عوامی عدالت جج کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی،مسلم لیگ  نو ن نے عدلیہ کو بدنام کیا:رشید اے رضوی

عوامی عدالت جج کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی،مسلم لیگ  نو ن نے عدلیہ ...
عوامی عدالت جج کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی،مسلم لیگ  نو ن نے عدلیہ کو بدنام کیا:رشید اے رضوی

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی نے کہا ہے کہایسا نہیں ہوتا کہ اگر کوئی جج متنازع ہو جائے تو اس کے فیصلے فوری طور پر کالعدم قرار دے دیے جائیں،عوامی عدالت تو جج صاحب کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی،مسلم لیگ ن کا کام عدلیہ کو بدنام کرنا تھا،جو  وہ کر رہے ہیں،ان کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو  کرتے ہوئےسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی نےکہا کہ میں سمجھتا ہوں جو چیزیں ابھی تک سامنے آئی ہیں ان میں سے چند چیزوں کا جج ارشد ملک نے اقرار کیا ہے اور چند باتوں سے انکار کیا ہے، اس پر جامع تحقیقات ہونی چاہیں کیونکہ اس کی بڑی سزا بھی ہو سکتی ہے جس میں ان کی برطرفی بھی شامل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ان پر الزامات ثابت ہو جائیں تو ان کے فیصلوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے،یہ مقدمہ کتنا سنگین ہے؟اس کا فیصلہ تو اعلی عدالت ہی کرے گی۔رشید اے رضوی نے کہا کہ ان کے فیصلوں کو کالعدم قرار دینا کا انحصار ایپلٹ کورٹ پر ہے کہ وہ کس انداز سے اور کس حد تک لے جاتی ہے ؟  کیا وہ اس کو مس ٹرائل قرار دیتی ہے یا ری ٹرائل کا حکم ؟ اس کا دارومدار اپیل کنندہ یعنی مسلم لیگ (ن) پر بھی ہے کہ کیا وہ اس معاملے کو اعلی عدالت لے کر جاتے ہیں کیونکہ انھوں نے ابھی تک اس معاملے کو اعلی عدالت کے دائرہ کار میں پیش نہیں کیا۔انہوں  نے کہا کہ اپیل کنندہ کا تو موقف ہے کہ انھوں نے اپنا مقدمہ عوامی عدالت میں دے دیا ہے ،لیکن عوامی عدالت تو جج صاحب کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی،مسلم لیگ کا کام عدلیہ کو بدنام کرنا تھا،جو  وہ کر رہے ہیں جبکہ ان کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد