پی پی 48، ن لیگ 36اور تحریک انصاف دور میں 38 روپے ، مشرف دور میں ڈالر کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوا؟ آپ بھی جانئے

پی پی 48، ن لیگ 36اور تحریک انصاف دور میں 38 روپے ، مشرف دور میں ڈالر کی قیمت میں ...
پی پی 48، ن لیگ 36اور تحریک انصاف دور میں 38 روپے ، مشرف دور میں ڈالر کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوا؟ آپ بھی جانئے

  


لاہور (سرفراز راجہ) پاکستان میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے حوالے سے کافی عرصے سے تشویش پائی جاتی ہے، آئی ایم ایف سے قرض کا معاہدہ ہونے کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ پاکستان میں 1947 سے اب تک ڈالر کی قیمت میں سب سے زیادہ پیپلز پارٹی کے 4 ادوار حکومت میں اضافہ ہوا ، مجموعی طور پر پیپلز پارٹی کے چاروں ادوار میں ڈالر کی قیمت میں تقریباً 48 روپے کا اضافہ ہوا، یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پی پی کے پہلے دور میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی تھی اس لیے 48 روپے کا اضافہ بینظیر اور زرداری کے ادوار میں ہوا ہے۔ دوسرے نمبر پر تحریک انصاف کی 10 ماہ کی حکومت میں 37 روپے 84 پیسے اور تیسرے نمبر پر ن لیگ کے تینوں ادوار بشمول شاہد خاقان عباسی حکومت میں ڈالر کی قیمت میں مجموعی طور پر 36 روپے کا اضافہ ہوا۔ ذیل میں ہم 1947 سے جون 2019 تک کے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کی روشنی میں ڈالر کی قیمت کا موازنہ پیش کر رہے ہیں، اس جائزے میں جولائی 2019 کے مہینے کو شامل نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی آزادی کے سال 1947 سے 1955 تک پاکستان کے روپے میں استحکام رہا اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 3 روپے 30 پیسے پر برقرار رہی۔ پاکستان میں پہلی بار ڈالر کی قیمت میں اضافہ مالی سال 1955-56 کے دوران ہوا جب ڈالر کی قیمت بڑھ کر 4 روپے 76 پیسے ہوگئی۔ جس وقت ایوب خان نے اکتوبر 1958 میں ملک میں مارشل لا نافذ کیا تھا اس وقت ڈالر کی قیمت 4 روپے 76 پیسے پر برقرار تھی اور جب انہوں نے مارچ 1969 میں اقتدار کو خیر باد کہا تو اس وقت بھی ڈالر اپنی سابقہ قیمت پر برقرار تھا۔

دسمبر 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو صدر پاکستان بنے تو اس وقت تک ڈالر گزشتہ دو سال کی قلیل مدت میں 9 روپے 90 پیسے تک پہنچ چکا تھا اور جب جولائی 1977 میں ضیاءالحق نے مارشل لا نافذ کیا تو اس وقت تک ڈالر اپنی سابقہ قیمت پر مستحکم تھا ، یعنی بھٹو دور میں ڈالر کی قدر میں یا روپے کی بے قدری میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اگست 1988 میں ضیاءالحق طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے تو پاکستان میں ڈالر کی قیمت ڈبل یعنی 18 روپے 34 پیسے ہوچکی تھی۔

ضیاءالحق کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کی دوبارہ حکومت آئی اور بینظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور 2 سال تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ انہیں 6 اگست 1990 کو صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کیا تو اس وقت ڈالر کی قیمت تقریباً ڈھائی روپے اضافے کے بعد 21 روپے 78 پیسے ہوچکی تھی۔میاں نواز شریف نومبر 1990 میں پہلی بار پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور انہوں نے جولائی 1993 تک حکومت کی، اس دوران ڈالر کی قیمت میں تقریباً 8 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں 29 روپے 94 پیسے کا ہوچکا تھا۔

اکتوبر 1993 میں ایک بار پھر بینظیر بھٹو برسر اقتدار آئیں اور نومبر 1996 تک پاکستان کی وزیر اعظم رہیں، اس عرصے میں امریکی ڈالر تقریباً 11 روپے مہنگا ہو کر 40 روپے 16 پیسے پر پہنچ گیا۔ فروری 1997 میں نواز شریف ایک بار پھر وزیر اعظم بنے لیکن 12 اکتوبر1999کو مارشل لا کے نتیجے میں ان کی حکومت ختم کردی گئی ۔ ان کے دوسرے پونے تین سالہ دور اقتدار میں امریکی ڈالر کی قدر میں 11 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 51 روپے 81 پیسے پر پہنچ گیا۔

1999 میں مارشل لا لگانے والے پرویز مشرف اگست 2008 میں رخصت ہوئے لیکن مارچ میں پیپلز پارٹی کی حکومت آچکی تھی اور یوسف رضا گیلانی وزارت عظمیٰ سنبھال چکے تھے۔ مشرف کے تقریباً 9 سالہ دور اقتدار میں (مارچ 2008 تک پی پی کی حکومت آنے سے پہلے) ڈالر کی قیمت میں گزشتہ 2 ادوار کی طرح 11 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 62 روپے 89 پیسے پر پہنچ گیا۔ پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر چوتھی بار مارچ 2008 سے مارچ 2013 تک پورے پانچ سال حکومت کی تو اس دوران امریکی ڈالر کی قدر میں 35 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا اور یہ 98 روپے پر پہنچ چکا تھا۔

میاں نواز شریف کی 2013 میں تیسری بار حکومت آئی تو شروع کے دنوں میں شیخ رشید نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ حکومت ڈالر کی قیمت کو 98 روپے پر برقرار رکھ پائی تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے، اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ان کا یہ چیلنج قبول کرتے ہوئے کچھ عرصہ یہ قیمت برقرار بھی رکھی لیکن پھر ڈالر ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ جب جولائی 2017 میں وزیر اعظم نواز شریف سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے تو اس وقت تک ڈالر کی قیمت میں صرف 7 روپے کا اضافہ ہو اور یہ 105 روپے 26 پیسے پر تھا ۔ ن لیگ کی ہی حکومت میں شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے تو ان کے 10 ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں تقریباً 9 روپے 70 پیسے کا اضافہ ہوا اور یہ 114 روپے 94 پیسے پر پہنچ گیا۔

شاہد خاقان عباسی کے بعد نگران حکومت آئی تو ڈالر نے لمبی چھلانگ لگائی اور یہ صرف تین ماہ میں 9 روپے کے اضافے کے ساتھ 123 روپے 45 پیسے پر چلا گیا۔ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد تحریک انصاف کی حکومت آنے تک ڈالر کی قیمت میں تقریباً 19 روپے کا اضافہ ہوا۔

اگست 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ڈالر نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اتنا مہنگا ہوا کہ اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ جون 2019 تک یعنی تقریباً 10 ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں 37 روپے 84 پیسے کا اضافہ ہوا  اور یہ  161 روپے 29 پیسے پر پہنچ گیا ۔

مزید : بلاگ /بزنس /Breaking News /اہم خبریں