہ کتاب ہاٹ نیم کی وجہ سے چالیس پچاس ہزار تک بک جائے گی لیکن قدرت خدا کی کہ یہ بیل منڈے نہ چڑھ سکی کیونکہ کتاب کے اندر کیڑا تھا اور مبین رشید کو سمجھ آگئی تھی کہ وہ اس کیڑے کو اپنی انگلی سے نہ ہی نکالیں تو اچھا ہے۔جس کے پاس یہ پراجیکٹ موجود تھا ،حیرت انگیز طور پر عمران خان کا مخالف ہونے کے باوجود اپنی نیک نامی کا سودا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔اب خود سوچ لیں کہ فرضی واقعات اور زیب داستان لکھنے سے گریزاں یہ پاکستانی رائٹرزاسکے نتائج پر کیوں تحفظات کا شکار ہوگئے تھے ؟۔

اب ریحام خان کی انگریزی میں لکھی کتاب کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے،دو ماہ پہلے اسکا سکرپٹ عام ہوا اور متناز عہ ہونے سے اسکی ہوا بھی نکل گئی تاہم کتاب سنگین ترین الزامات پر مبنی ہے اور محض اس کتاب کی مدد سے بھی عمران خان کا راستہ روکا جاسکتا ہے کیونکہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ کوئی ایسا سیاستدان جس پر اسقدر جنسی الزامات عائد ہوچکے ہوں وہ تخت پاکستان پر براجماں ہوجائے مگر عمران خان کی زندگی کا پلے بوائے ماضی ابھی تک ان کا تعاقب کررہا ہے ۔ریحام خان کے بقول عمران خان کے ٹیریان کے علاوہ بھی پانچ ناجائز بچے ہیں ،انکے بقول اس کا اعتراف عمران خان نے خود کیا تھا اور انہوں نے جمائمہ سے بھی یہ بات شئیر کی تھی کہ ٹیریان کے علاوہ بھی انکی اولادہے جو انکی ماؤں نے انکے کھاتے میں ڈال دی تھی،ہم جنسی کے الزامات اور کوکین کے نشہ کے الزامات الگ ہیں۔عمران خان اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ان الزامات پر ان کا موقف آنا ضروری ہے،اسلامی جمہوریہ پاکستان کا اقتدار ان کے حوالے کرنے سے پہلے ان کے کردار کی گواہی چاہئے ہوگی،یہ گواہیاں انسانوں سے زیادہ میڈیکل سائنس پر اکتفا کرکے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں،پاکستان میں صادق و امین فیصلوں کی تاریخ لکھی جارہی ہے ،یہ فرض بھی ادا کردیا جائے تو انصاف کا بول بالا ہوگا اور ناحق الزامات سے عمران خان کی بھی جان  چھوٹ جائے گی۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

مزید : بلاگ