حلقہ فکروفن کے زیرِاہتمام احمد ندیم قاسمی کی برسی پر خصوصی اجلاس کا انعقاد

حلقہ فکروفن کے زیرِاہتمام احمد ندیم قاسمی کی برسی پر خصوصی اجلاس کا انعقاد
حلقہ فکروفن کے زیرِاہتمام احمد ندیم قاسمی کی برسی پر خصوصی اجلاس کا انعقاد

  

ریاض (وقار نسیم وامق) حلقہء فکروفن کے زیرِاہتمام صاحبِ طرز ادیب اور عظیم شاعر احمد ندیم قاسمی کی چودھویں برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک اجلاس   مقامی ریستوران فوڈ پیلس میں منعقد ہوا، جس کی صدارت حلقہء فکروفن کے صدر ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے کی، مہمان خصوصی معروف بزنس مین اور حلقہء فکرو فن کے چیئرمین شیخ سعید احمد تھے جبکہ مہمانِ اعزاز حلقہء فکروفن کے منطقہ شرقیہ سے تشریف لانیوالے شعیب شہزاد تھے، وقار نسیم وامق نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے، ڈاکٹر محمود احمد باجوہ نے تلاوت قرآن پاک، ترجمہ اور تفسیر سے محفل کا آغاز کیا. 

حلقہء فکروفن کے ابھرتے ہوئے شاعر قلبِ عباس نے اپنے بہترین انداز میں نعت رسول مقبولﷺ پیش  کرکے  سماں باندھ دیا. 

وقار نسیم وامق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ احمد ندیم قاسمی مخزنِ فکروفن اور منبعِ علم و کمال تھے، انہوں نے اپنے ادبی جریدے فنون کے ذریعے جو خدمات سرانجام دیں وہ تاریخِ اردو ادب کا حصہ ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، انہوں نے بہترین نظامت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے احمد ندین قاسمی کے دل موہ لینے والے اشعار پڑھ کر زبردست خراج عقیدت پیش کیا. 

ناظم الامور ڈاکٹر طارق عزیز نے اپنے خوبصورت مقالہ میں قاسمی صاحب کو زبردست انداز میں خراج عقیدت پیش کیا، جس پر حاضرین داد و تحسین دیئے بغیر رہ نہ سکے، انہوں نے کہا کہ احمد ندیم قاسمی کی شاعری میں روایت اور جدت کی بڑی اعلیٰ آمیزش ملتی ہے، ان کی نظم کو بھی جدید نظم کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے اسلوب اور موضوعات کے حوالے سے قاری کو ایک نئے جہان میں لے جاتی ہے، جہاں تک احمد ندیم قاسمی کی افسانہ نگاری کا تعلق ہے انہوں نے دیہی زندگی کی جس خوبصورت طریقے سے عکاسی کی ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے.   

قاضی اسحاق میمن نے احمد ندیم قاسمی کی زندگی کے اوراق سے پردہ اٹھایا اور ان کی شاعری کا سون سے فنون تک کے سفر پر سیر حاصل بحث کی، انہوں نے کہا کہ آپ اردو ادب کے ایک عہد پر اثر انداز ہوئے، آپ نے بطور افسانہ نگار اور شاعر اپنی انفرادی حیثیت اس وقت قائم رکھی جب برصغیر میں ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔

معروف سکالر اور فکروفن کے ایڈوائزر ڈاکٹر محمود احمد باجوہ نے کہا کہ قیام پاکستان سے قبل اردو ادب پر جن شخصیات کی چھاپ تھی ان میں احمد ندیم قاسمی صاحب کی حیثیت نمایاں تھی، اس لحاظ سے آپ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، فیض احمد فیض اور منٹو کے ہم عصر تھے، طلحہ ظہیر نے احمد ندیم قاسمی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ احترام آدمیت کا درس دیا اور ساری زندگی انسانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، محمد اسلم عاشق نے کہا کہ قاسمی صاحب ہماری ادبی تہذیب کے ایک عہد کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کا فیضان جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا. 

مہمانِ اعزاز شعیب شہزاد نے کہا کہ انکی وفات سے اردو ادب میں کبھی نہ پر ہونے والا خلا پیدا ہوا ہے، انہوں نے اپنی زندگی اردو زبان و ادب کے لیے وقف کر رکھی تھی، انکی گرانقدر خدمات ادبی دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکے گی، احمد ندیم قاسمی نے اردو ادب کی دونوں اصناف نظم و نثر میں بہت متحرک کردار ادا کیا، ان کی ساری زندگی اسی فن کی ترویج میں گزری وہ بطور انسان، شاعر اور ادیب قابل تقلید شخصیت تھے. 

مہمانِ خصوصی شیخ سعید احمد نے کہا کہ احمد ندیم قاسمی ایک فلک پیما شاعر و ادیب تھے، بیسویں صدی کے وسط میں جو نسل اردو شاعری اور نثر نگاری کے حوالے سے ابھری ان میں احمد ندیم قاسمی منفرد حیثیت رکھتے تھے، اپنے ادبی مقام کے علاوہ جو چیز انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ زندگی نے جو کچھ انہیں دیا وہ انہوں نے بعد میں آنے والوں میں بانٹ دیا، فنون کی شکل میں نئی نسل کی سرپرستی، نرم گفتاری، بے لوث محبت اور دوسروں کے کام آنا ان کی یادگار ہے. 

صدرِ مجلس ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے کہا کہ احمد ندیم قاسمی کی شخصیت مختلف جہتوں پر مشتمل تھی، وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ہمیشہ سچائی کے علمبردار رہے، انہوں نے فکری سطح پر نہ صرف کئی نسلوں کو متاثر کیا بلکہ ان کی رہنمائی کا فریضہ بھی سر انجام دیا، وہ جتنے بڑے ادیب تھے اس سے کہیں بڑے انسان تھے، ایسی شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں، ان کی وفات کے بعد رسالہ فنون کا بند ہونا دوسرا بڑا المیہ ہے، احمد ندیم قاسمی کا نام اردو ادب میں ہمیشہ زندہ و پائندہ رہے گا. 

احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا کہ

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن

یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

حلقہ فکروفن کے شعراء وقار نسیم وامق، ڈاکٹر محمد ریاض عاجز ، قلبِ عباس اور شعیب شہزاد نے احمد ندیم قاسمی کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا،

ڈاکٹر محمد ریاض عاجز

قابل، ذہین، زیرک و عالم، فہیم تھے

کالم نویس ایک جو احمد ندیم تھے

ذیشان، مقتدر بھی صحافی دبنگ بھی

کالم نگار  حرف و حکایت و جنگ بھی

جدت طراز، شاعرِ امید و بیم تھے

کالم نویس ایک جو احمد ندیم تھے

وقار نسیم وامق

ہم کو خدا کی ذات نے بخشی سماعتیں

تم کو خدائے پاک نے اذنِ سخن دیا

احمد ندیم قاسمی کی شکل میں ہمیں

اکبر کے ہر رتن سے بھی اعلیٰ رتن دیا

قلبِ عباس

یاد کر رہی ہے تجھے اب بھی اک انجمن

نام ہے جس کا جہاں میں حلقہء فکروفن

کلام عمدہ ہے اور افکار ہیں ھاشمی

بلا کا ہے مصنف احمد ندیم قاسمی 

آخر میں قاضی اسحاق میمن نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پر تکلف کھانے پر محفل کا اختتام ہوا۔

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -