شریف خاندان کے قریب سمجھے جانے والے سابق چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری اور ناصر جنجوعہ کی دوستی کتنی گہری ہے؟

شریف خاندان کے قریب سمجھے جانے والے سابق چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری اور ...
شریف خاندان کے قریب سمجھے جانے والے سابق چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری اور ناصر جنجوعہ کی دوستی کتنی گہری ہے؟

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو مبینہ طور پر رشوت کی پیشکش کرنے والے ناصر جنجوعہ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی سابق چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کے ساتھ گہری دوستی ہے۔

دونوں کی دوستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ناصر جنجوعہ نے 2016 میں عمرے کی ادائیگی کی تو اس وقت ان کے ساتھ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری بھی موجود تھے۔ 2016 میں ناصر جنجوعہ نے میاں نواز شریف کے ساتھ بھی عمرہ ادا کیا تھا۔

جس وقت قمر زمان چوہدری چیئرمین نیب کے عہدے پر فائز تھے تو 2017 میں وہ اپنے نئے دفتر میں شفٹ ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے دوستوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا تھا جس میں ناصر جنجوعہ بھی شریک تھے۔

قمر زمان چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے ناصر جنجوعہ کے ساتھ 2018 میں عمرے کی ادائیگی کی۔

قمر زمان چوہدری 11 اکتوبر 2013 سے 10 اکتوبر 2017 تک چیئرمین نیب کے عہدے پر فائز رہے۔ اپنے دور میں ان پر اس وقت کی اپوزیشن کی جانب سے یہ الزامات تواتر کے ساتھ لگتے رہے کہ ان کے شریف خاندان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کیس سپریم کورٹ نے تاخیر سے اپیل دائر کرنے کے باعث تکنیکی وجوہات کو بنیاد بنا کر خارج کردیا تھا۔ اپوزیشن کی جانب سے اپیل میں تاخیر کا ذمہ دار قمر زمان چوہدری کو ہی قرار دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں ناصر جنجوعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ساتھ ملاقات میں ناصر جنجوعہ نے انہیں رشوت کی پیشکش کی اور کہا کہ مستقبل محفوظ بنانے کا سنہری موقع ہے،ان کے پاس 10 کروڑ یورو فوری موجودہیں جبکہ 2 کروڑ یورو کار میں رکھے ہیں۔

مزید : قومی