بلوچستان میں کورونا کی وبا،جام کمال حکومت نے تشویش ناک صورتحال سے آگاہ کردیا

بلوچستان میں کورونا کی وبا،جام کمال حکومت نے تشویش ناک صورتحال سے آگاہ ...
بلوچستان میں کورونا کی وبا،جام کمال حکومت نے تشویش ناک صورتحال سے آگاہ کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نےکہاہےکہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دو رویہ کیاجارہا ہے، 11 دنوں میں 4ہزارسے زائد ٹیسٹ ہوئےاورتقریباً 600 مثبت کیس آئے،اگر اسی تیزی سے کیس بڑھتے رہے تو بلوچستان میں عید تک3 لاکھ سے زائد کیسز ہو سکتے ہیں،صوبائی حکومت نوکریوں کے مواقع پیدا کر رہی ہے، بلوچستان کی تاریخ کا پہلا کینسر ہسپتال فروری میں شروع کرنے جا رہے ہیں ۔

نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان صوبائی حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کیسز کی شرح کم ہے،اس لیے لاک ڈاؤن کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی،کورونا کی وبا سے نمٹنا مشکل تھا، کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیےمختلف حکمت عملی بنائی گئی،23اپریل سے 23مئی تک 10ہزار 500کیسز تھے،عید کے بعد ڈیڑھ ماہ میں بلوچستان سے 7734کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ پورے ملک میں کرونا کیسزمیں کمی واقع ہو رہی ہے،صوبے  کے23 اضلاع میں کورونا کے کیسز آئے جبکہ 10 اضلاع میں کوئی ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا ،پہلے لوگ چاہتے تھے ٹیسٹ زیادہ ہوں، تب ہمارے پاس ٹیسٹنگ کٹس نہیں تھیں،11 دنوں میں 4ہزارسے زائد ٹیسٹ ہوئےاورتقریباً 600 مثبت کیس آئے،اگر اسی تیزی سے کیس بڑھتے رہے تو عید تک3 لاکھ سے زائد کیسز ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈھائی ماہ قبل بلوچستان میں وبا کی جو صورتحال تھی اب بھی ویسی نہیں ہے، مویشی منڈیوں کی وجہ سے کرونا سمیت کانگو کا خطرہ ہو سکتا ہے، بلوچستان میں کرونا کیسز میں 50 فیصد کمی آئی ہے،بلوچستان میں صرف 16 مریض ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ بلوچستان میں کرونا سے 126 اموات ہوئیں،بلوچستان میں اس وقت 63 قرنطینہ سینٹر موجود ہیں جبکہ تقریباً 3500 مریض اس وقت گھروں میں قرنطینہ میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بزرگوں میں کیسزکی شرح کم ہے لیکن شرع اموات زیادہ ہے،

بلوچستان کی تاریخ کا پہلا کینسر ہسپتال فروری میں شروع کرنے جا رہے ہیں

مزید :

کورونا وائرس -