ویڈیو سکینڈل میں ملوث جج ارشد ملک نے اپنا جرم تسلیم،معافی کی استدعا کی:انکوائری رپورٹ

ویڈیو سکینڈل میں ملوث جج ارشد ملک نے اپنا جرم تسلیم،معافی کی استدعا ...

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) میاں نواز شریف کوالعزیزیہ ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے ویڈیو سکینڈ ل میں اپنے دفاع کیلئے کوئی گواہ پیش نہیں کیا، ارشد ملک نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیا جس سے ظاہر ہو کہ انہیں نواز شریف کے ہمدردوں نا صر وغیرہ کی طرف سے خوفزدہ یا ہراساں کیا گیا تھا، ارشد ملک یہ بھی ثابت نہیں کر سکا کہ اس نے اپنی مرضی کیخلاف تمام متنازع کام کئے، ا ر شد ملک نے اپنا جرم تسلیم کیا مگر استدعا کی کہ اسے معاف کر دیا جائے،یہ باتیں ارشد ملک کیخلاف ویڈیو سکینڈل کی انکو ا ئری رپورٹ میں بتا ئی گئی ہیں۔ان کیخلاف لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم نے انکوائری کی تھی جس کے بعد انہیں 3 جولائی 2020ء کو نوکری سے فارغ کیا گیا۔ روز نامہ پاکستان نے اپنے ذرائع سے 13صفحات پر مشتمل یہ انکوائری رپورٹ حاصل کی ہے جس میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم ارشد ملک نے ناصر بٹ سمیت دیگر سے ملنے والی دھمکیوں اور بلیک میلنگ سے متعلق کبھی بھی اپنے افسران کو آگاہ نہیں کیا، ملزم جوڈ یشل افسر کا ایک طرف کہنا کہ اسے بلیک میل کیا گیا اور دوسری طرف نواز شریف کیخلاف فیصلے کا آخری پیرا گراف ملزم کے موقف کی نفی کرتا ہے،رپوٹ کے مطابق ناصر بٹ، ناصر جنجوعہ اور مہر ناصر کی ملزم جوڈیشل افسر سے مسلسل ملاقاتوں سے ثابت ہوتا ہے ارشد ملک تک ان کی رسائی ہمیشہ سے تھی، شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ارشد ملک نے جرائم پیشہ گروہ میں رضا کارانہ طور پر شمولیت اختیار کی، نواز شریف کیخلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کے بعد جج ارشد ملک جاتی امراء میں نواز شریف سے ملا، کیسز کا فیصلہ کرنے کے بعد اس نے دوران عمرہ حسین نواز سے سعودی عر ب میں ملاقات بھی کی، جج ارشد ملک کے بقول وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ عمرہ کرنے گیا اور ناصر بٹ نے پھر سے ملزم افسر سے رابطہ کیا اور حسین نواز سے ملاقات کروائی، جج ارشد ملک کی مدینہ میں حسین نواز شریف سے ملاقات کو اچانک نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ یہ طے شدہ ملاقات تھی، ارشد ملک نے نواز شریف کیخلاف اپنے ہی جاری کئے گئے فیصلے پر تیار کی گئی اپیل کا جائزہ بھی خود لیا، املزم افسر ارشد ملک نے تسلیم کیا کہ 2000ء سے 2003ء میں ملتان تعیناتی کے دوران متنازع ویڈیو بنانے والے میاں محمد طارق سے جان پہچان ہوئی،جج ارشد ملک نے دباؤکے تحت ملاقاتیں کرنے کے بیان کے دفاع میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، جج ارشد ملک کی نواز شریف، حسین نواز، ناصر بٹ سمیت دیگر کی ملاقاتوں کو اتفاقی قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ ملاقاتیں ججوں کے ضابطہ اخلاق کی دفعہ 7، 30 اور 31 کی خلاف ورزی ہے، ملزم جج ارشد ملک نے اپنے دفاع میں جتنی بھی دستاویزات پیش کیں وہ تمام غیر مصدقہ فوٹو کاپیاں ہیں جنہیں تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اجج ارشد ملک کیخلاف مس کنڈکٹ کا الزام ہے اور ملزم نے الزامات کی تردید نہیں کی بلکہ کہا کہ اس نے ملاقاتیں دباؤکے تحت کیں، جج ارشد ملک نے کہا ہے کہ وہ ایسا عمل نہیں کرنا چاہتا تھا کہ جو اس کے اہلخانہ کیلئے تکلیف کا باعث بنتا۔انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے ککہ جج کیلئے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے اپنی خود مختاری کو برقرار رکھنا لازم ہوتا ہے، ضابطہ اخلاق کی دفعہ 30 کے تحت کسی بھی جج کو کسی بھی فریق سے ملاقات یا رابطہ نہیں کرنا چاہئے، جج ارشد ملک کا اپنے دفاع میں پریس ریلیز جاری کرنا بھی ضابطہ اخلاق کی دفعہ 7 کی خلاف ورزی ہے، جوڈیشل افسر ارشد ملک نے بیان حلفی میں مہر ناصر اور ناصر جنجوعہ کو اپنی پرانی جان پہچان والا تسلیم کیا ہے، احتساب عدالت میں تعینات کروانے کے حوالے سے ناصر جنجوعہ اور مہر ناصر کے کردار ادا کرنے کا ذکر بھی ملزم افسر کے بیان حلفی میں تحریر ہے، ارشد ملک نے ناصر بٹ کی جانب سے ہراساں، بلیک میل اور دھمکیاں مو صول ہونے کا ذکر کیا ہے لیکن کوئی ثبوت نہیں دیا۔ ملزم جج ارشد ملک کاکہنا ہے کہ استعفیٰ دینے کیلئے 500 ملین روپے کی آفر بھی کی گئی، اسے کہا گیا کہ وہ استعفیٰ دے اور کہے کہ نواز شریف کیخلاف فوج اور عدلیہ کے دباؤ پر ریفرنسز دائر کئے گئے، جج محمد ارشد نے پریس ریلیز اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروا یا گیا مصدقہ بیان حلفی بطور ثبوت پیش کیااوراپنے اوپر لگائے گئے مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت نہ ہونے کا بیان دیا، جج ارشد ملک نے کہا کہ پراسکیوشن کے جبر اور سختی کی وجہ سے انہوں نے بیان حلفی اور پریس ریلیز جاری کیا، تا ہم اس نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دیئے گئے بیا ن حلفی اور پریس ریلیز جاری کرنے کے الزام کو کسی بھی سطح پر رد نہیں کیا، ارشد ملک نے پوری انکوائری میں کہیں بھی نہیں کہا اسلام آباد ہائیکور ٹ نے اس سے بیان حلفی مانگا تھا، ارشد ملک نے مریم صفدر کی 6 جولائی 2019ء کی پریس کانفرنس کے بعد اپنی بیگناہی کی پریس ریلیز جا ر ی کی، انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک پنجاب سول سرونٹس رولز کی دفعہ 3 بی کے تحت مس کنڈکٹ کے مرتکب پائے گئے، پنجاب سول سرونٹس رولز کی دفعہ 4 بی کے تحت ارشد ملک کو نوکری سے برخاست کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

ویڈیو سکینڈل انکوائری

مزید :

صفحہ اول -