سیکرٹری خزانہ کیس کی ریکوری بلوچستان تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری ہے:ڈی جی نیب بلوچستان

سیکرٹری خزانہ کیس کی ریکوری بلوچستان تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری ہے:ڈی جی نیب ...
 سیکرٹری خزانہ کیس کی ریکوری بلوچستان تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری ہے:ڈی جی نیب بلوچستان

کوئٹہ(آئی این پی) ڈائریکٹر جنرل قو می احتساب بیورو(نیب ) بلوچستان مرزا محمد عرفان بیگ نے کہا ہے کہ بلوچستان سیکرٹری خزانہ کیس کی ریکوری بلوچستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری ہے ، بلوچستان حکومت کو ایک ارب 25 کروڑ مالیت کی جائیداد حوالے کی گئی ہے، نیب بلوچستان کی کرپٹ عناصر کے خلاف کامیابیاں نیب افسران کی دیانت ، قابلیت کی دلیل ہیں، پکڑ دھکڑ کے قانون پر عمل پیرا ہونے، جیلیں بھرنے ، سزائیں کروانے سے ہی بدعنوانی کا خا تمہ نہیں ہو گا، شعور و آگاہی کے چراغ بھی فروزاں کرنا ہونگے۔،دیانت کی بقاء اور ملکی معیشت کی مضبوطی اور بحالی کے لیے لوٹی ہوئی قومی دولت کا واپس قومی خزانے میں آنا ایک ناگزیر عمل ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان سیکرٹری خزانہ کیس میں ملزمان سے ریکور کی گئی جائیدادوں کی بلوچستان حکومت کو حوالگی کے حوالے سے نیب بلوچستان میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان مرزا محمد عرفان بیگ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا آج کی اس تقریب کے انعقاد کا بنیادی مقصد حکومت بلوچستان کو وہ تمام جائیداد واپس لوٹانا ہے جو کہ مشتاق احمد رئیسانی کیس میں نیب نے برامد کیں ہیں۔ ان کی مالیت تقریباً ایک ارب 25 کروڑ روپے ہے جو کہ بلوچستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری ہے، جو قومی احتساب بیورو کے افسران کی لگن، دیانت اور اپنے پیشہ ورانہ قابلیت کی ایک دلیل ہے۔انھوں نے کہا قوموں کا عروج ان کی اجتماعی دیانت سے وابستہ ہوتا ہے اور کسی بھی قوم کے زوال کی اولین نشاندہی یہ ہے کہ وہ من حیثْ القوم اور انفرادی و اجتماعی سطح پر خیانت اور بدعنوانی کی جانب مائل ہو جائے۔ انھوں نے ایمانداری کے اصولوں کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا خیانت اپنے فرائض میں ہو،اپنے کردار میں ہو، اپنی سوچ میں ہو یا ملکی اور قومی معاملات میں ، اسے بدعنوانی ہی کہا جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی ان کی اخلاقی اقدار کے مرہون منت ہے۔ قومی احتساب بیورو کا قیام اس مقصد سے عمل میں لایا گیا تا کہ بدعنوانی اور کرپشن کا قلع قمع کیا جائے اور بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی قومی دولت واپس قومی خزانے میں جمع کروائی جا سکے۔انھوں نے کہا قومی احتساب بیورو نے 1999 میں اپنے قیام سے اب تک لوٹی گئی قومی دولت سے تقریباً 295.642 ارب روپے وصول کئے اور قومی خزانے میں جمع کرائے۔ اسکے لیے قومی سطح پر ایک مربوط نیشنل اینٹی کرپشن پالیسی ترتیب دی گئی جس کے تحت نیب ایک مضبوط اور شفاف حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ڈی جی نیب نے کہا ہم تمام نا مسائد حالات میں اسی حوصلے سے قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ محترم چیئرمین نیب کے لیے یہ لمحات انہتائی خوشگوار اور تسلی بخش ہوں گے کہ وہ آج یہ جائیداد واپس لوٹاتے ہوئے یقیناً اپنی اس قانونی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے جا رہے ہیں جو کہ قومی احتساب بیورو 1999 کی تمہید میں ہی انہیں سونپ دی گئی ہے۔ میں چئیرمین نیب کو اس امر پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...