کیا نواز شریف کا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کیلئے بھیجا جائے ؟ ماہر قانون علی ظفر کا تہلکہ خیز تجزیہ

کیا نواز شریف کا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کیلئے بھیجا جائے ؟ ماہر قانون علی ظفر کا ...
کیا نواز شریف کا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کیلئے بھیجا جائے ؟ ماہر قانون علی ظفر کا تہلکہ خیز تجزیہ

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)آئینی ماہر علی ظفر نے کہاہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہی جج کے بیان حلفی اور ویڈیو کے بعد فیصلہ کرنا ہے ، اگر عدالت مطمئن ہوئی تو کیس دوبارہ احتساب عدالت میں بھیجے گی کہ اس پر دوبارہ فیصلہ کیا جائے ، البتہ نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ سے قبل ازوقت فیصلہ کرنے کی درخواست بھی کرسکتے ہیں۔ جیونیوز کے پروگرام ”آ ج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے تو یہ فیصلہ ہونا ہے کہ جج پر فیصلے سے پہلے دباﺅ تھا یافیصلے کے بعد دباﺅ تھا ، یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے جس کے بارے میں قانون یہ کہتاہے کہ اگر کسی نے دباﺅ کے تحت فیصلہ دیا ہوتو مقدمے کودوبارہ ٹرائل کیلئے بھیجا جائے لیکن اگر فیصلہ کے بعد جج پر دباﺅ ڈال کر کوئی بیان دلوا دیا گیاہے تو پھر دباﺅان لوگوں پر آئیگا جنہوں نے یہ کام کیا ہے ۔علی ظفر نے کہا کہ ان معاملات پر تحقیقات اسلام آبادہائیکورٹ ہی کر سکتاہے کیونکہ ٹرائل کورٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ماتحت ہیں۔

مزید : قومی