” میں اسامہ بن لادن کا انٹرویو کر رہا تھا کہ وہاں ایک گارڈ آیا اور کہنے لگاکہ فوری یہاں سے نکلو لیکن اس کے بعد ۔۔۔“ حامد میر نے پہلی مرتبہ بڑا انکشاف کر دیا

” میں اسامہ بن لادن کا انٹرویو کر رہا تھا کہ وہاں ایک گارڈ آیا اور کہنے لگاکہ ...
” میں اسامہ بن لادن کا انٹرویو کر رہا تھا کہ وہاں ایک گارڈ آیا اور کہنے لگاکہ فوری یہاں سے نکلو لیکن اس کے بعد ۔۔۔“ حامد میر نے پہلی مرتبہ بڑا انکشاف کر دیا

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر کا شمار پاکستان کے صف اول کے صحافیوں میں ہوتا ہے کیونکہ وہ ماضی میں ایسے کارنامے انجام دے چکے ہیں جو کوئی نہیں دے سکا ہے تاہم انہوں نے ایک فیس بک پیج کیلئے خصوصی انٹرویو دیاہے جو کہ انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکاہے ۔ تفصیلات کے مطابق حامد میرنے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ” میں نے اسامہ بن لادن کے تین انٹرویوز کیے جن میں سے آخری انٹرویو نومبر 2001 میں کیا ، اس انٹرویو کی تصدیق امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری نے کانگرنس میں ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے کر دی تھی ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نومبر 2001 میں کابل میں حامد میر کو اسامہ بن لادن نے انٹرویو دیا اور وہ اس میں بھی بچ نکلا ہے“ ۔حامد میر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ”ابھی انٹرویو ختم نہیں ہواتھا کہ وہان پر ان کے گارڈز آئے اور کہا کہ ہم نے ایک خاتون جاسوس کو پکڑا ہے جس نے برکھا پہن رکھا تھا اور اس کے قبضہ سے ایک وائرلیس بھی برآمد ہواہے ، ممکنہ طور پر اس نے لوکیشن لیک کر دی ہو گی آپ جلدی یہاں سے نکلیں ، بس پھر میری اور اسامہ بن لادن کی وہاں سے دوڑ لگ گئی اور ابھی ہمیں وہاں سے نکلے تین یا چار منٹ ہی ہوئے تھے کہ اس مقام پر ایک راکٹ آ کر گرا ۔ “ سینئر صحافی کا کہناتھا کہ ہو سکتا تھا کہ میں آپ کے سامنے آج نہ بیٹھا ہوتا ، جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ انٹرویو نہیں ہوا تھا وہ 1997، 1998 اور 2001 میں بھی کہتے تھے ، وہ کہتے رہیں ، جب اسامہ بن لادن زندہ تھا تو اس نے کبھی بھی اس کی تردید نہیں کی تھی ۔

مزید : قومی