پاکستان بمقابلہ انگلینڈ ،کورونا کے خوف اور ضابطوں میں لپٹی سیریز

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ ،کورونا کے خوف اور ضابطوں میں لپٹی سیریز

  

پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کیخلاف سیریز کے لئے بھرپور تیاریو ں میں مصروف ہے او ر کھلاڑیوں کی کوشش ہے کہ وہ کوچزکی زیر نگرانی اس اہم سیریز کے لئے بھرپور تیاری کریں اور اپنی خامیوں کو دور کرکے میزبان ملک کے خلاف عمدہ پرفارمنس دیں سیریز میں پاکستان کو مشکل حریف کے ساتھ کورونا سے بھی نمٹنے کے لئے ذمہ داری کامظاہرہ کرنا ہے او ر کورونا کے خوف کے سائے میں اس کی پرفارمنس کس طرح سے اچھی رہتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا نئے قوانین کے ساتھ کرکٹ ٹیم اب میدان میں اترے گی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچز بھی کھلاڑیوں کی تربیت میں ہر طرح ممکن محنت کررہے ہیں اور امید ظاہر کررہے ہیں کہ ان کی محنت ضرور رنگ لیکر آئے گی، سیریز یقینا پاکستان کے لئے اہمیت کی حامل ہے جبکہ اظہرعلی اور کپتان بابر اعظم کے لئے ایک بہت بڑا امتحان ہے۔کپتان قومی ٹیسٹ اسکواڈ اظہر علی کا کہنا ہے کہ تمام کھلاڑی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تین ماہ گھروں میں رہنے کے باوجود ان کی فٹنس کا معیارقابل ستائش ہے۔ اظہر علی نے کہا کہ طویل عرصے بعد میدان میں واپس لوٹنا آسان نہیں ہوتا مگر کھلاڑیوں کے عزائم بلند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار روز مسلسل نیٹ پریکٹس کے باعث کھلاڑیوں کو بھرپور اعتماد ملاہے۔قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے کہا کہ بلاشبہ پریکٹس میچ نیٹ میں انفرادی ٹریننگ سے بہترثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور کرکٹر انہیں بھی چار روز کی ٹریننگ سے زیادہ اعتماد دو روزہ پریکٹس میچ کھیل کر ملاہے، یہی وجہ ہے کہ ٹیم منیجمنٹ نے ڈربی روانگی سے قبل وورسٹر میں بھی 2 انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ کروانے کا انتظام کیا ہے۔ نوجوان پیس بیٹری شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کی پریکٹس میچ میں عمدہ لائن اور لینتھ نے کپتان کو خوب متاثر کیا ہے جبکہ سینئر فاسٹ باؤلر محمد عباس کی انگلش کنڈیشنز سے واقفیت اور کاؤنٹی کرکٹ کا تجربہ بھی ان کے لیے با عث اطمینان ہے۔ اظہر علی کاکہنا ہے کہ انٹرااسکواڈمیچ کے دوران چلنے والی تیز ہوا نے باؤلرز کے لیے مشکلات پیدا کیں مگروہ پرامید ہیں کہ باؤلرز جلد خود کو کنڈیشنز سے ہم آہنگ کرلیں گے۔ بابراعظم کی صلاحیتوں کے معترف کپتان کا کہنا ہے کہ نائب کپتان اور اسد شفیق نے جس پراعتماد انداز سے بیٹنگ کی وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا عابد علی اور شان مسعود نے بھی دن کے آغاز میں مشکل کنڈیشنز میں بہتر بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ اظہر علی نے کہا کہ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے اسکواڈ کو تاخیر سے جوائن کیا مگر ان کی بیٹنگ میں بھی نظم وضبط نظر آیا جو خوش آئند ہے۔ قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے کہا کہ کورونا وائرس کے سبب کھیل میں چند ناگزیر تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کو اپنانے کے لیے یہ پریکٹس میچز اہم ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھوک سے گیند چمکانے کی اجازت نہیں، ف، فی الحال وورسٹر کے موسم میں باؤلرز کے علاوہ کسی کو پسینہ نہیں آرہا لہٰذا اس حوالے سے گیند کی چمکائی کے لیے مختلف ممکنہ آپشنز آزمارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19 کے بعد اب کرکٹ میں باؤلرز کو اپنی جرسی اور ٹوپی خود باؤنڈری لائن کے باہر چھوڑ کر آنی ہے، اسپنرز کو اس قانون سے آگاہی میں کچھ وقت لگے گا۔ جبکہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان، ون ڈے اور ٹی ٹوئینٹی کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ سابق کپتان اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی طرح کپتانی کرنے کے خواہشمند ہوں۔ مجھے سابق کپتان عمران خان کی کی دو چیزیں بہت پسند ہیں۔ میں عمران خان کے انداز کو اپنانے کا خواہشمند ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ جارحانہ کرکٹ کھیلی ہے۔ عمران خان کھلاڑیوں کوسپورٹ کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے ہوجاتے تھے۔کھلاڑیوں کو بیک کرنے سے ہی سو فیصد کارکردگی لی جا سکتی ہے۔ جب کھلاڑیوں کو سراہا جاتا ہے تواعتماد ملتا ہے۔کھلاڑی جب پر سکون ہوں گے تو اچھا کھیلیں گے۔ بابر اعظم نے کہا کہ میں اب اپنا نہیں ٹیم کا سوچتا ہوں۔ اپنی کارکرگی سے بڑھ کر مجھے ٹیم کو آگے لیکر جانا ہے۔ کوشش یہی ہے کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کروں اور انہیں ساتھ لیکر چلوں۔ کھلاڑیوں کو اعتماد دوں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر پلاننگ کروں گا۔ کھلاڑیوں کو ساتھ لیکر ٹیم کو ٹاپ پر لے جانے کی منصوبہ بندی کروں گا۔بابر اعظم نے کہا کہ انگلینڈ سیریز میں پہلا انتخاب وکٹ کیپرمحمد رضوان ہی ہیں،سرفراز احمد نہیں جبکہ نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ کہتے ہیں کہ انگلینڈ کے ٹھنڈے موسم میں ہوا چل رہی ہے اور گیند کو اپنی مرضی سے گھمانے میں مدد ملتی ہے۔ تین ماہ بعد ووسٹر میں پریکٹس میچ ملا جو کہ بہت اچھا لگا۔ ڈیوک بال کی وجہ سے بھی سوئنگ مل رہی ہے۔ آہستہ آہستہ کنڈیشنز کے مطابق کھیلنے کی پریکٹس ہو رہی ہے۔ سویٹر، کیپ اور گلاسز امپائرز کو نہ پکڑانے کی پریکٹس کر رہے ہیں۔ موسم کی وجہ سے فیلڈرز کو پسینہ نہیں آتا۔ بولرز کو ہی پسینے سے گیند چمکانا ہوتی ہے۔ بہت کوشش کرتے ہیں کہ بال کو تھوک سے نہ چمکائیں۔ نسیم شاہ نے کہا کہ پہلی بار انگلینڈ آیا ہوں یہاں بولنگ کرنے کا آئیڈیا ہورہا ہے۔ اس سے قبل تین سیریز کوکابرا سے کھیلا تھا۔ ڈیوک گیند فرینڈلی ہوتا ہے۔ کوکا برا خراب جلدی ہوجاتا ہے اور شائن بھی نہیں ہوتا۔ جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کے باؤلر یاسر شاہ کا کہنا ہے کہ گیند کو چمکانا مشکل ہوگا، فاسٹ بولرز کیلئے مسائل ہوسکتے ہیں، ڈیوک بال کی وجہ سے اسپنرز کو کوئی ایشو نہیں ہوگا۔ یاسر شاہ نے کہا کہ انگلینڈ آ کر ٹریننگ کر کے اچھا لگا، 3 ماہ گھر پر رہے،ٹور کا سن کر بہت خوش ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پریکٹس اچھی رہی، بولنگ میں مشکل نہیں ہوئی، ابھی یہاں کی کنڈیشنز کا اندازہ لگا رہے ہیں، اسپنرز کو مدد ملے گی، پچز دیکھ کر ڈبل اسپنرز کھلانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔یاسر شاہ نے بتایا کہ 4 سال پہلے یہاں کھیلا ہوں اچھی پرفارمنس رہی ہے، اب بھی مشتاق احمد ساتھ ہیں امید ہے کہ اس مرتبہ بھی اچھا پرفارم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ گیم کا حصہ ہے کہ کبھی کوئی باؤلر پر فارم کرتا ہے تو کبھی دوسرا پرفارم کرتا ہے، میرا ٹیم میں رول تبدیل نہیں ہوا، صورتحال کے مطابق بولنگ کرتا ہوں۔