صادق آباد ، مسافر ٹرین کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی ، 21افراد جاں بحق 95زخمی

  صادق آباد ، مسافر ٹرین کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی ، 21افراد جاں بحق 95زخمی

ملتان ‘ بہاولنگر ‘ صادق ;200;باد ‘ رحیم یار خان،لاہور (نمائندہ خصوصی ‘ نمائندگان،کرائم رپورٹر، لیڈی رپورٹر) صادق آباد میں لاہور سے کوءٹہ جانے والی اکبربگٹی ایکسپریس مین لائن سے ہٹ کر ولہار اسٹیشن کی لوپ لائن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرانے کے المناک حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی جبکہ 95مسافر زخمی ہیں ۔ جاں بحق افراد میں ایک ہی خاندان کے چار افراد شامل ہیں ۔ رحیم یارخان اور صادق اباد کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔ حادثے کے باعث ٹرین کی پانچ بوگیاں تباہ ہوگئیں جبکہ کئی شدید متاثر ہوئیں ، بعض مسافر متاثرہ بوگیوں میں پھنسے رہے ۔ جنہیں کئی گھنٹے کی تاخیرکے بعدنکالاجاسکا ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹرین حادثہ سگنل سسٹم کی خرابی کے باعث پیش آیا، حادثے کے بعد کراچی سے ٹرینوں کی روانگی بھی تاخیر کا شکار ہے ۔ ٹرین حادثے کے جاں بحق افراد میں ایک ہی خاندان کے چار افراد شامل ہیں ، شاہ کوٹ کے ڈاکٹر بشیر، ان کی اہلیہ اور دو بیٹے حادثے میں جاں بحق ہوئے، جبکہ ایک بیٹا اور بیٹی زخمی ہیں ۔ حادثے کا شکار اکبربگٹی ایکسپریس کی بوگیاں کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالا گیا، امدادی سرگرمیوں کے لیے پاک فوج کا دستہ ولہاراسٹیشن پہنچ گیا ۔ ایڈیشنل جنرل منیجر کا کہنا ہے کہ حادثے کی جگہ پر کوئی زخمی اور مسافر موجود نہیں ، سڑکیں ٹوٹی ہونےکے باعث امدادی ٹیموں کو حادثے کی جگہ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ حادثہ کے بعد تحصیل ہسپتال صادق آباد میں زیر علاج زخمی مسافروں کے نام شاہ نواز ولد محمد فیاض بہاولپور ،محمد نواز ولد نزیر احمدخان پور ،عبدالخالق ولد بشیر احمدخانپور،محمد اکرم ولد عبدالخالق خانپور،محمد اقبال ولد محمد حمید خانپور ،ممتاز ولد خوشی محمد جھنگ ،فرحان ولد منظور احمد، اکرم ولد مختار احمدجھنگ ،محمد ندیم ولد عبدالحمید خانپور، ثقلین ولد منظور،حیدر علی ولد سکندر،خانپور،سعید ولد اظہر دین خانپور، لطیف ولد غلام شبیر،بلال ولد غلام محمد،عابد حیسن ولد خان محمد، ناصر احمد ولد ارسلان فیصل آباد،زین ولد گل محمد ،اختری خاتون ولد سیف نوشہرہ ،محمد اکمل ولد جند وڈارحیم یار خان ،جمشید ولد فا حیسن بہاولپور،اسد ولد ناصر خان فیصل آباد ، علی اصغر ولد قربان فورٹ عباس ،یو نس ولد منگل ،اجمل ولد عبدالرشیدفورٹ عباس،ارشد ولد ریاست گھوٹکی ،اجمل ولد ریاست ،گھوٹکی، اکمل ولد ریاست ،گھوٹکی ،عبدالرشید ولد ریاست گھوٹکی ،جہانگیر ولد صلا الدین کوءٹہ ،شعیب ولد امدادلاہور، عمران ولد اسحاق لاہور ،حسنین ولد فہیم خانپور ،نورولد فہیم خان پور،لیاقت ولد امام بخش رحیم یار خان علی حسن ولد محمد فہیم خانپور،محمد اسلم ،ولد کریم بخش خانپور،فرحان ولد زاہد ،فیصل آباد، منیب ولد عظمت , نیاز ولد سلطان شاہ کوٹ, سبنل ولد بشیراحمد شاہ کوٹ ،شابانہ ولد فتح محمد شکار پور، غلام علی ولد فہیم شکار پور،شاہزیب یب ولد خادم حسین فیصل آباد،ندیم ولد یامین شکار پور،شازیہ ولد سجاد ،جمیل ولد اللہ وڈایآ خانپور ، انور ولد فیاض خانپور،نور حسن ولد انور خانپور، عائشہ ولد انور خانپور، دل آواز ولد انور خانپور، ارشاد احمد ولد شفیع میر پور، ارینہ ولد قمر سندھ ،ا عظم ولد عاشر ناروال جبکہ جاں بحق مسافروں میں 15مرد،4خواتین2بچے شامل ہیں ایک جاں بحق مسافرکی شناخت نہ ہوسکی ہے جس کوشیخ زیدہسپتال رحیم یارخان کے سردخانہ میں منتقل کردیاگیاہے جاں بحق ہونے والے دیگر20مسافروں کی میتیں ان کے ورثاکے حوالے کردی گئیں ہیں ۔ جبکہ وزیر ریلوے نے تحقیقات کا حکم دیدیا ہے ۔ ایڈیشنل جنرل مینیجر ریلوے زبیر شفیع کے مطابق اکبر بگٹی ایکسپریس کے ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹینٹ ڈرائیور اسپتال میں زیر علاج ہیں ۔ زبیر شفیع نے بتایا کہ اکبر بگٹی ایکسپریس کی 10 میں سے 4 بوگیاں پٹری سے اتری ہیں ، حادثے کے بعد اپ ٹریک پر ٹرینوں کی آمدو رفت روک دی گئی ۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ حادثہ صبح 4 بجے کے قریب پیش آیا ہے، ٹرین میں سوار بیشتر مسافر سو رہے تھے، گاڑی کو حادثہ کانٹا تبدیل نہ کرنے کی صورت میں پیش آیا ، اسٹیشن والے اپنی ڈیوٹی نہیں کر رہے تھے ورنہ جانی نقصان نہیں ہوتا ۔ عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ ہ میں اپنی مدد آپ ہی بوگیوں سے نکلنا پڑا، حادثہ پیش آنے کے کافی دیر بعد ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی تھی ۔ دوسری جانب ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جس کے مطابق ٹرین حادثہ سگنل سسٹم کی خرابی کے باعث پیش آیا، ولہار کے اسٹیشن ماسٹر نے اکبر بگٹی ایکسپریس کو مین لائن کا گرین سگنل دیا، اسٹیشن کا سگنل عملا لوپ لائن پر ہی رہا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور بریگ لگاکر پیچھے بھاگ گئے، ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹنٹ ڈرائیور فرمان الہیٰ شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہیں ۔ اپوزیشن نے ٹرین حادثوں پر وزیر ریلوے شیخ رشید کے استعفےاور ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاری کا مطالبہ کردیا ۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹرین حادثے پر اظہار افسوس کیا اور کہاکہ حادثوں پر استعفوں کی عمران خان نے بہت مثالیں دیں ، اب اپنے وزیر سے استعفیٰ لیں گے;238;انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کا وزارت سے رومانس اور ٹرین حادثات نہ جانے کتنی زندگیاں نگلتا چلا جائے گا، کھڑی بوگیوں کو ملاکر نئی ٹرینیں چلائی جارہی ہیں ۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ شیخ رشید اور عمران خان صرف پوائنٹ اسکورنگ کرر رہے ہیں ، ملک بھی محکمہ ریلوےکی طرح چلایا جارہا ہے، مشرف کے زمانے میں بھی شیخ رشید نے ریلوے کو تباہ کیا ۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم استعفیٰ تو نہیں لے سکتے، ریلوے کسی اْس شخص کودیں جس کے پاس وزارت کے لیے وقت ہو، وزیراعظم کو چاہیے وہ جعلی کارکردگی کی حوصلہ شکنی کریں ۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ٹرینوں کے حادثات اور اس میں ہلاکتوں میں اضافہ پریشان کن ہے، حادثے کے اسباب و محرکات سامنے لاکر ذمہ داروں کا تعین کیاجائے ۔ دوسری طرف وزیر ریلوے شیخ رشید نے اکبر ایکسپریس حادثے کو انسانی غفلت کا نتیجہ قرار دے دیا ۔ شیخ رشید نے ٹرین حادثے پر اظہار افسوس کیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو 15 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ۔ شیخ رشید نے کہا کہ حادثے کے شدید زخمیوں کو 5 لاکھ اور معمولی زخمیوں کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے ۔ وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اکبر ایکسپریس غفلت کے باعث حادثے کا شکار ہوئی ہے، حادثہ انسانی غلفت کا نتیجہ ہے، اس میں کانٹے والا ملوث ہے جب کہ ٹریک کی صورتحال تسلی بخش نہیں تاہم حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے میں بہت کرپشن ہے جسے ٹھیک کرنے میں وقت لگتاہےوزیراعظم عمران خان نے صادق ;200;باد ٹرین حادثے پر اظہار افسوس کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں ، سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹویٹر پر جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے صادق ;200;باد ٹرین حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں ، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں ۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ کئی عشروں سے ریلوے کے انفراسٹرکچرکونظراندازکیا گیا ۔ انہوں نے انفرا اسٹرکچربہترکرنے اور سیفٹی اسٹینڈرڈ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریفنے رحیم یار خان کے قریب ولہار ریلوے اسٹیشن پر ٹرین حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، شہباز شر یف نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرینوں کے پے درپے حادثات انتہائی تشویشناک ہیں ،کمزور ریلوے ٹریک اور ناقص منصوبہ بندی حادثات کا باعث بن رہے ہیں جو افسوسناک امر ہے، انہوں نے کہا کہ حادثے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف کاروائی کی جائے،اللہ تعالی مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل دے ۔ صادق آباد مےں کبرایکسپریس حادثے کی ابتدائی رپورٹ منظر عام پر ;200; گئی ۔ ذراءع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کانٹابروقت نہ بدلنے کے باعث حادثہ پیش ;200;یا،کانٹابدلے بغیر ہی سٹیشن ماسٹرکی جانب سےٹرین ڈرائیورکوسگنل دےدیاگیا ۔ ذراءع کاکہناہے کہ ڈرائیور کو سگنل کھلا ملا، سگنل کھلا ملنے پرمین لائن پرٹرین پوری رفتارسے گئی ۔ کانٹے پرپہنچ کرٹرین لوپ لائن پرکھڑی مال گاڑی سے ٹکراگئی ۔ ذراءع کے مطابق اسٹیشن ماسٹر کا ریکارڈ ظاہر کررہا ہے کہ سگنل تھرو درج ہے لیکن کیبن میں سے کانٹا تھرو نہیں بدلا گیا ۔ اپنی کوتاہی کے سبب اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹرموقع سے فرارہوگیا

ٹرین حادثہ

مزید : صفحہ اول


loading...