’’ارشد ملک کی سعودی عرب میں شریف خاندان کے اہم افراد کے ساتھ ملاقاتوں کی دو ٹیپیں اور بھی ہیں جن میں ۔ ۔ ۔‘‘ وہ کیا منصوبے بنا رہے تھے؟ سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کردیا

’’ارشد ملک کی سعودی عرب میں شریف خاندان کے اہم افراد کے ساتھ ملاقاتوں کی دو ...
’’ارشد ملک کی سعودی عرب میں شریف خاندان کے اہم افراد کے ساتھ ملاقاتوں کی دو ٹیپیں اور بھی ہیں جن میں ۔ ۔ ۔‘‘ وہ کیا منصوبے بنا رہے تھے؟ سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کردیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) احتساب عدالت نمبر 2 کےجج ملک ارشد کو عہدے سے ہٹانےکے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے وزارت قانون کو خط لکھ دیا ہے اور اب ان کی جگہ پر نئے جج کی تعیناتی کا فیصلہ وزارت قانون کرے گی لیکن ایسے میں سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ فاضل جج کی سعودی عرب میں شریف خاندان کے ساتھ  ملاقاتوں کی مزید دو ٹیپیس بھی موجود ہیں ۔ روزنامہ جنگ میں اپنے کالم میں حامد میر نے لکھا کہ ’’  1973کے آئین کی دفعہ 209کے تحت جج جس ضابطہ اخلاق کے پابند ہیں اس کے مطابق ان میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہونا چاہئے، زبان کا سچا، محتاط اور بےداغ کردار والا ہونا چاہئے، جج کو اپنے اور دوسروں کے ایماپر مقدمے بازی میں ملوث نہیں ہونا چاہئے، جج کو ایسے مقدمے کی سماعت سے پرہیز کرنا چاہئے جس میں اس کا یا اس کے کسی رشتہ دار کا مفاد ہو، اسے سرکاری سرگرمیوں میں حصہ لینے سے پرہیز کرنا چاہئے اور ایک بار اٹھائے ہوئے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نیا حلف نہیں اٹھانا چاہئے۔ پاکستانی ججوں کا ضابطہ اخلاق اس وقت اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کو کسی بھی نئے حلف سے روکتا ہے اور خدانخواستہ 1973کا آئین معطل ہو جائے اور ایک نیا پی سی او آجائے تو موجودہ ججوں کی طرف سے نیا حلف اٹھانا ایمان فروشی قرار پائے گا۔ کنور انتظار محمد خان نے پاناما کیس کا بھی بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے اور اسے پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین عدالتی تماشا قرار دیا ہے حالانکہ بات صرف اتنی تھی کہ نواز شریف نے اپنا اقامہ چھپایا اور مریم نواز کو زیرِ کفالت بچوں میں شامل کیا حالانکہ وہ بھی ایک آف شور کمپنی کی مالک تھیں۔ مسلم لیگ(ن) کے حامی مصنف کی رائے سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس رائے سے انکار نہیں کر سکتے کہ جو حکمران عدلیہ پر ناجائز دبائو ڈالتے ہیں بعد ازاں ان کے خلاف عدلیہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ مریم نواز نے احتساب عدالت کے ایک جج ارشد ملک کی آڈیو اور وڈیو ٹیپوں کو سامنے لاکر دعویٰ کیا ہے کہ ان کے والد نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ یہ ویسی ہی ناانصافی ہے جیسی ناانصافی نواز شریف نے جسٹس ملک قیوم کے ذریعہ محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے ساتھ کرائی تھی۔ ارشد ملک کی سعودی عرب میں شریف خاندان کے اہم افراد کے ساتھ ملاقاتوں کی دو ٹیپیں اور بھی ہیں جن میں خاندان سمیت پاکستان سے فرار ہونے کے منصوبے بنارہے ہیں۔ ان ٹیپوں میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام آئیں گے اس لئے اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہئے تاکہ عدلیہ کی تضحیک نہ ہو۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے جج بھی گزرے ہیں جنہوں نے پی سی او پر حلف لینے سے انکار کیا اور ان میں موجودہ عدلیہ کے جج بھی شامل ہیں جن پر ہمیں فخر ہے۔ قوم یہ امید رکھتی ہے کہ موجودہ عدلیہ کے بااصول جج اپنے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی حاضر سروس یا ریٹائرڈ ساتھی کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے اور کنور انتظار محمد خان کی ایک زیرِ تکمیل کتاب کی اس فہرست میں شامل نہیں ہوں گے جسے آئین سے غداری کرنے والوں کا قبرستان قرار دیا گیا ہے‘‘۔

مزید : قومی