حکومت نے تعمیراتی شعبے میں ملکی تاریخ کا بہترین پیکج دیا، بلڈرز اس تاریخ سےپہلےفائدہ اٹھا لیں،وفاقی وزیر اطلاعات نے اعلان کردیا

حکومت نے تعمیراتی شعبے میں ملکی تاریخ کا بہترین پیکج دیا، بلڈرز اس تاریخ ...
حکومت نے تعمیراتی شعبے میں ملکی تاریخ کا بہترین پیکج دیا، بلڈرز اس تاریخ سےپہلےفائدہ اٹھا لیں،وفاقی وزیر اطلاعات نے اعلان کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی پالیسیوں کا محور غریبوں کی فلاح وبہبود ہے،حکومت نے تعمیراتی شعبے میں ملکی تاریخ کا بہترین پیکج دیا،بلڈرز 31 دسمبر سے پہلے پیکج کا فائدہ اٹھا لیں جبکہ چیئرمین پاکستان ہاؤسنگ سکیم لیفٹیننٹ جنرل انورعلی نےکہاہےکہ5 مرلےکے گھر پر 5فیصد اور10مرلے گھر پر 7فیصد مورگیج ہوگا، کنسٹرکشن انڈسٹری کی ترقی سے بہت سے شعبوں کوفائدہ ہوگا۔

اسلام آبادمیں نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کےچئیرمین لیفٹیننٹ جنرل انور علی کےہمراہ پریس کانفرنس کرتےہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے سے 40صنعتیں وابستہ ہیں، اس لئے اس شعبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے خصوصی ادارہ بنایا،وزیراعظم نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم سے متعلق سنجیدہ ہیں،حکومت کا کام سرمایہ کاروں کو سہولتیں دینا ہے،تعمیراتی صنعت سے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت بینک نجی قرضوں میں سے5فیصد تعمیرات کے شعبے کو دینے کے پابند ہونگے،پالیسی کےتحت بینکوں کےشرح منافع کا تعین بھی کردیا گیا ہے،بینک تعمیرات کے شعبے میں سالانہ 330ارب روپے کے قرضے دے سکیں گے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر کااس سکیم میں شامل ہونا بہت ضروری ہے،سب سے کم آمدنی والے لوگوں کے لیےایک لاکھ گھرکا ٹارگٹ رکھا گیا ہے،سب سے پہلے انھیں ہی تعمیر کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تعمیرات کے شعبے میں فکسڈ ٹیکس پالیسی متعارف کرائی ہے،31دسمبر تک تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے آمدن ذرائع نہیں پوچھے جائیں گے،لوگوں کو دفاتر میں چکر نہیں لگانے پڑیں گے ۔لیفٹیننٹ جنرل انور علی نے کہا ہے کہ 5مرلے کے گھر پر 5فیصد اور10مرلے گھر پر 7فیصد مورگیج ہوگا، کنسٹرکشن انڈسٹری کی ترقی سےبہت سےشعبوں کوفائدہ ہوگا،اپریل میں حکومت نےجو پیکج دیااس میں ٹیکس کامعاملہ حل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئےقرض کےفکسڈ ٹیکس ریٹ کو بہت کم کیاگیا ہے،پالیسی کے ذریعے صوبائی ٹیکس، پراپرٹی ٹرانسفر پر ٹیکس کو کم کیا گیا اب کسی کواپنےلئےگھربناناہےتو اس پرکیپٹل گین ٹیکس ختم کردیاگیا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل انور علی کاکہناتھاکہ کم آمدنی والاشخص گھر بنائےتو12فیصد پرقرضہ لیناممکن نہیں تھا، 5مرلے کےگھرپر 5فیصد اور10مرلےگھرپر7فیصد مورگیج ہوگایہ فورم بلڈرز اور ڈویلپرز کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے بنایاگیا، کم آمدنی والے لوگوں کیلئے ایک لاکھ گھر کا ہدف رکھا گیا ہے حکومتی پالیسی کے نتیجے میں 20لاکھ کے گھرکی قیمت 15لاکھ پر آجائے گی۔

مزید :

قومی -