پارا چنار،خونریز تصادم کے ذمہ داروں کیخلاف جے آئی ٹی تشکیل دیا جائے،علامہ یوسف حسین

پارا چنار،خونریز تصادم کے ذمہ داروں کیخلاف جے آئی ٹی تشکیل دیا جائے،علامہ ...

  

پاراچنار(نمائندہ پاکستان)ضلع کرم میں دو قبائل کے مابین خونریز تصادم کے ذمہ دار افسران کے خلاف جے آئی ٹی تشکیل دی جائے جھوٹی ایف آئی آر منجمد کرکے بالش خیل اراضی کا منصفانہ فیصلہ کیا جائے مقامی انتظامیہ افسران بالا کو غلط رپورٹ کرتے ہوئے بالش خیل قبائل کو تصادم میں پہل کرنے والے ظاہر کرتے ہیں جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اور ان کے منصبی کے شایان شان نہیں ضلع کرم کے علاقہ سمیر میں بالش خیل قبائل کی طرف سے جاری دھرنے کے پانچویں دن ہزاروں احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ یوسف حسین، علامہ سید محمد حسین، مولانا سید علی نقی، مولانا باقر حسین، صفدر علی بالش خیل، ڈاکٹر ثاقب بنگش، شفیق حسین اور سید محمد نے کہا کہ ضلع کرم میں کوئی فرقہ وارانہ تصادم نہیں بلکہ صرف اور صرف اراضی تنازعہ ہے جسے بعض مفاد پرست لوگ فرقہ واریت کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں جبکہ انتظامیہ بھی حق دار کو ان کا حق پہنچانے میں پس وپیش کررہی ہے رہنماوں نے کہا کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک طرف بالش خیل قبائل اور خار کلی کے اہلسنت قبائل ہیں دوسری طرف پاڑہ چمکنی قبیلہ ہیجس سے ثابت ہے کہ یہ فقد اراضی تنازعہ ہے انہوں نے کہا کہ ضلع کرم میں کوئی بھی بغیر منظوری کے ایک کمرہ تک نہیں بناسکتا حیرت ہے کہ بالش خیل کے اراضی پر کثیر تعداد میں غیر قانونی تعمیرات کیسے کئے گئے انہوں نے کہا کہ کہ بندوبستی علاقوں میں انگریز کے بنائے گئے ریونیو کو خصوصی اہمیت حاصل ہے جبکہ بالش خیل کے شاملاتی اراضی پر قبضہ کرنے والے پاڑہ چمکنی قبائل کہتے ہیں کہ ھم ریونیو وغیرہ کو نہیں مانتے ریوینو کو نہ ماننا پاکستان اور پاکستان کے قانون سے انخراف ہے انگریز کے ہر شئے سے استفادہ کرتے ہو مگر ان کے کاغذات مال کو اس لئیے ماننے سے انکاری ہو کہ تمہاری پرائی زمین پر شب خون کو تحفظ حاصل ہو رہنماوں نے کہا کہ جب تک کاغذات مال کے مطابق ہمارے اور پاڑہ چمکنی قبائل کے مابین فیصلہ نہیں کیا جاتا ہمارا یہ دھرنا جاری رہے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -