کیاحکومت ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کی پنشن واقعی ختم کر رہی ہے؟تجزیہ کار حبیب اکرم نے جواب دے دیا

کیاحکومت ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کی پنشن واقعی ختم کر رہی ہے؟تجزیہ ...
کیاحکومت ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کی پنشن واقعی ختم کر رہی ہے؟تجزیہ کار حبیب اکرم نے جواب دے دیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن ) تجزیہ کار حبیب اکرم نے کہا کہ حکومت پنشن نہیں ختم کررہی بلکہ حکومت ایسا سسٹم لارہی ہے کہ ہم پنشن کو نکالیں بجٹ میں سے اور اس طریقے جیسے اب بھی ہوتا ہے کہ ہر سرکاری ملازمین کی تنخوا کا کچھ حصہ گریجویٹی کی صورت میں جمع ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر اس پر ٹیکس لگتا ہے اور پھر پنشن دی جاتی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں حبیب اکرم نے بتایا کہ اب حکومت یہ کرنا چاہ رہی ہے کہ پنشن کو خزانے سے نکالا جائے، اپنے بجٹ سے نکالا جائے، کیونکہ بجٹ میں ہرگزرتے دن کے ساتھ پنشن کا بوجھ بڑھتا جارہاہے، یعنی اگر چاروں صوبوں کا دیکھا جائے تو تقریباً پندرہ سو ارب روپے پنشن میں دیے جاتے ہیں۔ جب پنشن میں اتنی رقم دی جائے گی تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ پنشن تو کیا تنخواہ کے پیسے بھی نہیں ہونگے۔ ایسا نہیں کہ پاکستان میں ظلم ہورہاہے بھارت میں ایسا ہوچکا ہے۔

حبیب اکرم نے کہاکہ اگر آپ کو معاشی طور پربچانا ہے تو پھر پنشن کیلئے یہ سسٹم لانا ہوگا، ورنہ پھر ایسا ہوگا کہ بجٹ میں صرف جتنے ٹیکس ہونگے اتنی ہی پنشن ہوگی۔ اور ملازمین بھی کم کرنا ہونگے، جب ایک انسان اپنے سارے کام خود کرسکتا ہے تو پھر اس کیلئے پی اے اور دیگر ملازمین کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس طرح ایک بجائے چار ملازمین کو تنخواہیں دی جارہی ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ ملازمین کو پنشن اور گریجویٹی دے کر ریٹائرکیا جائے اور ریٹائرمنٹ کے طریقہ کار کیلئے تین کمیٹیاں بنائی جائیں، پہلی کمیٹی گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کیلئے سفارشات دے گی۔دوسری کمیٹی گریڈ سترہ سے انیس تک کے ملازمین کیلئے سفارشات دے گی۔تیسری کمیٹی گریڈ بیس سے بائیس تک کے ملازمین کے معاملات دیکھے گی۔

مزید :

قومی -