تین درہم کے بدلے ملکہ زبیدہ کو جنت کا محل فروخت کرنے والے بہلول کا اصل نام کیا تھا؟

تین درہم کے بدلے ملکہ زبیدہ کو جنت کا محل فروخت کرنے والے بہلول کا اصل نام کیا ...
تین درہم کے بدلے ملکہ زبیدہ کو جنت کا محل فروخت کرنے والے بہلول کا اصل نام کیا تھا؟
سورس: Wikimedia Commons

  

بہلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور  میں ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف توجہ  کرتے لیکن جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔

کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن امر اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی ملاقات 188 ہجری میں خلیفہ کے سفر حج کے دوران کوفہ میں ہوئی، جس کا ذکر امام ابن کثیر نے بھی کیا ہے۔ بہلول نے ہارون کو جو نصیحتیں کیں ان سے متاثر ہو کر وہ انہیں اپنے ساتھ بغداد لے آیا اور پھر بہلول کا ٹھکانہ بغداد کی گلیاں ہی رہیں۔ بہلول کا مزار بھی بغداد میں ہی ہے جس کے ایک گوشے کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک نے چلہ کاٹا تھا۔

کہتے ہیں کہ ایک دن بہلول دریائے دجلہ کے کنارے بیٹھے گیلی ریت کی ڈھیریاں بنا رہے تھے اور ہارون الرشید کی چہیتی ملکہ زبیدہ اپنے محل کے جھروکے سے بڑے انہماک کے ساتھ انہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ مٹّی کی ڈھیری بناتے اور پھر خود ہی اسے مسمار کر دیتے۔ ملکہ جھروکے سے اتر کر اپنی سہیلیوں کے ہمراہ دریا کنارے آگئی اور پوچھا ’کیا کر رہے ہو بہلول؟‘۔

بہلول نے ادائے بے نیازی سے کہا ’جنت کے محل بنا رہا ہوں‘۔

ملکہ نے سوال کیا ’اگر کوئی تم سے یہ محل خریدنا چاہے تو فروخت کرو گے؟‘۔ بہلول نے کہا ’ہاں ہاں، کیوں نہیں، میں بناتا بھی ہوں اور فروخت بھی کرتا ہوں‘۔ ملکہ نے پوچھا، ’بتاؤ ایک محل کی قیمت کیا ہے‘۔ بہلول نے بے ساختہ کہا ’تین درہم‘ (بعض لوگوں نے ایک درہم بھی لکھا ہے)۔ ملکہ کے حکم پر بہلول کو تین درہم اسی وقت ادا کر دیے گئے۔

یہ واقعہ ملکہ نے اپنے شوہر خلیفہ ہارون الرشید کو بتایا جسے خلیفہ نے مذاق میں ٹال دیا، لیکن رات کو ہارون نے خواب میں جنت کے مناظر دیکھے جن میں آبشاروں اور مرغزاروں کے علاوہ خوبصورت محلات بھی شامل تھے۔ سرخ یاقوت کے ایک محل پر اس نے زبیدہ کا نام بھی لکھا دیکھا۔ ہارون نے سوچا کہ دیکھوں تو سہی کیوں کہ یہ میری بیوی کا گھر ہے۔ وہ محل میں داخل ہونے کے لیے جیسے ہی دروازے پر پہنچا، دربان نے اسے روک لیا۔ ہارون الرشید کہنے لگا، اس پر تو میری بیوی کا نام لکھا ہے، اس لیے مجھے اندر جانا ہے، دربان نے کہا ’نہیں، یہاں کا دستور الگ ہے، جس کا نام ہوتا ہے صرف اسی کو اندر جانے کی اجازت ہے، لہٰذا آپ کو داخل ہونے کی اجازت نہیں‘۔ جب دربان نے ہارون کو پیچھے ہٹایا تو اس کی آنکھ کھل گئی لیکن بیدار ہونے پر خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے زبیدہ کے حق میں بہلول کی دعا قبول کر لی ہے، چنانچہ وہ ساری رات اسی افسوس میں کروٹیں بدلتا رہا۔اگلی شام وہ بہلول کو تلاش کرتا دریا کنارے پہنچ گیا۔ اس حوالے سے مکمل تفصیل جاننے کیلئے ڈیلی پاکستان ہسٹری کی یہ ویڈیو دیکھیں۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

روشن کرنیں -