’’ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو دراصل جسٹس آصف سعید کھوسہ کے حکم پر ہٹایا گیا اور اب وہ چاہتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔‘‘ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

’’ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو دراصل جسٹس آصف سعید کھوسہ کے حکم پر ہٹایا ...
’’ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو دراصل جسٹس آصف سعید کھوسہ کے حکم پر ہٹایا گیا اور اب وہ چاہتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔‘‘ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے ویڈیو سکینڈل کی وجہ سے خبروں میں آنیوالے احتساب عدالت کے جج ملک ارشد کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا جس کی عدالت عالیہ کے ترجمان نے بھی تصدیق کردی اور اب سینئر صحافی احمد نورانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ارشد ملک کو دراصل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کے حکم پر ہٹایا گیا۔ 

ٹوئٹر پر احمد نورانی نے لکھا کہ ’’ذرائع کےمطابق چیف جسٹس ویڈیوکے جینئون ہونےپرقائل ہیں اورعدلیہ کی عزت بچانےکیلیےری-ٹرائل چاہتےہیں مگراس دوران نوازشریف کی رہائی نہیں چاہتے،قانونی طورپر ری-ٹرائل کی صورت میں گرفتاررکھناممکن نہیں،اب یہی مسئلہ ہے کہ کریں تو کیا کریں‘۔

اپنی ایک اور ٹوئیٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’’اگرجج غلط ثابت ہوگیاتواسکادیاگیافیصلہ کیسےدرست ہوسکتاہے؟لگتایوں ہےکہ کوئی پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتاہے کہ  اس ظلم کودیکھتےہوئےلوگ نکل کھڑےہوں اورکورٹس اوران کورٹس کوکنٹرول کرنےوالوں کاگھیرائوکریں, میرےخیال میں عوام کواب بھی عدم تشدداورقانونی راستہ ہی اپناناچاہیے‘‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’اب بات بالکل سادہ ہے.ثابت ہوگیاکہ ارشدملک نےفیصلہ پریشرمیں آکربلیک میل ہوکرکیا.مگر انکو ہٹانےسےکیا فائدہ ہوگاطجب تک ان پر پریشر ڈالنے والے دوججز جن کا انہوں نے اپنی ویڈیوز میں ذکر کیااوران سب کو کنٹرول کرنےوالےآبپارہ کےبدنام زمانہ کردارکوباقائدہ سزانہیں دی جاتی؟‘‘۔

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’’جب یہ ثابت ہوچکاکہ ویڈیوزاورالزامات بالکل درست ہیں توصدرمملکت کوفورا دبائوڈالنےوالےسپریم کورٹ کےجج جسٹس اعجازالحسن کےخلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کوبھیجناچاہیے, ثاقب نثار کوگرفتارہوناچاہیےاوریہ کھلواڑ کرنےاورانتخابات میں دھاندلی کرنےوالےآبپارہ کےبدنام زمانہ کردارکوسزادینی چاہیے‘‘۔

مزید : قومی