تقسیم شدہ نظام تعلیم کے قوم پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں،شوریٰ ہمدرد

تقسیم شدہ نظام تعلیم کے قوم پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں،شوریٰ ہمدرد

لاہور(پ ر)کسی بھی ملک کی ترقی کا راز تعلیمی و شعوری ہم آہنگی پر مشتمل ہوتا ہے اگر نظام تعلیم ہی تقسیم کا شکار ہو جائے تو اس کے سنگین اثرات پوری قوم پر مرتب ہوتے ہیں اورملک وقوم میں ملی یکجہتی کا شدید بحران پیدا ہو جاتا ہے،بد قسمتی سے آج تک اس طبقاتی اور انگریزوں کے بنائے ہوئے نظام تعلیم کو یکساں اورجدید نظام تعلیم میں بدلنے کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی ان خیالات کا اظہار گذشہ روز شوریٰ ہمدرد کے اجلاس سے”ملی یکجہتی اور نظامِ تعلیم“ کے موضوع پر ہمدرد مرکز لاہورمیں مقررین نے کیا۔ اجلاس میں بشریٰ رحمن،قیوم نظامی،ڈاکٹر رفیق احمد،صدر آل پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ کاشف ادیب جاویدانی،طاہر یوسف،امجد علی،پروفیسر خالد محمود عطاء، میجر(ر)صدیق ریحان، میجر (ر) خالد نصر، پروفیسر نصیر اے چوہدری،راشد حجازی، شعیب مرزا،رانا امیر احمد خان،طفیل اختر،ثمن عروج،فریاد علی، شائستہ ایس حسن،سید علی بخاری و دیگرنے شرکت کی۔ مقررین نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ملی یکجہتی، ترقی اور خوشحالی یکساں نظام تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔

،ریاستی سطح پر معیار تعلیم بہتر، امتحانی نظام اور بورڈ کے معاملات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے اورایسا نظامِ تعلیم تشکیل دیا جائے جسمیں امیر غریب دونوں کو ایک جیسی تعلیم میسر ہو،اردومیڈیم، انگلش میڈیم اوراے لیول،او لیوم کی سوچ کو ختم کیا جائے،قومی زبان اردو کو اولین ترجیحات پر رکھا جائے،ایک نظام تعلیم کے نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی نظام کو رول ماڈل کے طور پر اپنایا جائے،تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کرام کا انتخاب کیا جائے اور انکی تعداد کو بھی پورا کیا جائے،پرائیویٹ اسکولز میں فیسوں اور سلیبس کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، اے لیول،او لیول جیسے طبقاتی تعلیمی نظام کے ذریعے ہمارے ثقافت کو تبدیل کیے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے ایسے میں اہم مشائخ کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نونہالان اپنے مذہبی،ثقافتی اورتاریخی حقائق سے آشنا ہوں،حکومتی سطح پر اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے کہ بچوں کو اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک معزز اور مفید شہری بنانا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...