میر حاصل بزنجو …… چیئرمین سینیٹ کے متفقہ امیدوار

میر حاصل بزنجو …… چیئرمین سینیٹ کے متفقہ امیدوار

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کے نتیجے میں بننے والی رہبر کمیٹی کے فیصلے کے مطابق میر حاصل بزنجو کو سینیٹ کے چیئرمین کا متفقہ امیدوار بنا دیا گیا ہے، تمام اپوزیشن جماعتیں انہیں کامیاب کرانے کے لئے متفقہ حکمت عملی اختیار کریں گی، لیکن یہ مرحلہ تو اس وقت آئے گا جب چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جائے گی اور انہیں ان کے منصب سے ہٹا دیا جائے گا۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیئرمین کو ارکان کا اعتماد حاصل نہیں رہا، اس لئے انہیں ہٹانا ضروری ہوگیا ہے۔ اگر صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو وہ اپنے منصب سے ہٹ جائیں گے۔ تاہم سینیٹ کے رکن بدستور رہیں گے۔

اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپیلز پارٹی نے مارچ 2018ء میں صادق سنجرانی کو چیئرمین منتخب کرانے میں اہم اور بنیادی کردار ادا کیا تھا، اگر وہ اس وقت صادق سنجرانی کا ساتھ نہ دیتی تو ان کی کامیابی کا امکان نہیں تھا، لیکن حیران کن طور پر تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود اس وقت پیپلز پارٹی اور آج کی حکمران جماعت تحریک انصاف ایک ہی صفحے پر نظرآئیں، پیپلز پارٹی نے تو اس جوڑ توڑ کے نتیجے میں اپنا ڈپٹی چیئرمین منتخب کرالیا جو آج بھی اپنے منصب پرموجود ہے، لیکن تحریک انصاف کی شمولیت اس وقت اس کھیل میں شامل باجا سے زیادہ نظر نہ آتی تھی، البتہ اسے پس پردہ سرگرمیوں کے طفیل سینیٹ کی ایسی نشستیں بھی مل گئیں جو کسی بھی طرح اس کے حصے میں نہ آسکتی تھیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کی وقتی کامیابی کے چہرے سے آہستہ آہستہ غازہ اترنا شروع ہوا تو اسے علم ہوا کہ وہ خسارے کا سودا کر بیٹھی ہے لیکن اس وقت کیا ہوسکتا تھا۔ اب سوا سال کی بادیہ پیمائی کے بعد پیپلزپارٹی کو بھی یہ تسلیم کرتے ہی بنی کہ چیئرمین کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے ہونا چاہئے، کیونکہ وہ سینیٹ میں واضح برتری رکھتی ہیں اور اپنا چیئرمین منتخب کرانے کی پوزیشن میں ہیں، ان کی صفوں میں اتحاد ہوتا تو چیئرمین تو اس وقت بھی اپوزیشن سے منتخب کرایا جاسکتا تھا جب صادق سنجرانی کو منتخب کرایاگیا، لیکن اس وقت سیاست کے تقاضے راستے میں حائل ہوگئے اب بدلے ہوئے حالات اور بدلے ہوئے تقاضوں کے نتیجے میں صادق سنجرانی کے ستارے گردش میں آئے ہیں اور تحریک عدم اعتماد کا سامنا کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام کے ساتھ ہی حکومتی صفوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اور کورس کے انداز میں گیت الاپا جارہا تھا جس کا ٹیپ کا بند یہ تھا کہ اے پی سی ناکام ہوگئی ہے۔ ایک وزیر نے تبصرہ فرمایا لوگ تو کرکٹ میچ دیکھتے رہے۔ انہوں نے اے پی سی کی جانب دھیان نہیں دیا، انہیں شاید یہ ادراک نہ تھا کہ یہ کوئی جلسہ عام نہ تھا جس کے لئے بندے گاڑیوں میں بھر بھر کر لائے جاتے، اے پی سی اپوزیشن رہنماؤں کا اجتماع تھا جس میں ان جماعتوں نے اپنے اگلے لائحہ عمل پر غور کیا، جن میں سے ایک صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرانا اور اس کے بعد کسی اپوزیشن سینیٹر کو ان کا جانشین بنانا تھا اس جانب قدم کامیابی سے اٹھ چکے ہیں، مسلم لیگ (ن) سینیٹ کی سب سے بڑی پارٹی ہے، اس وقت بھی تھی جب سینیٹ کے نصف مدتی انتخابات ہو رہے تھے لیکن اسے بلوچستان سے اپنے حصے کے سینیٹر منتخب کرانے سے روکنے کے لئے صوبے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم کرائی گئی اور یہ سب کچھ عین اس وقت ہوا جب وفاق میں شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم تھی۔

وزیراعظم اس سارے کھیل کو باحسرت و یاس دیکھتے رہے، لیکن عملاً کچھ نہ کرسکے۔ پیارے اور شہسوار ان کی سنتے ہی نہ تھے۔ سینیٹ کے ان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے لئے جو پیغام پوشیدہ تھا وہ یہ تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے درخت سے خزاں رسیدہ پتے جھڑنے لگے ہیں اور اس کے آشیانے سے وہ پنچھی اڑنے والے ہیں جو ایسے موسموں میں نئے ٹھکانے تلاش کرتے ہیں، بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمے سے لے کر 2018ء کے عام انتخابات کے دن آر ٹی ایس کی ناکامی تک واقعات پر توجہ سے نظر ڈال لی جائے تو سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے، لیکن اس وقت کی سیاسی فضا میں بعض قوتیں نوشتہء دیوار پڑھنے کے لئے بھی تیار نہ تھیں، ورنہ آج شاید پیپلز پارٹی کویہ نہ کہنا پڑتا کہ غیر دستخط شدہ فارم 45انتخابی نتائج کی تصدیق نہیں کرتا، پارٹی کا کہنا ہے کہ 95فیصد فارم 45 پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخط نہیں ہیں، یہ سارا معاملہ صرف فارم 45 تک محدود نہیں اور بھی بہت سے امور ہیں جن سے پردہ اٹھنا ہے تھوڑا بہت سرکا ضرور ہے، لیکن ابھی حسن بے پروا کی بے حجابیاں پوری طرح منظر عام پر نہیں آئیں اپنے وقت پر وہ بھی آئیں گی۔

اپوزیشن کی پارلیمانی سیاست کا یہ ابھی ایک رخ ہے، ایوان بالا میں اپنا چیئرمین منتخب کرانے کے بعد وہ اس میدان میں مزید آگے بڑھ کر پارلیمینٹ کو بالادست بنانے کے مشن کا آغاز کرسکتی ہے جو اس وقت بازیچہ اطفال بنی ہوئی ہے، سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس کا انعقاد تک روک دیا ہے اور حکم فرمایا ہے کہ یہ اجلاس صرف ان دنوں میں ہوسکتے ہیں جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہو۔ حالانکہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بارہ مہینے میں کسی وقت بھی ہوسکتے ہیں، اور پوری دنیا میں یہی طریق کار رائج ہے، کسی بھی ملک کی پارلیمینٹ کا کیلنڈر دیکھا جاسکتا ہے، لیکن لگتا ہے سپیکر اسد قیصر نے یہ حکم جاری کرکے اپنی پارٹی کے محدود مقاصد کو پیش نظر رکھا ہے جو یہ ہیں کہ کوئی گرفتار رکن قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے ”بہانے“ پرروڈکشن آرڈر جاری نہ کرائے، یہ پارلیمینٹ کے چہرے کو داغ دار بلکہ سیاہ کرنے کی کوشش ہے اور کچھ عجب نہیں اگر اپوزیشن سینیٹ میں کامیاب ہو گئی تو اگلے مراحل میں وہ اسد قیصر کو بھی نشانہ بنالے، اس لئے بہتر ہے اسد قیصر اپنی اداؤں پر غور کرلیں اور قومی اسمبلی کا سپیکر بن کر دکھائیں، بے جان مہرہ نہیں، لیکن پہلے صادق سنجرانی کے خلاف جنگ جیتنا ضروری ہے۔

مزید : رائے /اداریہ