مسافر ٹرینوں میں رشوت لے کر کم بوگیاں لگائی جا رہی ہیں

مسافر ٹرینوں میں رشوت لے کر کم بوگیاں لگائی جا رہی ہیں
 مسافر ٹرینوں میں رشوت لے کر کم بوگیاں لگائی جا رہی ہیں

  

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی کراچی سے پشاور تک ٹرانسپورٹیشن کا نظام آئل ٹینکرز کے بجائے پاکستان ریلوئے کی آئل فریٹ بوگیوں کے ذریعے کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ آئل ٹینکروں کے مقابلے کم کرایہ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کو ریلوے کے سپرد کیا جائے یہ ایک صائب اور خوش آئند فیصلہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ٹرانسپورٹریشن کے اخراجات کم ہو جائیں گے اور ریلوئے کو خسارے سے نکالنے کے لئے بھی یہ اقدام سود مند ثابت ہو گا اس ضمن میں ہماری گزارش ہے کہ ملک بھر میں قائم نجی بجلی گھر جو فرنس آئل سے چلتے ہیں پاکستان ریلوئے انتظامیہ ان تھرمل بجلی گھروں کو آئل سپلائی کی فراہمی کے معاہدے کرے اور مکمل فزیبلیٹی سٹرکچر ترتیب دے۔

لہٰذا سیالکوٹ سے براستہ نارووال،لاہور کراچی تک فریٹ ٹرینیں چلائی جائیں تو ریلوئے کو سالانہ اربوں روپے کا ریونیو صرف سیالکوٹ نارووال،وزیر آباد سیکشنز سے حاصل ہو سکتا ہے۔ ریلوئے انتظامیہ اس حوالے سے سیالکوٹ، گوجرانوالا،چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سے مذاکرات کرے فریٹ ٹرینیوں سے اشیا کی سپلائی محفوظ اور اخراجات روڑ ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں کم ہونے سے کاروباری حلقوں کو کافی ریلیف حاصل ہو گا۔

دوسری جانب ریلوئے انتظامیہ کو ریلوئے ٹریکس کی از سر نو ری سٹرکچرنگ کی طرف توجہ دینا ہو گی۔چائنہ سے ML.1 کا معاہدہ ہو گیا ہے اس پر اس کی روح سے عملدر آمد کروانا ہو گا، کیونکہ ایک سال میں ٹرینیوں کے 74 حادثات ہوئے ہیں، جن میں 13 سنگین نوعیت کے ہیں اور پٹری سے اترنے کے 61 واقعات ہوئے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے آئے روز فریٹ،پسنجر ٹرینوں کا پٹری سے اترنے سے جانی و مالی نقصان الگ، جبکہ ریلوئے کے خسارے میں بھی اضافے کاباعث بن رہا ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوئے کے ارکان کو حکام نے بتایا کہ اس سال ہمارا آپریشن بڑھا ہے 136 مسافر ٹرینیں چل رہی ہیں، لیکن یہ جو حادثات ہو رہے ہیں اس سے تو یوں لگتا ہے کہ آئندہ سال مسافرون کی تعداد کم ہو گی، کیونکہ مسافروں کے اندر ریلوئے حادثات کے باعث سفر نہ کرنے کا رحجان زور پکڑے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بند کی گئی مسافر ٹرینیں بحالی کی منتظر ہیں ان مسافر ٹرنیوں کی بندش سے ریلوئے اسٹیشن ویران ہو گئے، مسافر روڑ ٹرانسپورٹ کی طرف چل نکلے لہٰذا ناگزیر ہے کہ ریلوئے انتظامیہ معطل کی گئی ٹرینیں چلائے۔لاہور نارووال سیکشن میں اپ ڈاؤن ملا کر 18 پسنجر ٹرینیں چلتی تھیں اب ان کی تعداد 6 رہ گئی ہے عوام آج بھی معطل کی گئی ٹرینوں کی بحالی کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کر رہے ہیں، مگر ان کی شنوائی نہیں ہو رہی دوسرا ظلم نارووال سیکشن پر مسافروں کے ساتھ یہ ہو رہا ہے کہ لاثانی ایکسپریس ٹرین میں مسافر بوگیوں کی منظور شدہ تعداد 9 ہے، لیکن 6 بوگیاں لگائی جا رہی ہیں۔

فیض احمد فیض اور نارووال پسنجر ٹرینوں میں مسافر بوگیوں کی منظور شدہ تعداد 7 ہے، لیکن 4 بوگیاں لگائی جا رہی ہیں یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور کرپشن ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مافیا ریلوے کے چند عناصر کو مالی فائدہ پہنچاتا ہے۔

ہفتہ کو لاہور سے نارووال،سیالکوٹ،نارووال اور سوموار کو سیالکوٹ سے لاہور تک مسافر ٹرین کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اس کی ذمہ دار ریلوئے انتظامیہ ہے ہماری اس ضمن میں ریلوئے کے جی ایم سے گزارش ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیں اور نارووال سیکشن پر ٹرینوں میں منظور شدہ بوگیوں کی مطلوبہ تعداد میں لگانے کو یقینی بنائیں اور عوام الناس تاجروں کے دیرینہ مطالبے پر 217 اپ 218 ڈاؤن ٹرین کو جلد از چلانے کا اعلان کریں اسی طرح باقی ماندہ ٹرینوں کو چلانے کی نوید سنائیں تا کہ حقیقی معنوں میں ریلوئے منافع بخش ادارہ بنے۔

مزید :

رائے -کالم -