عالمی یوم آبادی، تیزی سے اضافہ باعت تشویش ہے، احمد حسین شاہ

عالمی یوم آبادی، تیزی سے اضافہ باعت تشویش ہے، احمد حسین شاہ

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی سید احمد حسین شاہ نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک قومی مسئلہ ہے جس کو اگر غیر سنجیدگی سے لیا گیا تو موجودہ 22کروڑ کی آبادی اگلے دو تین دہائیوں میں دگنی ہو جائے گی۔ ان افراد کے لئے صحت، تعلیم، پینے کا پانی، انفراسٹرکچر، روزگار اور فوڈ سیکیورٹی دینا حکومت کے لئے انتہائی کٹھن کام ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی نے عالمی یوم آبادی کے حوالے سے پشاور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں فی مربع کلومیٹر پر تقریبآ 250 نفوس ہیں لیکن آنے والے وقتوں میں یہ شرح 500 نفوس تک پہنچ جائے گی۔ پاکستان میں آبادی کی شرح نمو 2.05 فی صد ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں یہ شرح 2.08 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں فرٹیلیٹی شرح بہت زیادہ ہے ایک خاتون اوسطا چار بچے پیدا کر رہی ہے جو کہ جنوبی ایشیا میں دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ آبادی کے اضافے کو مکمل طور کنٹرول نہیں کیا جا سکتا لیکن بہتر خاندانی منصوبہ بندی سے اس مسئلے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ معاون خصوصی نے مزید کہا کہ پاکستان میں 35 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ایسے حالات میں خاندانی منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بصورت دیگر غربت کی وجہ سے بچے غذائی قلت کی وجہ سے سٹنٹنگ کا شکار ہو نگے۔ان کا کہنا تھا کہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ 9ملین حمل ہوتے ہیں جس سے 5 ملین حمل ارادی طور پر جبکہ 4 ملین حمل غیر ارادی ہوتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ والدین جو اولاد نہیں چاہتے مانع حمل ادویات سے لا علم ہیں یا پھر ان کی ذرائع تک پہنچ نہیں ہے۔ اگر صرف ان والدین کو خاندانی منصوبہ بندی کی سہولت میسر ہو جائے تو ہم کافی حد تک آبادی میں اضافے کو کم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا محکمہ پاپولیشن ویلفیئر اور ہمارے ساتھ کام کرنے والی دیگر غیر سرکاری تنظیموں کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے اور ان کی مانع حمل ذرائع تک رسائی ممکن بنائی جائے۔ سید احمد حسین شاہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہمارے ملک میں زرعی اراضی رہائشی کالونیوں میں تبدیل ہو رہی ہے زرعی زمین سکڑ رہی ہے جس سے زرعی پیداوار میں کمی ہو گی اور فوڈ سیکیورٹی کے خدشات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ بد قسمتی سے ماضی میں آبادی کے اضافے کی طرف دھیان نہیں دیا لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں اس پر کام شروع کیا ہے اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی ٹاسک فورس بنائی گئی ہیں صوبائی ٹاسک فورس کی سربراہی وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کر رہے ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ محکمہ پاپولیشن ویلفیئر نے خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لئے 600سے زائد علماء کرام کی خدمات حاصل کی ہیں۔ مزید برآں 200 علماء کرام کو صوبائی جوڈیشل اکیڈمی میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے ماسٹر ٹریننگز بھی دی گئی ہیں۔ سید احمد حسین شاہ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اکثر اوقات غذائی قلت اور سٹنڈیڈ بچوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریبآ 42فیصد بچے سٹنڈیڈ ہیں جسکا مطلب ہے کہ ہماری آنے والی نسل میں نصف آبادی غذائی قلت کی وجہ سٹنٹنگ کا شکار ہو گی۔ معاون خصوصی نے کہا کہ محکمہ پاپولیشن ویلفیئر نے بچے اور ماں میں غذائی قلت کی کمی کو دور کرنے کے لئے پروگرام ترتیب دیا ہے جسکے تحت زچگی کے دوران اور پیدائش کے بعد دو سال تک بچوں کو دودھ اور غذائیت سے بھرپور خوراک مہیا کی جائے گی تاکہ بچوں میں غذائی کمی کی وجہ سے سٹنٹنگ کا تدارک کیا جا سکے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ آبادی میں اضافہ قومی مسئلہ ہے اسلئے پورے پاکستان کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ محکمہ بہبود آبادی کا ساتھ دیں تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی میں اضافے کو کم کیا جاسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -