عیدالاضحی کے لئے خصوصی ہدایات

عیدالاضحی کے لئے خصوصی ہدایات

  

پنجاب میں عیدالاضحی پر سمارٹ لاک ڈاؤن پر غور کیا جا رہا ہے، کیبنٹ کمیٹی برائے کورونا اینڈ ڈینگی کنٹرول کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عید پر پارک اور تفریحی مقامات بند رہیں گے، وفاقی وزارتِ قومی صحت کی جانب سے عیدالاضحی اور قربانی کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں،تفصیلی ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ مویشی بیچنے والوں اور گاہکوں کو منڈی جانے سے قبل ماسک اور دستانے پہننا ضروری ہو گا،اس کے بغیر کوئی بھی جانور کو ہاتھ نہیں لگا سکے گا یہ بھی کہا گیا ہے کہ مساجد میں کوئی جائے نماز یا چٹائی نہیں بچھائی جائے گی، نمازیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا اپنا مصلّیٰ ساتھ لے کر آئیں۔

پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد اگرچہ کم ہو رہی ہے اور صحت یاب ہونے والے بھی بڑھ رہے ہیں،جن کی تعداد ایک لاکھ49ہزار 92بتائی گئی ہے، تاہم اب تک مجموعی تعداد 2لاکھ 43ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے اگر دُنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک سے موازنہ کیا جائے تو یہ تعداد اٹلی سے زیادہ ہے، جہاں کل مریض2لاکھ42ہزار363 رپورٹ ہوئے اور جب اٹلی میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں نئے مریض سامنے آ رہے تھے تو اُس وقت کہا جا رہا تھا کہ پاکستان اٹلی نہیں بن سکتا،اب مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان اٹلی کو پیچھے چھوڑ گیا اور دُنیا میں اس کا نمبر گیارہواں ہے،اِس لئے مریضوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد اپنی جگہ چاہے کتنی ہی اطمینان بخش ہو، کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کرنا ضروری ہے، کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ مریضوں کی تعداد اگر کم ہو رہی ہے تو حفاظتی اقدامات سے صرفِ نظر شروع کر دیا جائے اور سماجی فاصلے قائم رکھنے کی ہدایت کو نظر انداز کر دیا جائے۔ عیدالاضحی میں بیس روز باقی ہیں اور اس عرصے میں قربانی کے جانوروں کی خریداری شروع ہو جاتی ہے،اگرچہ یہ طے کیا گیا ہے کہ مویشیوں کی منڈیاں شہروں سے باہر لگائی جائیں گی،لیکن اِس وقت آبادیوں کے درمیان جانوروں کی خرید و فروخت ہو رہی ہے،جو لوگ صرف عیدالاضحی کے لئے جانور پالتے ہیں، مویشی پالنا جن کا باقاعدہ کاروبار نہیں ہے وہ اپنے جانور اِسی طرح فروخت کرتے ہیں،ایسے بیوپاریوں پر نظر رکھنا تو مشکل ہے اور اتنی فورس بھی دستیاب نہیں ہوتی تاہم شہریوں کو اپنے مفاد میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا چاہئے اور صحت کے حکام نے جو ہدایات جاری کی ہیں، اُن پر کما حقہ‘ عملدرآمد کرنا چاہئے۔وفاقی حکومت آن لائن قربانی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو کمپنیاں یہ کاروبار کرتی ہیں،بیشتر کے پاس اُن کے اپنے مویشی فارم ہیں جو جدید خطوط پر استوار ہیں، ان کمپنیوں نے جانور ذبح کرنے کے لئے ماڈرن مذبحے بنا رکھے ہیں جہاں حفظانِ صحت کے اصولوں کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے اور قربانی کی بکنگ کرانے والوں کو پیک شدہ گوشت فراہم کیا جاتا ہے،لیکن بوجوہ اِس جانب لوگوں کی توجہ زیادہ نہیں ہے وہ اپنی آنکھوں کے سامنے جانور ذبح کرنے اور پھر خود ہی گوشت بنانے کو ترجیح دیتے اور اسی میں ایک گونہ اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ شدید گرمی کے اس موسم میں اس طرح قربانی کے جانور ذبح کرنے کے اپنے مسائل ہیں، جو اناڑی قصائی جانور ذبح کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور ذبح کئے ہوئے جانور کی کھال بھی درست طریقے سے نہیں اُتار سکتے ان کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔عام حالات میں بھی احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کورونا کی وبا کے زمانے میں خصوصی طور پر اس طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز ہی خبردار کیا تھا کہ اگر عیدالاضحی پر احتیاط نہ برتی گئی تو وائرس کے پھیلاؤ کا زیادہ خدشہ ہے اِس لئے توقع ہے کہ وزیراعظم کے اس انتباہ کو پیش ِ نظر رکھا جائے گا۔

حکومت15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر چکی ہے تاہم یہ بھی پہلے سے خبردار کر دیا گیا ہے اگر اگست میں نئے مریضوں کی تعداد بڑھی اور کورونا کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا تو اس فیصلے پر بھی نظرثانی کی جائے گی،اِس کا مطلب یہ ہوا کہ تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ مشروط ہے، تعداد بڑھنے کی صورت میں واپس بھی لیا جا سکتا ہے،اِس لئے شہریوں پر دہری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اگر اپنے بچوں کے تعلیمی مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں تو ایسے حالات پیدا کرنے میں معاونت کریں،جو سکول کھولنے کے لئے ساز گار ہوں۔عید پر پبلک پارک بند رکھنے کا فیصلہ اچھا ہے،کیونکہ پارک کھلے ہوں تو والدین بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور تفریح کے لئے گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں،اس عید پر اگر تفریحی سرگرمیاں موخر کر دی جائیں تو یہ لوگوں کے اپنے مفاد میں ہے۔ہجوم والی جگہوں پر آمدو رفت کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔اس طرح پچھلے دو ہفتوں میں مریضوں کی جو تعداد کم ہوئی ہے وہ واپس آ سکتی ہے اور مرض کی ایک نئی لہر کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

عیدالاضحی کے اجتماعات میں بھی ایسے ہی حفاظتی انتظامات متوقع ہیں جو عیدالفطر کے موقع پر کئے گئے تھے،اِس لئے مساجد کی انتظامیہ کو ابھی سے جائزہ لے لینا چاہئے اور عیدالفطر کے موقع پر جو احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں ویسی ہی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جو کمیاں اور کوتاہیاں رہ گئی تھیں، ضرورت ہے کہ اب وہ بھی دور کر لی جائیں تاکہ مریضوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد مزید کم ہو جائے اور وبا سے نجات کی راہ ہموار ہو،بڑھنے کے خدشات بھی ختم ہو جائیں، عید سے پہلے روایتی خریداری سے بھی گریز کرنا چاہئے۔اگر بازاروں میں گاہکوں کا رش ہو گا تو بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشات بڑھیں گے،ایسا ہر روزن بند کرنے کی ضرورت ہے جس سے وائرس پھیلتا اور نئے مریضوں میں اضافہ ہوتا ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -