جج ارشد ملک کو ہٹانے کے بعد نواز شریف کے خلاف فیصلوں کا کیا ہو گا؟ معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ نے ایسی بات بتا دی کہ (ن) لیگ کی خوشی کی انتہاءنہ رہے

جج ارشد ملک کو ہٹانے کے بعد نواز شریف کے خلاف فیصلوں کا کیا ہو گا؟ معروف قانون ...
جج ارشد ملک کو ہٹانے کے بعد نواز شریف کے خلاف فیصلوں کا کیا ہو گا؟ معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ نے ایسی بات بتا دی کہ (ن) لیگ کی خوشی کی انتہاءنہ رہے

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف سینئر قانون دان سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے سامنے ہونے والی کارروائی سے متعلق سمجھا گیا کہ وہ شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اترتی تو فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا جا سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آصف علی زرداری کیخلاف 2001ءمیں فیصلہ آیا تھا جس میں ان کیخلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کو کالعدم قرار دینے کے بعد بھی دوبارہ کارروائی کا حکم دیا گیا تھا اور اب اگر جج ارشد ملک کے سامنے ہونے والی کارروائی مشکوک قرار پاتی ہے یا ان کا کردار مشکوک قرار پاتا ہے اور یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ تمام کارروائی شفافیت کے اس معیار پر پورا نہیں اترتی جو عدالتی عمل کیلئے ضروری ہے تو اس صورت میں تمام کارروائی کو حذف کر کے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا جا سکتا ہے اور عام طور پر ایسی صورت میں دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جج ارشد ملک کے معاملے میں ان کے خط، بیان حلفی وغیرہ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی بریت کی درخواست زیر سماعت ہے تو بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ اس معاملہ عدالت میں چلے گا اور وہاں پر ہی شہادت اور گواہی طلب کی جائے گی، اس معاملے کو پرکھا جائے گا، اس یہ تمام معاملہ عدالتی ہو گیا ہے اور عدالت میں ہی چلے گا۔

مزید : قومی