پھولوں کی حفاظت کیسے کریں ....؟ (1)

پھولوں کی حفاظت کیسے کریں ....؟ (1)
 پھولوں کی حفاظت کیسے کریں ....؟ (1)

  

انتہائی کم سن بچوں میں خود سوزی اور خودکشی جیسے ”انتہاپسندانہ“ اور منفی رجحانات اور رویوںکا ہمارے معاشرے میں در آناکسی المیے سے کم نہیں۔ اس موضوع نے صرف مجھے ہی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے.... قارئین کی بڑی تعداد نے جہاںاس موضوع پر لکھے جانے والے گزشتہ کالموں کو پسند کیا، وہیں والدین کی بڑی تعداد نے راقم سے یہ سوال بھی کیا کہ ”آپ پارلیمنٹ کے ایک رکن کے طور پر اس حوالے سے پارلیمنٹ کے اندر کیا کررہے ہیں؟کیونکہ محض کالم لکھ دینے سے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا“....مَیںخود بھی ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ کسی مسئلے پر محض کالم لکھ دینا ہی اس مسئلے کا کسی بھی طور حل نہیں ہوتا، لیکن اسے مسئلے کے حل کی جانب ایک قدم ضرور قرار دیا جاسکتا ہے ،کیونکہ کالم کے ذریعے کسی بھی مسئلے کے حل کی جانب پیش رفت کی جاسکتی ہے، مسائل کے حل کے لئے آگاہی پھیلائی جاسکتی ہے اور ایک ایسی مثبت بحث کا آغاز کیا جاسکتا ہے، جس کے نیک انجام میں مسئلے کا حل پوشیدہ ہو۔رکن قومی اسمبلی ہونے کے باوجود میرے لئے سیاسی مسائل اس وقت ثانوی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں، جب سماجی مسائل کا اژدھا ہمارے بچوں کو نگلنے لگے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے پارلیمنٹ میں قانون سازی تو کی جاسکتی ہے، لیکن اس قانون پرعمل کے لئے ”دوست ماحول“ سماجی سطح پر زمین ہموار کرنے سے ہی پیدا کیا جاسکتا ہے۔ میرے نزدیک بچوں میں منفی رویوں کا جنم لینا بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے، جس کے حل کے لئے معاشرے میں اس انداز میں زمین ہموار کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر کسی کو اپنی ذمہ داری اور فرض کی ادائیگی کا مکمل احساس ہو۔گزشتہ کالموں میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ بچے والدین، خاندان اور اساتذہ جیسے نگہداشتی اداروں ، معاشرے، اپنی ذات اور بالآخر اپنی زندگی سے ہی کیوں باغی ہوجاتے ہیں؟انہی کالموں میں ہم نے بچوں میں منفی رویوں کے اسباب اور وجوہات کے حوالے سے بھی جاننے کی کوشش کی تھی۔اسباب اور وجوہات جاننے کے بعد یہ بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ اس اہم ترین سماجی مسئلے کے حل کے لئے راہ بھی نکالی جائے۔آنے والی سطور میں ہم یہی جاننے کی کوشش کریں گے کہ بچوں کو منفی رویے کی دلدل میں دھنسنے سے کیسے بچایا جاسکتا ہے؟ بچوں کو مکمل بارعب شخصیت اور باکمال انسان بنانے کے لئے والدین کو چاہیے کہ وہ ذیل میں بیان کئے گئے نکات کو ضرور مدنظر رکھیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ بچے بعض اوقات اپنے رویے سے والدین کو پریشانی میں مبتلا کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مالی اور صحت کے لحاظ سے کمزور بچوں میں منفی رویے تیزی سے پنپتے ہیں، جب صورت حال ایسی ہو تو ان حالات میں والدین کو زیادہ صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔والدین بچوں سے برتاو¿ کے وقت اپنے غصے کو قابو میں رکھیں اور بچوں کے ساتھ حسن ِاخلاق کا مظاہرہ کریں ، اس سے نہ صرف بچوں میں پیدا ہونے والے منفی رویوں کی روک تھام ہوگی، بلکہ والدین کی اپنی بیزاری اور غصہ بھی کم ہوگا۔والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اپنی ان پریشانیوں، ذمہ داریوں اور مسائل سے دور رکھیں، جنہیں حل کرنا کلی طور پر والدین کی اپنی ذمہ داری ہے۔بچوں کو ایک ساتھ بہت ساری نصیحتیں کرنے کے بجائے انہیں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔بچوں کو گھر میں بند رکھنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ بچوں کی عمر کے مطابق ان کو کھلونے یا میدان میں کھیلنے کی ترتیب دیں۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ہم عمر دیگر بچوں کے ساتھ اپنی نگرانی میں میل جول اور کھیل کود کی بھی آزادی دیں۔ بچوں کو ہر وقت نصیحت کرتے رہنے کی بجائے انہیں خود سے اور اپنے طور پر سوچنے کا موقع دینا چاہیے تاکہ وہ آپ کے سامنے اپنے آپ کو بہتر طور پر پیش کرسکیں۔سب سے اہم چیز یہ ہے کہ بچے چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے، وہ اپنے اندر عزت نفس کا مادہ لے کر اس دنیا میں آتے ہیں۔ عزتِ نفس کا یہ مادہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے، اس لئے بچے کی بے عزتی یا توہین نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی بچوں کی عزت نفس کو مجروح کرنا چاہیے۔

