پاکستانی میڈیاکو داخلی تنگنائے سے باہر نکلنا چاہیے!

پاکستانی میڈیاکو داخلی تنگنائے سے باہر نکلنا چاہیے!
 پاکستانی میڈیاکو داخلی تنگنائے سے باہر نکلنا چاہیے!

  


ہمارا میڈیا دن رات مخصوص سیاسی موضوعات کی جگالیاں کرتا رہتا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ (یاسانحہ) برپا ہو جاتا ہے جو سامعین و ناظرین کی غائت توجہ کا باعث بن جاتا ہے۔ پھر ابھی ایک سانحہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہے، دونوں میں سنسنی خیزی کا عنصر مشترک ہوتا ہے بلکہ گزشتہ سانحے کے مقابلے میں نئے سانحے کی سنسنی خیزی زیادہ ہوتی ہے اس لئے لوگ گزشتہ واقعے کو بھول کر نئے کی بھول بھلیوں میں کھو جاتے ہیں۔

یہ کھیل پاناما لیکس کے بطن سے پھوٹا اور دیکھتے ہی دیکھتے باقی تمام کھیلوں پر چھا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ اس کے کردار حکومت کے اہم ترین عہدوں پر فائز تھے۔ پاناما لیکس میں جن دوسری یورپین اقوام کے کرداروں کا ذکر تھا، انہوں نے فوراً فیصلہ کیا اور جان چھڑا لی۔ اس فیصلے کے بعد بھول کر بھی کسی چینل پر ان کا ذکر نہیں آیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان ممالک کے میڈیا ناظرین و سامعین اس واقعے کو بھلا کر ایسے نئے موضوعات کی طرف متوجہ ہو گئے جو قوم کی ہمہ گیر تعمیر میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔

مغربی ممالک میں گزشتہ ربع صدی میں ایسے ایسے حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے کہ چند روز تک ان پر بڑے زوروں کے بحث و مباحثے تو ہوئے لیکن پھر کسی نے بھول کر بھی ان کا نام نہ لیا۔ بعض مشرقی ممالک (چین،جاپان، انڈیا وغیرہ) میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ان ممالک میں سنسنی خیز واقعات و سانحات ضرور رونما ہوئے، ان پر دلیل بازیوں اور کاؤنٹر دلیل بازیوں کے طومار بھی باندھے گئے لیکن ان کا دورانیہ بہت مختصر تھا…… کس کس کا ذکر کروں۔ کالم ختم ہو جائے گا……

اب دوسری طرف پاکستان ہے کہ کسی سیاسی کیس کا غوغا میڈیا پر بلند ہوتا ہے اور کچھ دنوں تک اودھم سا مچا رہتا ہے اور جب اس کی لے آہستہ ہونے لگتی ہے تو اس سے کہیں بڑا ایک اور حیرت انگیز غوغا سامنے آ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں پانامہ لیکس کیس نے انجام تک پہنچتے پہنچتے کئی ماہ لگا دیئے جس کے نتیجے میں پاکستان کے حکومتی اور ریاستی افق پر تبدیلیوں کا تانتا بندھ گیا…… ایسا کسی اور مشرقی یا مغربی ملک میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ انڈیا میں اگر راجیو گاندھی پر کسی غبن یا کمیشن یا کک بیک کا الزام لگا بھی تو اس مقدمے نے انڈین پبلک کو مسلسل برسوں تک اپنا اسیر نہ بنایا بلکہ مجرموں کو سزا دی گئی، متعلقہ کرداروں نے عدالتی فیصلوں کا احترام کیا، معاملہ ختم ہو گیا اور سیاست اور حکومت آگے بڑھ گئی…… لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔

یہاں حکومت اور اپوزیشن کا بیانیہ میڈیاکے درجنوں چینلوں پر ٹاک شوز اور خبروں کا سامان بنتا ہے اور پھر کئی دنوں تک بنتا ہی چلا جاتا ہے۔ بات میں سے بات نکالی جاتی ہے، ہر بال کی کھال ادھیڑی جاتی ہے، اس کھال کو سٹف کرکے مختلف شکلیں بنائی جاتی ہیں اور پھر ان شکلوں پر سیاست کی جاتی ہے۔

نوازشریف (حسبِ ضرورت صاحب یا صاحبہ کا لاحقہ لگا لیجئے)کو سزا ہوئی۔ کبھی جیل میں گئے اور کبھی ضمانت پرباہر آئے، پھر اندر چلے گئے تو وکلاء حضرات نے اپنی جیبیں بھاری کرنے کے لئے ان کے لئے آئے روز ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا جس پر میڈیا کی چتر لیکھا سج گئی۔ اور اس طرح کرتے کرتے جب سارے قابلِ ضمانت کیسوں کے امکانی دریچے بند ہو گئے تو ایک نیا کیس تخلیق کر لیا گیا۔

رانا ثناء اللہ کا معاملہ آپ کے سامنے ہے۔ اس پر کئی روز تک بحث چلتی رہی۔ کئی بزرجمہروں کی دانشِ برہانی سوال کرتی رہی کہ ان کی گاڑی سے 15کلو ہیروئن کیسے برآمد کر لی گئی…… اینٹی نارکوٹکس فورس کا تو ایک مبسوط ایکٹ موجود ہے۔ اس کے بنانے والوں نے خوب سوچ بچار کے بعد اس کی ایک ایک شق کو ترتیب دیا اور پھر اسے ایکٹ کا حصہ بنایا۔ لیکن میڈیاکے اینکر پرسنز کے علاوہ درجنوں وہ لوگ جو سکرین کے پیچھے سکرپٹ اور مکالموں پر کام کررہے ہوتے ہیں انہوں نے اس ایکٹ کا کوئی سنجیدہ مطالعہ کئے بغیر اور ماضی کی قانونی اور عدالتی مثالوں کو پڑھے اور جانے بغیر اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے شوق میں ایسی ایسی در فطنیاں چھوڑیں کہ اللہ دے اور بندہ لے!

اور جب ”رانا ثناء اللہ کیس“ کچھ ٹھنڈا ہوتا نظر آیا اور ناظرین و سامعین ایک ہی بیانیہ تین درجن چینلوں پر سن سن کر اکتا گئے تو پھر بی بی مریم نواز نے ایک نیا دھماکہ کر دیا۔ ایک وڈیو ٹیپ منظر عام پر لائی گئی جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اور ان کے ایک ”دوست“ ناصر بٹ کو گفتگو کرتے دکھایا گیا۔ برسوں پہلے جسٹس قیوم کے ٹیلی فونک مکالمے کے بعد جج ارشد ملک کی ناقابلِ فراموش یہ آڈیو / ویڈیو ٹیپ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں ایک ایسا سنگ میل ہے جو بھلایا نہیں جا سکے گا۔

اس وڈیو پر ہنوز مباحث و دلائل اور کاؤنٹر مباحث و دلائل کا سلسلہ جاری ہے، خدا ہی جانتا ہے کہ یہ کہاں جا کر رکے گا۔ لیکن ایک بات جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ میڈیا کے وارے نیارے ہیں۔ تمام چینلوں کو کمرشلز مل رہی ہیں۔ ہر 15منٹ کی خبروں اور مباحثوں کے بعد 6منٹ کی بریک ہوتی ہے جس میں کمرشلز کی وہ رِیل ایک بار پھر چلا دی جاتی ہے جو ناظرین اور سامعین نے درجنوں بلکہ سینکڑوں بار دیکھی ہوتی ہے۔ یعنی نہ یہ کمرشل بند ہوتے ہیں اور نہ چینل سکڑتے ہیں!

آپ دیکھیں کہ پاناما لیکس سے نواز شریف کی سزا تک اور پھر نئے انتخابات، پی ٹی آئی کا اقتدار اور نون لیگ وپی پی پی قیادت کی پکڑ دھکڑ کے بعد بھی ابھی تک وہی شورِ قیامت برپا ہے۔ کبھی لوئر دیر میں بلاول جلسہ کرتے ہیں تو کبھی بی بی مریم منڈی بہاؤ الدین میں آدھی رات کے وقت نغمہ سرا ہو کر حکومت کے لتّے لے رہی ہوتی ہیں۔ دوسری طرف زرداری جیل کے اندر سے پیشگوئیوں کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں کہ حکومت کا جانا ٹھیر چکا ہے، زیادہ سے زیادہ 6ماہ نکال سکے گی اور بس…… دوسری طرف نون لیگی قیادت حکم لگا دیتی ہے کہ عمران نیازی دیکھو! مہنگائی کے جِن کو باہر نکالنے کی پاداش میں تمہاری واحد آپشن اب یہ ہے کہ استعفیٰ دو اور گھر چلے جاؤ۔

اس طرح کے اور ابھی راگ کی راگنیاں ابھی بند نہیں ہوتیں کہ ایک دوسرے راگ کا الاپ شروع ہو جاتا ہے۔سابق وزیراعظم کی بیٹی کہتی ہیں کہ اگر میرے ابو کو جیل میں ”پرہیزی کھانا“ نہ دیا گیا تو وہ جیل کے مین گیٹ کے سامنے بھوک ہڑتال کر دیں گی۔آپ کو یاد ہو گا کہ نون لیگ کے چوٹی کے رہنما بھی پہلے یہی کہا کرتے تھے کہ ہمارے قائد نوازشریف کو اپنے فیملی ڈاکٹر (عدنان) سے ملنے نہیں دیا جاتا،اس لئے اگر (خدانخواستہ) ان کو کچھ ہو گیا تو اس کی ذمہ داری عمران نیازی اور ان کی حکومت پر عائد ہو گی۔

لیکن اب نوازشریف کی صاحبزادی نے جو یہ دھمکی دے دی ہے کہ وہ کوٹ لکھپت جیل کے سامنے دھرنا دیں گی اور اس وقت تک بھوک ہڑتال جاری رکھیں گی جب تک ان کے والد کو گھر کا بنایا / پکایا ہوا کھانا بھجوانے کی اجازت نہیں دی جاتی تو سوال یہ ہے کہ دورانِ بھوک ہڑتال اگر خدانخواستہ مریم بی بی کو کچھ ہو گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے گی، اس سوال کا ہنوز کسی لیگی رہنما کی طرف سے جواب نہیں آیا۔

عدالت عالیہ نے آج یہ فیصلہ بھی سنا دیا ہے کہ نوازشریف کا فیملی ڈاکٹر ان کا معائنہ کر سکتا ہے لیکن اس دوران جیل کا ڈاکٹر بھی ساتھ ہو گا۔ڈاکٹر عدنان پر یہ پابندی بھی لگا دی گئی ہے کہ مریض کا معائنہ کرنے کے بعد باہر آکر کوئی بیان بازی نہیں کریں گے…… یہ دونوں فیصلے ایسے ہیں کہ ”مریض اور ڈاکٹر“ کے موضوع پر جو تنازعہ حکومت اور نون لیگ کے درمیان چل رہا تھا، اس کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے…… اور وہ درخواست جو مریم بی بی نے عدالت میں دی تھی کہ ان کو نوازشریف سے ملنے کے لئے ہفتے میں ایک دن کی بجائے دو دن مقرر کئے جائیں تو اس کی سماعت بھی ملتوی کر دی گئی اور اب یہ کیس ستمبر کی کسی تاریخ کو سنا جائے گا۔

میں سوچتا ہوں کہ اس درخواست پر بھی اگر جسٹس موصوف نے یہ فیصلہ سنا دیاکہ مریم بی بی بے شک ہفتے میں تین بار اپنے والد محترم سے (جیل میں) ملاقات کریں لیکن باہر آ کر کوئی ایسا بیان نہ دیں جو سیاسی بیان کے زمرے میں شمار ہوتا ہو۔ خیال ہے کہ عدالت کے اس فیصلے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رسہ کشی کی جو ہیجانی کیفیت ایک طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے اس میں خاصی کمی آ جائے گی۔

اگر میڈیا نے پاکستانی عوام کو ہمہ گیر آگاہی دینے کا کوئی فریضہ انجام دینا ہے تو اسے اپنے موجودہ کلچر سے باہر نکلنا ہو گا۔ یہ جاننا ہو گا کہ پوری قوم کو ایک خلفشاری کیفیت میں مبتلا کرکے یہ خدمت انجام نہیں دی جا سکتی۔ ترقی یافتہ معاشروں کے میڈیا ہاؤسز کو دیکھیں اور سنیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ ادارے داخلی اور متنازعہ موضوعات سے آگے اور باہر نکل کر علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پربھی عوام کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔ میڈیا اگر ایک رجحان ساز (Trend Setter) ادارہ بتایا جاتا ہے تو پاکستانی میڈیا کو بھی اپنی موجودہ سیاسی تنگنائے سے نکل کر دوسرے وسیع پانیوں اور سمندروں کا رخ کرنا ہو گا!

مزید : رائے /کالم