جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے موت کے فرشتے کی آنکھ نکال دی

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے موت کے فرشتے کی آنکھ نکال دی
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے موت کے فرشتے کی آنکھ نکال دی

  

اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکتا، انسانوں کی روحیں قبض کرنے کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے چار مقرب فرشتوں میں سے ایک حضرت عزرائیل علیہ السلام  کے ذمے لگا رکھا ہے انہیں ملک الموت بھی کہا جاتا ہے، یہ  مومنوں کی روحیں انتہائی خوبصورت شکل میں آکر قبض کرتے ہیں جب کہ کافروں کی روح قبض کرتے وقت انتہائی خوفناک شکل میں آتے ہیں، آج ہم ملک الموت کے حوالے سے دو واقعات بیان کریں گے جن میں سے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ جب کہ دوسرا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موت کے فرشتے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف انسانی صورت میں بھیجا گیا۔ جب وہ فرشتہ آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اسے تھپڑ مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ رب تعالیٰ کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: اے اللہ! تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ درست فرما دی اور فرمایا: ان  کے پاس دوبارہ جا اور انہیں کہہ کہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھیں، انہیں ہر بال کے عوض، جو  ان کے ہاتھ کے نیچے آئے گا، ایک سال زندگی ملے گی۔  موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا  اے میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: پھر موت! انہوں نے کہا: پھر ابھی ٹھیک ہے، لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ مجھے ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے تک مقدس سرزمین کے قریب کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں  راستے کی ایک جانب سرخ رنگ کے ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھاتا۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کو تھپڑ مار کر ان کی آنکھ کیوں پھوڑی ، اس بارے میں ابن بطال رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اصل میں اللہ تعالی نے فرشتے کو حضرت موسی علیہ السلام کے امتحان کے لیے بھیجا تھا نہ کہ موت کے لیے۔  اس حوالے سے مکمل تفصیل جاننے کیلئے ڈیلی پاکستان ہسٹری کی یہ ویڈیو دیکھیں۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

روشن کرنیں -