کے ایم یوکے وی سی نے ملازمت میں توسیع کیلئے کسی بھی عدالت میں پٹیشن دائر نہیں کی: وضاحتی بیان

کے ایم یوکے وی سی نے ملازمت میں توسیع کیلئے کسی بھی عدالت میں پٹیشن دائر ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)خیبر میڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو)پشاور کی جانب سے جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں گزشتہ روز بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق رٹ پٹیشن خارج کردی ہے۔وضاحتی بیان میں کہاگیا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کسی بھی عدالت میں نہ تو کوئی رٹ پٹیشن دائر کی تھی اور وہ نہ ہی ایک مرتبہ صوبائی کابینہ کا صوبے کی کسی بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو توسیع نہ ملنے کا فیصلہ آنے کے بعداس فیصلے کے خلاف کسی بھی عدالت میں چیلنج کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔دریں اثناء کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید نے گزشتہ روز پشور ہائی کورٹ سے خارج ہونے والی ان کی رٹ پٹیشن کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پٹیشن انہوں نے صوبائی کابینہ کے حالیہ فیصلے کے خلاف نہیں بلکہ اس سال فروری میں اس بنیا دپر دائر کی تھی کہ چونکہ کے ایم یو کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید جن کی ابتدائی تعیناتی کوپشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیا تھا اور جس پر فاضل عدالت نے مورخہ8مارچ2018کو جہاں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کی تعیناتی کا کیس وائس چانسلرزسرچ کمیٹی کودوبارہ ریفر کرنے کا حکم دیا تھا وہاں عدالت عالیہ نے پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کونئے وائس چانسلر کی تعیناتی تک عارضی طور پر بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کے واضح احکامات بھی جاری کیئے تھے۔یادرہے کہ سرچ کمیٹی نے جب پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کی بطورمستقل وائس چانسلر تعیناتی کی دوبارہ منظوری دی تھی تو محکمہ ہائر ایجوکیشن اس مستقل تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کرسکا تھا حالانکہ پشاور ہائی کورٹ نے مورخہ27فروری2019کو ایک دوسرے کیس کے فیصلے میں واضح طور پرقراردیاتھا کہ محکمہ ہائر ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کی بطورمستقل وائس چانسلر تعیناتی کانیا نوٹیفیکیشن جاری کرے لیکن حیران کن طور پر محکمہ ہائر ایجوکیشن نے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کی مستقل تعیناتی کا مذکورہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا جس پرپروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید نے اس سال فروری میں پشاور ہائی کورٹ میں ان کی مستقل تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی رٹ پٹیشن دائر کی تھی جسے گزشتہ دنوں تکنیکی بنیادوں پر خارج کردیا گیا اور اب بعض عناصر اپنے زاتی مفادات کیلیئے اس کیس کوان کو توسیع نہ ملنے کے لغواور من گھڑت الزامات کے ذریعے ان کے 30سالہ شاندار پیشہ ورانہ خدمات کو داغدار کر کے ان کی عزت اور ساکھ کو خراب کرنے کے درپے ہیں جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہوگی۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کی وائس چانسلر شپ کے تین سالہ عرصے میں کے ایم یو نے علم وتحقیق،گوورننس،مالی نظم وظبط،طلباء وطالبات کا ریکارڈ اضافہ اورمختلف سطحات کے نت نئے تعلیمی پروگرامات نیز حالیہ کورونا بحران کے دوران کے ایم یو پبلک ہیلتھ لیبارٹری کی صورت میں یونیورسٹی اور اس صوبے کی جو خدمت کی ہے اس کو نہ صرف گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے بنائی گئی جی آئی ٹی رپورٹ میں سراہا گیا ہے بلکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی اس عرصے میں کے ایم یو کی علمی اور تحقیقی خدمات کا اعتراف اپنی مختلف رپورٹس میں کر چکا ہے جو پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کی پیشہ ورانہ خدمات اور ان کے بے داغ کردار پر بھرپور اعتماد کا مظہرہے۔ #

مزید :

پشاورصفحہ آخر -