صدر ٹرمپ نے سابق مشیر اور دوست راجر سٹون کی قید کی سزا معاف کردی

  صدر ٹرمپ نے سابق مشیر اور دوست راجر سٹون کی قید کی سزا معاف کردی

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سابق مشیر اور پرانے دوست راجر سٹون کی قید کی سزا معاف کردی ہے۔ انہیں صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات کے معاملات میں رکاوٹ ڈالنے پر گزشتہ برس 40ماہ قیدکی سزا سنائی گئی تھی تاہم اس عرصے میں وہ ایک دن بھی جیل نہیں گئے اور محکمہ انصاف نے ان کی تین ستمبر تک ضمانت منظور کر رکھی تھی۔ وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ راجر سٹون سمیت اس مقدمے میں ملوث دیگر افراد کے ساتھ ناانصافی پر مبنی رویہ اختیار کیا گیا، اس لئے اب وہ آزاد شہری ہیں۔ امریکی قانون کے مطابق مواخذے کے سوا صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جرائم کے مرتکب افراد کو معاف کردیں اور انہیں جیل کی قید سے رہائی دلادیں تاہم ریکارڈ میں وہ مجرم ہی کہلائیں گے۔ راجر سٹون ڈونلڈٹرمپ کے پرانی ساتھی اور مشیرہیں جو 2016ء کی صدارتی مہم کے دوران بھی ان کی ٹیم میں شامل تھے۔ محکمہ انصاف نے آغاز میں سٹون کو 7 سے 9سال قید سنانے کی سفارش کی تھی جسے صدر ٹرمپ نے انتہائی خوفناک اور غیرمنصفانہ قرار دیا تھا تاہم اٹارنی جنرل ولیم بر نے صدر کے اس بیان پر تحفظ کا اظہار کیا تھا اور ساتھ ہی کم ازکم سزا دینے کی سفارش کی تھی۔ یاد رہے کہ محکمہ انصاف نے 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات سامنے آنے کے بعد رابرٹ ملر کو اس کی تحقیقات پر مامور کیا تھا۔ جب اس تحقیقات میں رکاوٹ پڑی تو رابرٹ ملر نے اپنی تحقیقات میں رکاوٹ کا معاملہ بھی شامل کرلیا۔ رابرٹ ملر کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں مقدمہ چلا اور واشنگٹن کی جیوری نے سات مختلف الزامات کے تحت نومبر 2019ء میں راجر سٹون کو سزا سنائی تھی جن میں کانگریس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا، جھوٹے بیانات دینا اور شواہد میں ردوبدل کرنا شامل تھا۔ امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف نے صدر ٹرمپ کے حالیہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پتہ چل گیا ہے کہ امریکہ میں انصاف کے دو نظام ہیں ایک عام لوگوں کیلئے اور دوسرا وہ جس کے تحت صدر اپنے دوستوں کو معاف کردیتے ہیں۔

سزا معاف

مزید :

صفحہ اول -