عظیم لوک گلوکار عالم لوہارکی ۴۱ ویں برسی کے موقع پر تقریب

عظیم لوک گلوکار عالم لوہارکی ۴۱ ویں برسی کے موقع پر تقریب

  

لاہور(فلم رپورٹر)پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک)، محکمہ اطلاعات و ثقافت، پنجاب کے زیر اہتمام عظیم لوک گلوکار عالم لوہارکی ۴۱ ویں برسی کے موقع پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک آن لائن تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں عابدہ پروین، ثریا ملتانیکر، شوکت علی، عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی، عارف لوہار، مشرقی پنجاب سے ہربھجن مان، پمی بائی اور گُر بجھن گِل کے علاوہ راحت ملتانیکر، ندیم عباس لونے ولا، مدثر اقبال بٹ، سجاد بری، خیبر پختونخواہ سے فیاض خان خیشگی، بلوچستان سے شفقت عاصمی اور مسعود نبی بلوچ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صغرا صدف ڈائریکٹر جنرل، پِلاک، محمد عاصم چودھری ڈائریکٹر پِلاک، شفاعت عباس اسسٹنٹ ڈائریکٹر، امانت علی اور حسن جلیل پروڈیوسر ایف ایم ۹۵ پنجاب رنگ نے بھی شرکت کی۔تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر صغرا صدف نے عظیم لوک گلوکار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالم لوہار پنجاب کی لوک موسیقی کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جس کی لَو چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑی اور ان کے بیٹے عارف لوہارنے اپنے والد کے مشن کوجاری رکھ کر پنجاب کی ثقافت پر احسان کیا ہے۔

مشہور صوفی گلوکارہ عابدہ پروین نے عالم لوہار کی ”جگنی“ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسا فنکار اِس دنیا میں دوبارہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے عالم لوہار کو اپنا استاد و بزرگ قرار دیا اور اُن کے لئے دعائیہ کلمات ادا کیے۔ معروف لوک گلوکار شوکت علی نے عالم لوہار کی شخصیت کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک حقیقی لوک گلوکار تھے جو روح کی گہرائی سے گایا کرتے تھے۔ انھوں نے تقریب میں اپنا کلام پیش کر کے عالم لوہار سے اپنی محبت کا اظہاربھی کیا۔مشرقی پنجاب سے مشہور پنجابی لوک گلوکار پمی بھائی نے کہا کہ عالم لوہار کے فن کو پوری دنیا کے پنجابی دل سے سراہتے ہیں اور اُن کا مشہور گانا ”بول مٹی دئیا باویا“ آج بھی انھیں بہت پسند ہے۔

مزید :

کلچر -