نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری پر کیا ہوگا؟

نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری پر کیا ہوگا؟
نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری پر کیا ہوگا؟

کل سے پورے پاکستان میں نیا طوفان اٹھنے کا اشارہ دیا جارہا ہے ۔ن لیگ کے نااہل قائد نیب کورٹ کی جانب سے قید و جرمانہ کی سز اپنی بیٹی کے ساتھ بھگتنے کے لئے جب نواز شریف لاہور ائر پورٹ پر اتریں گے  تو اسکے کارکن استقبال کے لئے پرجوش مظاہرہ کریں گے ،جس کو روکنے کے لئے موٹر وے بند کی گئی ہے تو ائرپورٹ پر دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کردی گئی ہے ۔اس کامطلب ہے کہ گرفتاریاں ہوں گی اور مزاحمت و ردعمل سامنے آئے گا ۔ایسے حالات میں کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن کیا واقعی ایسا ہوگا ۔

تین دفعہ اس ملک کا وزیراعظم رہنے والے میاں نوازشریف آج پاکستان میں ایک مجرم کی حیثیت سے واپس آ رہے ہیں۔ ان کے استقبال کے لئے ان کی جماعت ایک بڑی ریلی لے کر ایئرپورٹ جانا چاہ رہی ہے۔ عملی طور پر یہ ایک احتجاجی شو ہو گا مگر یہ احتجاجی کارکن اپنے محبوب لیڈر کا استقبال نہیں کر سکیں گے، ایک عام فکر رکھنے والا سیاسی سمجھ بوجھ کا حامل شخص بھی جانتا ہے کہ انہیں ایئرپورٹ سے باہر آنے دیا جائے گا نہ ان کا استقبال ہو سکے گا۔ یہ وہی روایتی پنجاب پولیس ہے جس کی آبیاری پچھلے لگاتار دس سال میاں شہباز شریف نے کی ہے۔ دیکھتے ہیں وہ اپنے سابق وزیراعلیٰ کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

جب سے میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کو سزا سنائی گی ہے اس وقت سے وہ واپس آنے کا سوچ رہے تھے ۔ان کی جماعت نے پہلے دس جولائی تجویز کی تھی مگر اس پر اتفاق نہ ہو سکا بعد ازاں یہ بات بھی کی گئی کہ وہ اپنی اہلیہ کے پاس رہنا چاہتے ہیں اور جب ایک دفعہ انہیں ہوش آ جائے تو ان سے بات کر کے ہی وہ واپس جائیں۔ بہر حال یہ ایسے جذباتی حالات ہیں جن پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔ ان کی اہلیہ محترمہ کی طبیعت یقیناً بہت خراب ہے اس کے باوجود میاں صاحب نے آنے کے لئے آج کی تاریخ دے دی۔کچھ لوگ ابھی بھی کہہ رہے ہیں کہ میاں صاحب راستے سے ہی واپس چلے جائیں مگر یہ سب مجھے خام خیالی لگتی ہے۔ میاں صاحب اپنی جماعت کو بچانے کے لئے وطن واپس آ رہے ہیں اور ان کے آنے سے ان کی جماعت کا مورال نہ صرف بلند ہو گا بلکہ ان کی جماعت کے امیدواروں کو بھی حوصلہ ملے گا۔ اس وقت لاہور کے علاوہ باقی تمام جگہوں پر ان کی جماعت کے امیدوار اور ووٹر اچھے حالات میں نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کا جادو اس وقت سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ میا ں صاحب اب کوئی دس سال بعد وطن واپس نہیں آ رہے نہ ہی ان کے پاس سپریم کورٹ کی وہ طاقت ہے جو انہیں افتخار محمد چودھری نے دی تھی۔ اس وجہ سے ان کے مقدمات ختم ہوئے، انہیں وطن واپس آنے کی اجازت دی گئی۔ ان کے چھوٹے بھائی اور سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف جو میاں صاحب کی احتجاجی سیاست کو پسند نہیں کرتے نہ ہی وہ اس وقت اداروں کے ساتھ کوئی نئی لڑائی مول لینا چاہتے ہیں وہ تو یہاں تک بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ اداروں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور کل کلاں کو کسی دوسری جماعت کے ساتھ مل کر یا کوئی قومی حکومت ٹائپ کولیشن بنانا پڑی تو وہ اس کا بھی ساتھ دیں گے۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ دونوں میاں صاحب کی سیاست کا انداز ایک دوسرے سے یکسر جدا ہے مگر میاں شہباز شریف میاں نوازشریف کے بغیر کچھ نہیں ہیں۔ آج بھی مسلم لیگ کے کارکن میاں نوازشریف کو ہی قائد مانتے ہیں اور اس کے نعرے لگتے ہیں۔ جہاں تک میاں نواز شریف کا تعلق ہے تو وہ حق حکمرانی کی سوچ رکھتے ہیں۔ میں پچھلے دنوں ان کے لندن فلیٹس کے باہر پاکستانیو ںکے نعرے، پھر میاں صاحب کے فلیٹ سے پھینکے جانے والے انڈے۔ ان کے فلیٹس کے دروازوں پر حملے اور میاں صاحب کے گارڈز اور چہیتوں کی طرف سے تحریک انصاف اور پاکستانیوں کو دھکے دینے کے منظر دیکھ چکا ہوں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ میاں صاحب اور زرداری صاحب کی سیاست پر کرپشن کا عنصر غالب آ چکا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے انکوائریاں دی گئی ہیں، احتساب عدالت اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔ گو میاں صاحب یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ ان فیصلوں کو نہیں مانتے ایسے فیصلے کسی کے کہنے پر کئے جا رہے ہیں مگر یہ سب مکافات عمل ہے میاں صاحب۔ آپ نے پیپلزپارٹی کے ساتھ یہ تمام کچھ کیا تھا جو آج کل آپ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ آپ اپنی اہلیہ محترمہ کی بیماری کو بھی ہمدردی کے نام پر استعمال کر رہے ہیں اور اب تو آپ نے اپنی والدہ کی طرف سے بھی خبریں دینا شروع کر دی ہیں کہ وہ نہ صرف ایئرپورٹ پر استقبال کرنے آئیں گی بلکہ وہ جیل میں بھی ان کے ساتھ جانا پسند کریں گی ۔ میاں صاحب کی والدہ ایک بزرگ خاتون ہیں انہیں ایک بیٹے کے لئے ایسا کرنا چاہئے ،ہر ماں یہی خواہش رکھتی ہے کہ جب اسکا بیٹا جیل جائے تو اسے بھی جیل میں ڈال دیا جائے کیونکہ کوئی ماں بیٹے کو مجرم نہیں سمجھتی۔مگر میاں صاحب کو چاہئے کہ انہیں ایئرپورٹ آنے سے روکیں ۔آپ نے اپنے خاندان کو لانا ہی ہے تو اپنے بیٹوں کو ساتھ لائیں ۔وہ آپ کے ساتھ اس مشکل وقت میں کھڑے ہوں۔

مجھے تو لگتا ہے کہ میاں صاحب کے آنے سے میاں شہباز شریف کی سیاست بھی خراب ہو گی ۔یہ تو کوئی بات نہیں کہ آپ ماضی میں دھرنوں اور دوسرے احتجاج کے لئے خیبرپختونخواہ سے آنے والوں کو زبردستی روکیں اور آج آپ اس پر احتجاج کریں کہ ان کے کارکنوں کو ایئرپورٹ جانے سے کیوں روکا جا رہا اور ان کی گرفتاریاں کیوں ہو رہی ہیں۔ میں پھر کہوں گا میاں صاحب یہ مکافات عمل ہے۔ کیا میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی جیل میں ہنسی خوشی گزارا کر لیں گی۔ مجھے یہ سب عمل مشکل نظر آتا ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے معاملات گھومتے ہیں ۔مجھے ماضی بعید میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کیس بھی نظر آتا ہے۔ اس وقت مرحومہ نصرت بھٹو اور پھر جس طرح بینظیر بھٹو جیل سے باہر آتی تھیں، یہ بڑے دلخراش منظر تھے۔ ہمارے سیاستدانوں نے اپنے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ کرپشن کے الزامات پر مسلم لیگ (ن) اور پھر پیپلزپارٹی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہےں اور اب حالات یہ ہے کہ دونوں جماعتیں ہی کرپشن میں لت پت ہو چکی ہیں۔

اس وقت میاں صاحب کی سیاست کو جتنا خطرہ ہے شاید پہلے کبھی نہیں تھا۔ اپنے حالات ہٹ دھرمی اور کاموں کی وجہ سے انہوں نے سارے ادارے اپنے خلاف کر لئے ہیں۔ ان کی جماعت کے الیکٹیبلز کی بڑی تعداد انہیں چھوڑ چکی ہے اور پنجاب میں ایک طویل عرصے کے بعد انہیں انتخابی محاذ پر پسپائی دکھائی دے رہی ہے۔ میاں صاحب آج آ کر کسی قسم کی سیاست کی بات کرتے ہیں یہ تو آنے والا ہے بتائے گا کیونکہ وہ جہاز سے شاید اتر کر خطاب نہ کر سکیں ۔وہ سیدھے جیل جائیں گے جہاں شاید انہیں خطاب اور پریس کانفرنس کا موقع میسر نہیں ہو گا۔ ایسے حالات میں ان کی جماعت کیا رزلٹ دے گی، یہ بھی ان کے استقبال کے لئے آئے لوگوں اور ان کے احتجاج سے ہی واضح ہو گا۔

..

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...