یاسر شاہ نے کہا کہ میں نے 18ماہ بہت محنت کی، فٹنس کی وجہ سے مسائل بھی ہوئے، اب میں بہتر ہورہا ہوں ردھم میں ہوں انگلینڈ میں بھی اچھی بولنگ ہورہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مشتاق احمد کے ساتھ ایکشن اورگگلی پرکام کررہا ہوں، ماضی کی طرح مشتاق احمد کی موجودگی سے فائدہ ہوگا، گیند کواب چمکانا مشکل ہوگا فاسٹ بولرز کیلئے مسائل ہوسکتے ہیں جبکہ دوسری جانب بھارت کی کرکٹ ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ رینکنگ کے مطابق پہلے نمبر پر بدستور قائم ہے، آسٹریلوی ٹیم دوسرے جبکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ پاکستان کی ٹیم رینکنگ میں پانچویں نمبر پر ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے کورونا وائرس سے قبل مارچ کے مہینے میں آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی ناقابل شکست ٹیم بھارت کو دو میچوں کی سیریز میں کلین سویپ کرکے تین ایک درجہ ترقی حاصل کرلی تھی اور یوں کیوی ٹیم تین درجے ترقی کے بعد چھٹے سے تیسرے نمبر پہنچ گئی تھی، کیویز ٹیم بھارت کو پہلے میچ میں شکست دینے کے بعد ایک درجہ ترقی کے بعد چھٹے سے پانچویں نمبر پر پہنچی تھی تاہم مسلسل دو میچوں میں شکست دینے کے بعد اس نے مزید دو درجے ترقی کی یوں کیویز ٹیم کی بھارتی ٹیم کو سیریز کلین سویپ کرنے کے بعد تین درجہ ترقی ملی اور وہ اب آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ بھارتی ٹیم بدستور پہلے نمبر پر براجمان ہے جبکہ آسٹریلوی ٹیم دوسری پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم تیسرے نمبر پر ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم رواں ماہ مارچ میں ایک درجہ تنزلی کے بعد تیسری سے چوتھی پوزیشن پر چلی گئی تھی۔ نیوزی لینڈ نے مارچ میں آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھارتی ٹیم کی مسلسل عمدہ کارکردگی اور مسلسل فتوحات کے سلسلے کو توڑ دیا تھا۔ بھارتی ٹیم سات ٹیسٹ میچز میں کامیابی کی بدولت 360 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ بھارت نے گزشتہ سال اگست اور ستمبر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں کلین سویپ کیا۔ اکتوبر میں جنوبی افریقہ کو تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں وائٹ واش کیا۔ اس کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم کو دو ٹیسٹ میچز کی ہوم سیریز میں شکست دیکر مسلسل سات فتوحات حاصل کی تھیں تاہم رواں سال مارچ کے مہینے میں اس کو کیویز کے ہاتھوں دو میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں 10 وکٹوں کی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یوں بھارتی ٹیم کی مسلسل فتوحات کے تسلسل کو بھی کیوی ٹیم نے توڑ دیا تھا تاہم اس کے باوجود بھی بھارت کی ٹیم آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس ٹیبل پر سب سے زیادہ 360 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔ آسٹریلوی ٹیم اب تک 10 میچز کھیل چکی ہے اور اس نے 7 میچز جیتے، دو میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ ایک میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا تھا، یوں آسٹریلوی ٹیم ٹیبل پر 296 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ کیویز ٹیم اب تک 7 میچز کھیل چکی ہے جس میں اسکو تین میچوں میں فتح حاصل ہوئی جبکہ اس کو چار میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کو مسلسل دو میچوں میں شکست دینے کے بعد تین درجے ترقی کے بعد کیوی ٹیم 180 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم 9 میچز کھیل کر 5 میں کامیابی کے بعد 146 پوائنٹس کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر موجود ہے۔ پاکستان کی ٹیم 140 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ سری لنکن ٹیم 80 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم 24 پوائنٹس کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم دو اور بنگلہ دیش کی ٹیم تین ٹیسٹ میچز کھیل چکی ہے۔ دونوں ٹیمیں تحال کوئی میچ نہیں جیت سکیں اور وہ بالترتیب آٹھویں اور نویں نمبر پر ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -