عوام کے جان و مال کے تحفظ،امن و امان کی بہتری اور سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے:محمود خان

عوام کے جان و مال کے تحفظ،امن و امان کی بہتری اور سہولیات کی فراہمی اولین ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت مجوزہ پشاور سیف سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لینے کے اعلی سطح کا ایک اجلاس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کو پراجیکٹ پر اب تک کی پیش رفت، ٹائم لائنز اور آئندہ کے لائحہ عمل، تجاویز اور دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پشاور سیف سٹی پراجیکٹ کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی تعمیر کے لئے 11 کنال اراضی مختص کر دی گئی ہے۔ 31پولیس سٹیشن کا سروے مکمل کیا گیا ہے جس کے تحت 3500سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے لئے 940مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ منصوبے کا پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے جس کی پی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری کے بعد سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک کو پیش کیا جائیگا۔ اجلاس کو لاہور، اسلام آباد اور پشاور سیف سٹی منصوبوں کی لاگت کا موازنہ بھی پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ پشاور سیف سٹی پراجیکٹ کا تخمینہ لاگت 19ارب روپے ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی، وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات ہمایون خان اور کیپٹل سٹی پولیس آفیسر محمد علی کے علاوہ محکمہ داخلہ اور پولیس کے دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مقررہ ٹائم لائینز کے مطابق تمام متعلقہ فورمز سے منصوبے کے پی سی ون کی منظوری کو یقینی بنایا جائے۔ محمود خان نے صوبائی دارالحکومت پشاور کے سکیورٹی مسائل کے کل وقتی حل کے لئے اس مجوزہ منصوبے کو بڑی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس منصوبے کو عملی طور پر شروع کرنے سے پہلے لاہور اور اسلام سیف سٹی پراجیکٹس کابغور مطالعہ کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ ابتدائی پر ان پراجیکٹس میں جو غلطیاں ہوئی تھیں وہ اس پراجیکٹ میں نہ دہرائی جائیں اور پراجیکٹ کی ہر لحاظ سے فیزیبلٹی کو یقینی بنانے کے بعد اس پر عملی کام کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے منصوبے کو دیر پا بنانے کے لئے منا سب ترین مالی ڈیزائن اور آپریشنل ماڈل اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ شروع کرنے سے پہلے اس میں تمام ممکنہ غلطیوں اور تکنیکی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان سے نمٹنے کے لئے جامع اور قابل عمل پلان تیار کیا جائے اور شہر کے مستقبل کی ضروریا ت کے تمام پہلوں کو مد نظر رکھ کر منصوبے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کی صورتحال کی بہتری اور عوام کو سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لئے فراہم کئے گئے وسائل کسی صورت رائیگاں نہیں جانے چاہئیے۔ وزیراعلیٰ نے سیف سٹی پراجیکٹ پر عملی کام کا جلد اجراء یقینی بنانے کے لئے تمام متعلقہ اداروں کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائیگی۔

مزید :

صفحہ اول -