سوشل میڈیا اور اخبارات میں زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اور اس سے متعلقہ باز خبروں کو توڑ موڑ کر پیش کیا جا رہاہے:ترجمان گومل یونیورسٹی

سوشل میڈیا اور اخبارات میں زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اور اس سے متعلقہ باز خبروں کو ...

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ)ترجمان گومل یونیورسٹی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور اخبارات میں زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اور اس سے متعلقہ باز خبروں کو توڑ موڑ کر پیش کیا جا رہاہے۔وائس چانسلر گومل یونیورسٹی اور ایڈمنسٹریشن ہمیشہ زرعی یونیورسٹی کے قیام میں نہ صرف مدد گا ثابت رہے بلکہ ہمیشہ ہر فورم پر اس پراجیکٹ کو سپورٹ کیا اور ہمیشہ اسکو کامیاب ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ بعض نااہل لوگ اس بہت بڑے قومی منصوبے کو سیاست، لسانیت اور علاقائیت کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ کسی بھی ادارے کے لئے کسی بھی صورت ٹھیک نہیں۔ وائس چانسلر نے کئی بار ہر فورم پر بر ملائ اس بات کا اظہار کیا ہے کہ جو لوگ اس زرعی یونیورسٹی کے سیاہ اور سفید کے مالک بنائے گئے ہیں انہوں نے پچھلے تین سالوں میں ایک لیٹر کے سوا زرعی یونیورسٹی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ گومل یونیورسٹی پہلے ہی زرعی یونیورسٹی کو ایک ہزار کنال زمین دینے کی منظوری 99ویں سنڈیکیٹ میٹنگ میں دے چکی ہے اورزمین کے لئے جگہ کا تعین بھی ہو چکا ہے لیکن واضح رہے کہ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈہ سے اداروں کو نہیں چلایا جا سکتا ادارے قانون ضابطے اورمروجہ اصولوںپر چلتے ہیں اور جب بھی اداروںکو نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں دیا جائے تو ان اداروں کا وجود خطرے میںپڑجاتا ہے ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ گومل یونیورسٹی اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے کی پابند ہے ڈاکٹر محمداعجاز پرو وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی اور پروفیسر ڈاکٹر جمیل پراجیکیٹ ڈائریکٹر لکی یونیورسٹی اب ہمارے ملازم نہیں رہے لہٰذامالیاتی اصول کے مطابق کسی بھی صورت میں گومل یونیورسٹی ان کو تنخواہ نہیں دے سکتی مزید وضاحت کے لئے تنخواہ والے مسئلہ کو ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ماہرانہ رائے کیلئے بھیج دی گئی ہے ترجمان نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ایڈمنسٹریشن زرعی یونیورسٹی کی کامیابی کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ کوئی بھی حل طلب مسئلہ ہوا تو اس کو باہمی رضا مندی اور خوش اسلوبی کے ساتھ حل کیاجائے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...