100 گرام کی روٹی 6 جبکہ نان12 روپے میں فروخت ہوگا، حکومت اور نان بائی ایسوسی ایشن میں مذاکرات کامیاب

100 گرام کی روٹی 6 جبکہ نان12 روپے میں فروخت ہوگا، حکومت اور نان بائی ایسوسی ...
100 گرام کی روٹی 6 جبکہ نان12 روپے میں فروخت ہوگا، حکومت اور نان بائی ایسوسی ایشن میں مذاکرات کامیاب

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے متحدہ نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر محمد آفتاب اور دیگر عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 100 گرام روٹی کی قیمت 6 روپے اور نان کی قیمت 12 روپے ہوگی،وفاقی حکومت نے آٹے، میدے اور سوجی پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگایا ہے،حکومت عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی کے لیے اس سال گندم پر 42 ارب روپے کی سبسٹڈی دے رہی ہے اور 20 کلو گرام آٹے کا تھیلہ 770 روپے میں فروخت ہوگا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ نان 20 روپے میں فروخت ہو رہا ہے میں واضح کر دینا چاہتا ہوں یہ پنجاب ہے سندھ نہیں، پنجاب حکومت جاگ رہی اور کسی صورت قیمتیں بڑھنے نہیں دے گی۔ میں بلاول سے کہتا ہوں کہ آپ سندھ کے وزیر اعلیٰ سے پوچھیں کہ آپ نے اس مرتبہ گندم کیوں نہیں خریدی، ملک میں انارکی پھیلانے والے عوام سے مخلص نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ گیس کے ٹیرف کے حوالے سے نان بائی ایسوسی ایشن کے لیے مسئلہ پیدا ہوا ہے،وزیر اعظم 18 جولائی کو لاہور آ رہے ہیں اور اُن سے گیس کا ٹیرف پہلے والی سطح پر لانے کی درخواست کی جائے گی، اُمید ہے کہ تندور پر گیس ٹیرف پہلے والی قیمت پر واپس آئے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ گھی پر ٹیکس 2 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کیا گیا تھا اسے واپس لے لیا گیا ہے،اس لیے گھی کی قیمت نہیں بڑھے گی۔ اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ روز تاجروں کے ساتھ 7 گھنٹے تک طویل مذاکرات ہوئے اور وفاقی حکومت کو بھی آن بورڈ لیا گیا، تاجروں کے تمام مطالبات مان کرآج لیٹر اُنہیں دیا گیا ہے،اُن کے حل طلب مسائل حل کیے گئے ہیں،ایف بی آر مارکیٹوں چھاپے نہیں مارے گی اور نہ ہی کسی کا اکاؤنٹ منجمند کیا جائے گا جب تاجروں کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں تو اب جھگڑا کس بات کا ہے؟ جو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں اُنہیں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن جن لوگوں نے کبھی ٹیکس نہیں دیا اُن کو پریشانی لاحق ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے عام دُکاندار پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا اور نہ ہی اِس بارے میں سوچا جا رہا ہے،جو ڈیلر مل سے سامان خریدتا ہے اُسے وہاں رجسٹریشن کرانے میں کیا حرج ہے؟۔ اُنہوں نے کہا کہ 20 ارب ڈالر کا کپڑا ہر سال بنتا ہے جبکہ ساڑے سات ارب ڈالر کا کپڑا ملک میں استعمال ہوتا ہے اور اس پر ٹیکس صرف 6 ارب روپے حاصل ہوتا ہے، 834069 صنعتی کنکشن ہیں جس پر حکومت 200 ارب روپے سبسٹڈی دے رہی ہے، اِن کنکشن میں سے 39 ہزار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ 16 ہزار ٹیکس دیتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس میں جہاں خامیاں ہیں اُسے درست کرنے کے لیے میکانزم بنا رہے ہیں، ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، اگر کہیں سے شکایت آئی تو بھرپور ایکشن ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ روٹی کی قیمت پر نا م نہاد لیڈرسیاسی دُکانداری چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں، اُن کی یہ دُکان جلد بند ہوگی۔ متحدہ نان بائی روٹی ایسو سی ایشن کے صدر محمد آفتاب نے کہا کہ صوبائی وزیر صنعت نے ہمارے مسائل کے حل کی یقین کرائی ہے لہٰذا روٹی کی قیمت 6 روپے جبکہ نان 12 روپے کی فروخت کیا جائے گا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور