چینی ترقی کا راز کہاں چن دیا گیا؟

چینی ترقی کا راز کہاں چن دیا گیا؟
چینی ترقی کا راز کہاں چن دیا گیا؟

  


پی ٹی وی کی اینکر کومل سلیم کو دیوار چین دیکھنے کا اتنا شوق تھا کہ وہ سب سے پہلے تیار ہو کر محترمہ صغریٰ صدف کے ساتھ ناشتہ کے بعد بس میں بیٹھ چکی تھی۔میں نے پہلے بھی یہ عجوبہ دیکھا ہوا ہے مگر دوبارہ دیکھنے کا شوق پہلے جیسا ہی ہے۔ سلمان ملک آج کچھ زیادہ ہی چہک رہا ہے،آصف عفان اور میاں سیف ا لرحمان بھی حسب حال موڈ بنا کر بیٹھے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کی آواز سجاد جہانیہ بھی سنجیدگی کا گھونگٹ اتار چکے ہیں۔ بس میں بیٹھنے کے بعد ہنستے ہوئے اپنی بیٹی کا میسج مجھے دکھا رہے تھے ،،بابا ہم نے آج دال چاول کھائے ہیں اور آپ نے کھائے ہوں گے کیڑے مکوڑے اور چھپکلیاںــ،، میں سوچ رہا تھا کہ دنیا کے سات عجوبوں میں شامل دیوار چین شائد واحد عجوبہ ہے جو اپنی اصل حالت میں آج بھی سر اٹھائے دنیا کو محو حیرت کرتا ہے ورنہ اکثر عجوبے اپنا وجود ہی کھو چکے ہیں۔انقلابات زمانہ نے جنگوں کے طور طریقے بدل ڈالے،تہذیب و تمدن نے دوسرے ملکوں کو تاراج کرنے کی رسم بھی بدل ڈالی جس کے بعد اس دیوار کی جنگی اہمیت تو ختم ہو گئی مگر ایک عجوبہ روزگار اور انسانی ہاتھوں کی مہارت کے حوالے سے یہ دیوار اب بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

چین جائیں اور گریٹ وال نہ دیکھیں دورہ ادھورا سا رہتا ہے، لگتا ہے چینی ترقی کا راز اس عظیم دیوار میں چن دیا گیا ہے۔ چینی آغاز آفرینش سے ہی مشکل پسند ہیں اور چین جانا کسی دور میں ایک اڈونچر ہوا کرتا تھا ،اسی لئے دو ہزار سال پہلے بھی عرب میں ضرب المثل تھی کہ’’علم حاصل کروخواہ تمہیں چین جانا پڑے‘‘ منجمند سمندر،برفیلی چوٹیوں میں گھرے چین کو جو زمینی راستہ منگولیا کی طرف سے دیگر دنیا سے ملاتا تھا وہ خطرات سے پر تھا۔منگول ہر وقت شب خون مارنے کو تیار رہتے تھے،لوٹ مار ان کا وطیرہ تھا،اس مستقل خطرے سے نبٹنے کیلئے حکمران خاندان منگ نے قریباْڈھائی تین سو سال قبل مسیح اس دیوار کی تعمیر کا قصد کیا تاکہ منگولوں کے خطرہ سے محفوظ رہا جا سکے۔یہ دیوار اپنی ساخت ،محل وقوع،بلندی،کشادگی اور مضبوطی کے حوالے سے فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے،اس دیوار کی لمبائی 6ہزار 4سو کلو میٹر یعنی 4ہزار میل کے برابر ہے،پتھریلے پہاڑوں کو کاٹ کر پتھر کی سلوں کی اس دیوار کی تعمیر میں کوئی مشینری استعمال نہیں کی گئی،بلکہ یہ سرا سر انسانی ہاتھوں کا کمال ہے۔

چینی ایک عظیم قوم ہے جو صدیوں قبل بھی تہذیب و ثقافت سے آشنا اور طاقت و فن کی دلدادہ تھی،دیوار چین بھی اس کی ایک مثال ہے،مختلف ادوار میں اس کی لمبائی مختلف بیان کی گئی ہے،اس کے باوجود آج بھی دنیا کی یہ سب سے طویل،بلند اور مضبوط دیوارہے،اس دیوار کو دیکھ کر چینی قوم کے عزم و حوصلے کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے،ہزاروں سال قبل جس قوم کی قیادت نے ہزاروں میل لمبی یہ دیوار صرف انسانی ہاتحون کی مدد سے تعمیر کر ڈالی آج کے ترقی یافتہ دور میں اس کا مقابلہ کیونکر کیا جا سکتا ہے۔

یہ دیوار چونکہ جنگی نقطہ نظر سے بنائی گئی تھی لہذْا ایسے تمام انتظامات کو یقینی بنایا گیا جن کے تحت دشمن کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھی جا سکے  اور کسی در اندازی کا موثئرجواب بر وقت دیا جا سکے،ان مناظر کودیکھنے کے بعد جو تصوراتی کیفیت ابھرتی ہے وہ اس یقین میں بدل جاتی ہے کہ کوئی طاقت اس عطیم قوم کو کیسے سر نگوں کر سکتی ہے،چین اور چینی قوم کی عظمت سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں،مگر یہ دیوار وہ کتاب ہے جس کا ہر ورق چینیوں کی عظمت کی گواہی دے رہا ہے،صدیاں بیت گئی،انقلابات جنگوں قدرتی آفات نے ملکوں قوموں کو تہہ و بالا کر دیا کچھ کو تاریخ کا حصہ بنا دیا مگریہ دیوار آج بھی اپنی جگہ موجود ہے،یہ دیوار بہت سے پہاڑی سلسلوں کو ملاتی ہے،بلند چوٹیوں کی وجہ سے بلندی پر اس کی تعمیر بھی اپنی جگہ ایک ناقابل یقین بات ہے۔

اس دیوار پر چڑھنے کیلئے سیڑھیوں کا ایک جال بچھایا گیا بعض مقامات پر یہ اتنی بلند ہے کہ کمزور انسان طے کرتے تھک جائے،بل کھاتی نشیب و فراز سے مزین اس دیوار پرکی کشادگی کے باعث فوجی ساز و سامان اور فوج کی نقل و حرکت بھی بہت آسان ہے،اس دیوار پر 25 ہزار کے قریب فوجی چوکیاں بھی تعمیر کی گئی جو آج بھی پوری تمکنت سے موجود ہیں،بعض مقامات پر اس کی چوڑائی پانچ سے آٹھ فٹ بھی ہے جو چلنے والوں کیلئے آسانی پیدا کرتی ہے،اگر چہ اب اس کے ایک حصے میں کیبل کار لگا دی گئی ہے جس کی بدولت بچے خواتین اور کسی بھی عمر کے سیاح بآسانی اس کو سر کر سکتے ہیں،اس دیوار پر کھڑا ہر شخص سمجھتا ہے جیسے وہ آسمان کو چھونے والا ہے یا اسے آسمان اور زمین کے درمیان معلق کر دیا گیا ہے،بلند بالا درختوں سے ڈھکی وادیاں،ارد گرد پہاڑی سلسلے،سبزہ،تازہ مگر تیز ہواء منظر کو مزید دلآویز بنا دیتے ہیں،دیوار پر جہاں کھڑے ہو جائیں ہر طرف ایک خوبصورت سینری دکھائی دیتی ہے،دیوار کے ٹاپ پر روش اتنی چوڑی ہے کہ دو گھوڑوں والی بگھی آرام سے اس پر چل سکتی ہے،اس دیوار کی سیر کے دوران حکام جو کتابچہ سیاحوں میں تقسیم کرتے ہیں اس کے مطابق دیوار کی تعمیر میں کئی سال لگے اور اس کی تعمیر میں ہزاروں لوگوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے،کہتے اس دیوار کی تعمیر زمانہ امن میں کئی مرحلوں میں مکمل ہوئی۔

میاں سیف الرحمان اور مظہر برلاس نے کیبل کار سے اتر کر باقی ماندہ دیوار کے ٹاپ پر پہنچنے کی بجائے راستے میں ہی سیاحوں کےلئے قائم ایک کولڈ کارنر پر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ڈاکٹر ظفر محمود ، محمد مہدی اور یاسر اس سفر دیوار کا حصہ ہی نہ بنے جبکہ باقی ہم سات نے دیوار کو فتح کر کے ہی دم لیا۔ڈاکٹر صغریٰ صدف اور کومل سلیم صنف نازک ہونے کے باوجود آگے آگے رہیں جبکہ محمد عامر ہماری تصاویر کم اور دوسروں کی زیادہ بنانے میں مصروف رہے۔

دیوار چین کے بارے میں کئی افسانوی باتیں بھی مشہور ہیں،کئی خلاء نوردوں دعویٰ کیا ہے کہ یہ دیوار زمین کی واحد چیز ہے جو چاند سے بھی دکھائی دیتی ہے،بعض نے دعویٰ کیا کہ خلاء سے اس کی تصاویر بھی لی گئی ہیں،تاہم ان باتوں کی تردید خود چینی خلاء نوردوں نے کی ہے،کہ اب تک کوئی ایسا کیمرہ وجود میں نہیں آیا جو اتنے فاصلے سے تصویر حاصل کر سکے۔

دیوار چین فتح کرنے کی خوشی میں واپسی پر بس کے اندر ڈاکٹر صغریٰ صدف کی صدارت میں مشاعرے اور سنگیت کا سفر شروع ہو گیا جو مظہر برلاس کی طرف سے میاں محمد بخش کا صوفیانہ کلام سنانے پر اختتام پزیر ہوا ۔

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

.

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