پسِ جدیدیت (لہجے اور اسلوب)

 پسِ جدیدیت (لہجے اور اسلوب)
 پسِ جدیدیت (لہجے اور اسلوب)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ادبی تنقید ایک مشکل ترین فن ہے جس کی اپنی حدود ہیں۔ ایک تخلیقی فنکار کو جو آزادیاں میسر آتی ہیں، تنقید نگار کی حدود میں ان آزادیوں کے معنی بڑی حد تک بدل جاتے ہیں۔ تنقید اپنی بنیادیں تخلیق ہی پر کھڑی کرتی ہے،اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تخلیق کا کام جہاں ختم ہوتا ہے وہیں سے تنقید کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر تحسین فراقی لکھتے ہیں: ”تنقید کے سلسلے میں ایک جملہ عام سننے میں آتا ہے کہ تنقید تخلیق کے مابعد کے عمل کا نام ہے اور یہ بات درست بھی ہے، مگر بعض اوقات تنقید کی ایک قسم، تنقید کے مابعد بھی وجود میں آتی ہے، جسے نقدِ تنقید کے ذیل میں رکھا جاتا ہے، بعض صورتوں میں یہ نقدِ تنقید پھر معرضِ تنقید میں آ جاتی ہے اور پھر یوں رد عمل کا ایک سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔ اُردو تنقید میں اس قسم کی مثالیں کم نہیں ہیں“۔


تنقید نگار اپنے علم، اپنے تجربات اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کی بنیاد پر جو کچھ لکھتا ہے وہ اس کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ دورِ حاضر میں اکرم کنجاہی کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پسِ جدیدیت کو ادبی تنقید کے تناظر میں دیکھنے کی شعوری کوشش کی ہے۔وہ ایک وسیع المطالعہ آدمی ہیں۔ ان کی تحقیق کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے اور وہ مثبت تنقید کے حامل ہیں۔ ”پسِ جدیدیت (لہجے اور اسلوب)“ ان کی تنقید کے حوالے سے چوتھی کتاب ہے، جس کے ابتدائیہ میں پروفیسر ڈاکٹر شفیق آصف لکھتے ہیں: ”پسِ جدیدیت کی اساس کسی خاص نظریے یا کسی عملی وادبی رجحان کے تابع نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ عمل عہد بہ عہد بدلتے ہوئے منظر نامے کے ساتھ وابستہ ہے۔ اکرم کنجاہی کی پسِ جدیدیت کے ضمن میں کی گئی تشریحات اس لیے منفرد اور جداگانہ کاوش ہیں کہ انہوں نے ادب کی مختلف اصناف کے وسیع مطالعے کے بعد کتاب تحریر کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔اکرم کنجاہی کا ایک طرۂ امتیاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہمارے روایتی نقادوں کی طرح لفظوں اور نظریات کی نقالی کرنے کی بجائے اپنے فکری نظریے کو تنقید کے سنجیدہ مباحث میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق و تنقید کے حوالے سے شائع ہونے والی اُن کی تمام کتب متوازن افکار و نظریات کی عکاس ہیں“۔


اکرم کنجاہی بنیادی طور پر بینکار ہیں، تاہم وہ تحقیق و تنقید کے حوالے سے اُردو ادب کے باشعور اور آزاد سوچ رکھنے والے ادیب ہیں۔انہوں نے پسِ جدیدیت کی بحث کو ایک نئی فکری اپروچ کے ساتھ دیکھنے اور بیان کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اکرم کنجاہی نے اپنی کتاب ”پسِ جدیدیت (لہجے اور اسلوب)“ میں مختلف ادبی اصناف اور کتب کاجائزہ بھی لیا ہے، جن میں عشرت معین سیما، محمد اسلام، منظر عارفی، ابوالفرح ہمایوں،خالد محمود قیصر، جام فدا حسین کے علاوہ دلاور علی آذر، فہیم شناس کاظمی، امر روحانی، کامی شاہ، شبیر نازش و دیگر اہل قلم شامل ہیں،جنہیں پسِ جدیدیت کے آئینے میں دیکھتے ہوئے ان کے لہجے اور اسلوب کی خوبیوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔”پسِ جدیدیت (لہجے اور اسلوب)“ کا انتساب سائیں تغڑی کے نام کرتے ہوئے وہ اپنی ابتدائی زندگی کے نشیب وفراز سے پردہ اُٹھاتے نظر آتے ہیں:”میرے بچپن کے اُس عجیب کردار کی جو چیز ہمیشہ یاد رہتی ہے،وہ محبت کے اسلوب میں اُس کی وارفتگی تھی۔ مَیں اپنی اس کتاب کا انتساب اُس محبت افروز شخص کے نام کرتا ہوں“۔ بقول غالب:
چند تصویرِ بُتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا


اس کتاب میں پسِ جدیدیت پر فکری مباحث کے ساتھ ساتھ معاصر تحقیق و تنقید کا جائزہ بھی خوب لیا گیا ہے، جبکہ پسِ جدیدیت میں فکشن کے رجحانات اور مزاح نگاری کی صورتِ حال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، ”غزل کی بوقلمونی“ میں وہ لکھتے ہیں:”روز مرہ کے اسلوب میں بیانیہ کو غزل کے اشعار میں سمیٹ لینا ہر گز سہل ممتنع نہیں۔ میرا ہمیشہ سے یہ نقطۂ نظر رہا ہے کہ ادب میں لازمی طور پر حسن اور جذبے کا تخلیقی اظہار ہونا چاہیے۔ تہہ داری سہل ممتنع کا لازمی عنصر ہے“۔اس کے علاوہ دیگر مضامین میں نظم نگاری کا منظر نامہ اور ہائیکو کے امکانات شامل ہیں۔اس کتاب میں شامل سب مضامین پڑھنے کے قابل اور داد طلب ہیں، کیونکہ پسِ جدیدیت موجودہ عہد کے تمام اہم موضوعات کا نہ صرف احاطہ کرتی ہے، بلکہ اس کا دائرہ عمل ادب سے لے کر سماجی علوم تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ میرے نزدیک اکرم کنجاہی کا پسِ جدیدیت کے حوالے سے کیا گیا کام آج کی نسل اور آنے والی نسلِ نو کے لئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔”پسِ جدیدیت (لہجے اور اسلوب)“ جیسی حاصل مطالعہ کتاب کو لاہور کے معروف اشاعتی ادارہ ”کتاب ورثہ“ نے چھاپا ہے، جس کے روحِ رواں مظہر سلیم مجوکہ ہیں جو خود بھی ایک کتاب دوست شخصیت ہیں۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ اللہ رب العزت اکرم کنجاہی کے زورِ قلم میں اور اضافہ کرے،آمین

مزید :

رائے -کالم -