ریلوے حادثات: شیخ رشید کووزارت سے برطرف کیا جائے

ریلوے حادثات: شیخ رشید کووزارت سے برطرف کیا جائے
 ریلوے حادثات: شیخ رشید کووزارت سے برطرف کیا جائے

  


لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس حادثے کا شکار ہو گئی، 21 مسافر لقمہ ئ اجل بن گئے اور بیسیوں زخمی ہیں۔ اکبر ایکسپریس لوپ لائن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی، ایسے حادثات بہت کم ہوتے ہیں، کیونکہ ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے کہ مسافر گاڑی لوپ پر چلی جائے۔ یہ شیخ رشید کی وزارت میں 23واں حادثہ ہے۔ گویا ایک ماہ میں تقریباً دو بڑے حادثے، اب اگر اُن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تو اس میں کیا غلط ہے۔

ماضی میں تو ایک بھی حادثہ ہوتا تو استعفا دینے کی دہائی مچ جاتی، اور اس دہائی میں شیخ رشید پیش پیش ہوتے، صاف لگ رہا ہے کہ شیخ صاحب اس وزارت کے اہل نہیں، عمران خان کو اُن کو برطرف کر دینا چاہئے، کیونکہ انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ چپڑاسی بننے کے قابل نہ تھے، مگر بن وزیر گئے۔

آج لوگ خواجہ سعد رفیق کو یاد کرتے ہیں، جنہوں نے اور کچھ نہ بھی کیا ہو تو ریلوے سفر کو محفوظ اور بروقت ضرور بنا دیا تھا۔ گاڑیاں وقت ِ مقررہ پر چلتیں اور پہنچیں، آج مَیں دعوے سے کہتا ہوں کہ کوئی ایک گاڑی بھی وقت ِ مقررہ پر نہیں پہنچتی، اس کی وجہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ شیخ صاحب کا زیادہ سے زیادہ ٹرینیں چلانے کا خبط ہے، بغیر نئی بوگیوں کے ایک سے دوسری گاڑی بنانے کی دوڑ نے سب گاڑیوں کو گویا پٹڑی سے اتار دیا ہے۔

پچھلے دِنوں نواب شاہ کے قریب جو حادثہ ہوا، اُس کی وجہ سے کئی دن تک کراچی سے اندرون پاکستان گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی، مسافر ویرانوں اور ریلوے سٹیشنوں پر پھنس گئے، مگر مجال ہے شیخ رشید نے سیاست چھوڑی ہو، وہ ہر شام ٹی وی چینلز پر آکر مریم نواز اور بلاول بھٹو کی سیاست کا سیاپا کرتے رہے۔ وہ بہت سیانے آدمی ہیں، جانتے ہیں کہ اس دور میں اگر کوئی چیز انہیں وزیراعظم عمران خان کی کمزوری بنا سکتی ہے تو وہ اپوزیشن پر تنقید ہے، ریلوے کی کارکردگی گئی بھاڑ میں، اصل چیز تو خان صاحب کو خوش کرنا ہے، سو وہ ہر شام پریس کانفرنس کرنا نہیں بھولتے۔

اُن کی وزارت اللہ کے حوالے ہے، وہ اپنا الو سیدھا کئے ہوئے ہیں، اُن کے پاس ایک اور حربہ بھی ہے کپتان کو خوش کرنے کا، وہ کچھ عرصے بعد اُن سے کسی نئی ٹرین کا افتتاح کرا دیتے ہیں تاکہ عمران خان خوش ہو جائیں گے کہ ریلوے بہت ترقی کر رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے سر سید ایکسپریس کا افتتاح کرایا ہے،کبھی کپتان اُن سے یہ رپورٹ بھی مانگیں کہ یہ نئی ٹرینیں کیسے چل رہی ہیں، ان کے لئے کتنی نئی بوگیاں بنوائی گئی ہیں، نئے انجن لئے گئے ہیں، نئے ڈرائیور اور کلینرز بھرتی کئے گئے ہیں؟

ٹرینوں پر ٹرینیں چلانے سے ریلوے ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہوا ہے، جس کے باعث یہ حادثات ہو رہے ہیں۔ ایک ٹرین کی چار بوگیاں کسی دوسری ٹرین کو لگا کر چلانے کی حکمت عملی بُری طرح پٹ چکی ہے،کیونکہ جب پچھلی ٹرین وقت پر نہیں پہنچتی، جس سے بوگیاں کاٹ کر اگلی ٹرین کو لگانی ہوتی ہیں تو وہ بھی لیٹ ہو جاتی ہے۔ اس طرح عملے کی نفسیات پر بھی گہرا دباؤ پڑتا ہے اور جلد بازی کی کوشش میں حادثہ ہو جاتا ہے۔

مَیں سمجھتا ہوں کہ شیخ رشید سے ریلوے کی وزارت واپس نہ لی گئی تو یہ محکمہ انتہائی زوال کا شکار ہو جائے گا۔ اس وقت بھی اس کی بری حالت ہے، رشوت اور لوٹ مار اب بھی جاری ہے، ٹکٹوں کی بلیک کا سلسلہ اب نئی شکل اختیار کر گیا ہے۔ آن لائن بکنگ پر تمام نشستیں پر دکھائی جاتی ہیں، ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر عملے کے ذریعے نشست آسانی سے مل جاتی ہے، ریلوے اسٹیشن پر صفائی اور سہولتوں کی صورتِ حال دگرگوں ہے۔ مسافروں کے بیٹھنے اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں۔

نہ تو گاڑیوں کے اندر لائٹس ہیں اور نہ واش رومز میں پانی۔ جو اے سی بوگیاں ہیں، ان میں ائرکنڈیشنر برائے نام چلتے ہیں۔اس محکمے کو ٹھیک کرنے کے لئے تو ایک فل ٹائم وزیر کی ضرورت ہے، جو روزانہ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں بیٹھ کر ایک ایک چیز کا جائزہ لے، مگر شیخ صاحب تو اسے پارٹ ٹائم وزارت سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک تو یہ کار بیکار ہے، اصل کام تو سیاست ہے، روزانہ ٹی وی پر چہرہ نمائی ہے، مستقبل میں کس نے اندر جانا ہے، اس کی پیش گوئی ہے، عمران خان نے کتنے قلعے فتح کرنے ہیں، اس کی نشاندہی ہے۔

شیخ صاحب کا دُکھ یہ ہے کہ انہیں عمران خان نے وزارت اطلاعات کا محکمہ نہیں دیا، وہ بڑی آس لگاے بیٹھے تھے کہ کپتان ان کے سوا کسی کو وزیراطلاعات بنا ہی نہیں سکتے، لیکن جب قرعہ فال فواد چودھری کے نام نکلا تو ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ کئی بار انہوں نے دبے اور کھلے لفظوں میں اس زیادتی پر احتجاج بھی کیا، لیکن کپتان نے ایک نہ سنی، دوسری بار انہیں مایوسی اس وقت ہوئی جب فواد چودھری کی چھٹی کرانے کے باوجود انہیں وزیراطلاعات نہیں بنایا گیا، بلکہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو باہر سے لاکر یہ محکمہ سونپ دیا گیا۔

سو ریلوے کی وزارت تو شیخ صاحب نے طوعاً و کرہاً سنبھالی ہوئی ہے۔ ایسی بے دلی کے ساتھ جب وزارت چلائی جائے گی تو نتیجہ یہی نکلے گا، جو نکل رہا ہے۔ ریلوے کے حادثات ایسے ہو رہے ہیں جیسے سڑک کے حادثات ہوتے ہیں۔ پے در پے حادثات کی وجہ سے مسافروں کے اندر کتنا عدم تحفظ پیدا ہوا ہے، کبھی کسی نے سوچا ……؟

ریلوے کا ایک سلوگن ہوتا تھا: ”محفوظ سفر“ …… کیا ان حادثات کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ ریلوے کا سفر محفوظ ہے، اوپر سے شیخ صاحب گاہے بگاہے کرایوں میں اضافہ بھی کردیتے ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی کوئی فکر نہیں کہ مختلف جگہوں پر موٹرویز کھلنے سے سفر بذریعہ سڑک بہت آسان اور کم وقت میں ہونے لگا ہے۔ ملتان سے لاہور صرف 3گھنٹے اور اسلام آباد ساڑھے پانچ گھنٹے میں ہو رہا ہے، جبکہ ریلوے کے ذریعے اب بھی لاہور تک 6گھنٹے اور راولپنڈی تک 14گھنٹے لگتے ہیں۔

اسی طرح ملتان تا سکھر موٹروے کھلنے کی وجہ سے ملتان تا کراچی سفر 8گھنٹے کا رہ جائے گا، جبکہ ریلوے ٹرین 16گھنٹے لیتی ہے۔ اگر یہی صورتِ حال رہی اور حادثات بھی ریلوے سفر کا لازمی جزو بن گئے تو پھر کون ریل گاڑی میں بیٹھے گا، پھر تو پسنجر ٹرینیں ہی رہ جائیں گے جو چھوٹے چھوٹے شہروں کے درمیان چلیں گی …… وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ ریلوے کی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے فوری طور پر شیخ رشید احمد کو برطرف کریں، فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے نوجوان رکنِ اسمبلی اور ریلوے کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین فرخ حبیب اس وزارت کے لئے بہترین چوائس ہو سکتے ہیں،اُن کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے کارکردگی بھی مناسب رہی ہے، مگر ظاہر ہے شیخ رشید احمد کی وزارت میں مداخلت کرنا کسی خطرے سے خالی نہیں،کیونکہ وہ سیدھا عمران خان کو شکایت لگاتے ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سیاسی مصلحتوں اور نظریہئ ضرورت سے بالا تر ہو کر ریلوے کے حالات پر توجہ دیں اور اسے شیخ صاحب کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں،کیونکہ یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے اور آئے روز کے حادثات نے اس عظیم قومی ادارے کی ساکھ کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

مزید : رائے /کالم