ڈی جی ٹی او کے فیصلہ نے ایف پی سی سی آئی کی دُکانداری بند کروادی 

ڈی جی ٹی او کے فیصلہ نے ایف پی سی سی آئی کی دُکانداری بند کروادی 

کراچی(اکنامک رپورٹر)ایف پی سی سی آئی کے سابقہ نائب صدر،گروپ لیڈر اٹک چیمبرآف کا مرس اور یوبی جی گروپ کے رہنما مر زا عبد الرحمان نے کہا ہے کہ گز شتہ کئی سالوں سے یو بی جی کی کچن کیبنٹ نے ایف پی سی سی آئی میں تاجروں سے مختلف ایوارڈز کی تقسیم کے بہانے رقم بٹورنے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا جس کو روکنے کے لئے مرزا عبد الرحمان نے مختلف چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے تعاون سے DGTOکو خط لکھاتھا کہ ایف پی سی سی آئی میں بر سراقتدار یو بی جی گروپ پاکستان کی تا جر تنظیموں سے رقم بٹور رہاہے اور مختلف بہا نوں سے ایوارڈ کا انعقاد کرکے کروڑوں روپے حکومت اور تاجروں سے نا جا ئز وصول کر رہا ہے۔جن میں سے اکثریت دو نمبرطریقوں سے ایوارڈ لینے والوں کی ہوتی ہے جو کا رکردگی کے بجائے رقم خرچ کرکے ایوا رڈ وصول کرکے، مختلف رسالوں، اخبارات اور میڈ یا میں غلط تشہیر کے ذریعے اپنے پرا ڈکٹ کی امپورٹ و ایکسپورٹ کے غلط اعدادوشمار ظاہر کرکے جعلی مشہوری کے ذریعہ صا رفین اورعوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

حا ل ہی میں وز یر اعظم پا کستان نے ملک میں پہلی مرتبہ 150تاجروں کو ان کی اعلیٰ کا رکردگی پر بلا معا وضہ ایوارڈ ز سے نواز ا، حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ایف پی سی سی آئی جو ہر سال ایوارڈز کا انعقا د کر رہی تھی اور جن تا جروں کو ایوا رڈز سے نوا ز رہی تھی ان میں سے کسی کو بھی ایوارڈ نہیں ملا۔ جس سے یہ صا ف ظا ہرہوتا ہے کہ ایف پی سی سی آئی میں بر سراقتدار یو بی جی کی کچن کیبنٹ ایوارڈز کی بندر با نٹ صرف اپنے مفاداور اللّے تللّے پورے کرنے کے لئے کر رہی تھی۔ ان تمام معا ملا ت پر DGTOنے ہما رے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ صاد ر کیا کہ ایف پی سی سی آئی پہلے اپنی جنرل باڈی کے تمام ارا کین کو اپنے اعتماد میں لے کر ایک کمیٹی بنا ئے جو شفاف طر یقہ سے ایوارڈ دینے کے لئے نا جا ئز رقم کی وصولی نہ کرے اور ایوا رڈز حقیقی معنوں میں کاروبا ر سے منسلک اور بہترین ایکسپورٹرز کو دیئے جا ئیں۔ ایوارڈز کی تقریب کا انعقا د جنرل باڈی، چیمبرز اور ایسوسی ایشنز سے منظوری کے بعدکیا جا ئے تاکہ بر سر اقتدا ریوبی جی ہر سال ووٹوں کی خریدو فروخت کے غلط راستہ سے اقتدا ر میں نہ آسکے۔ اس فیصلہ کا اثر پا کستان کے اُن چیمبرز پر بھی پڑ ے گا جو کہ تا جروں سے نا جا ئز رقم بٹور کر با ہر ممالک میں فیشن شو منعقد کرکے تا جروں کو لو ٹتے ہیں اور ملک کا قیمتی سرمایہ بھی ضا ئع کر تے ہیں۔ان ایوارڈز سے پا کستان کی معیشت پر کو ئی اچھا اثر نہیں پڑتا ہے۔ صرف غیرملکی بے مقصد دوروں سے ملکی رقوم با ہر چلی جا تی ہیں۔ حکومت کا یہ اقدام قابل ستا ئش ہے کہ وہی شخص بیرون ملک سفر کرے گا جو ٹیکس نیٹ میں شامل ہو گا۔DGTOکے اس فیصلے سے یو بی جی کی صفوں میں صفِ ما تم بچھ گئی ہے اور ان کی نا جا ئز آمدنی کا سلسلہ رک گیا ہے۔ 

مزید : کامرس