 بچوں پر ہر وقت تنقید کرتے رہنا تو کسی بھی طور پرمناسب نہیں ہے۔ اگر والدین مسلسل ایسا کرتے رہیں تو ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے، جب بچے اپنے والدین اور بڑوں کی باتوں کو نظرانداز کرنا یا پھر پلٹ کر جواب دینا شروع کردیتے ہیں۔ان حالات میں اگر والدین جبر یا طاقت کا مظاہرہ کریں توبچے خود کو بھوکا رکھ کر یا زخمی کرکے ”سزا“ دینا شروع کردیتے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ بچے والدین کے ادب اور خوف کی وجہ سے بہت سی باتیں اپنے والدین کے ساتھ شیئر نہیں کرپاتے اور اندر ہی اندر کڑھتے رہتے ہیں۔ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پہلے تو غور کرنا چاہیے کہ کہیںبچے اضطراری حرکتیں تو نہیں کرتے؟ کیونکہ بچے اضطراری حرکتیں اس وقت کرتے ہیں، جب وہ اندر سے ”بھرے“ بیٹھے ہوں، لیکن وہ کسی کے ساتھ انہیںشیئر نہ کرسکیں۔بچے بہت سی باتیں بعض اوقات اشاروں کنایوں میں بھی کہہ جاتے ہیں، اس لئے والدین کو غور کرنا چاہیے کہ ان کے بچے کیا

 کہہ رہے ہیں؟ والدین کو یہ بھی چاہیے کہ اپنے بچوں کے ساتھ انتہائی دوستانہ تعلق رکھیں ، ان کے ساتھ سنت ِ رسولﷺ کے مطابق انتہائی شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئیں۔ والدین زیادہ بلنداور گرجدار آواز میں بچوں سے بات نہ کریں۔بچے اپنے والدین کے غصے، خوشی اور مایوسی کے جذبات اور احساسات سے بہت زیادہ سیکھتے ہیں،لہٰذا والدین کوچاہیے کہ غیر ضروری طور پر اپنے منفی جذبات کو بچوں کے سامنے ظاہر نہ کریں۔اگر بچہ نازیبا حرکات کرتا ہو تو اس کی اصلاح کرنی چاہیے اور اس کی ایسی حرکتوں سے لطف نہیں لینا چاہیے، ورنہ وہ آپ کو خوش کرنے کے لئے نازیبا حرکتوں کو اپنی عادت بنالے گا۔ کسی بھی قسم کی غلطی پر بچے کو سزا دینے کی بجائے اسے پیار سے سمجھانا چاہیے۔جب بچہ کوئی اچھا کام کرے تو اسے ہرگز نہ ٹوکئے، بلکہ بچے کو صرف اسی وقت ٹوکئے کہ جب وہ قابل مذمت حرکت کررہا ہو۔بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں اور خیال رکھیںکہ وہ آپ کی محبت سے متاثر ہوکر آپ کی اچھی باتیں اختیار کریں۔قارئین کرام!! میڈیا کا کردار بھی بچوں کو منفی رویوں سے دور رکھنے میں بڑا اہم ہے۔ آج کے دور میں میڈیا صرف اخبارات تک محدود نہیں رہا، بلکہ دورِ جدید میں اطلاعات تک رسائی کے جو نئے ذرائع پیدا ہوئے ہیں، ان کی مانیٹرنگ بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر بچوں کوہروقت کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ویڈیو گیمز اور موبائل فون وغیرہ کے ساتھ لگے رہنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ یہ چیزیں لاﺅنج میں یا کسی ایسی جگہ پر رکھیں جہاں دیگر اہلِ خانہ کا آنا جانا بھی لگا رہتا ہو۔کیبل کے تمام چینلز دیکھنے کے بجائے مفید و معلوماتی پروگراموں کا انتخاب کریں اور اوقات نوٹ کرکے سب مل کر صرف وہی پروگرام دیکھیں۔ اس ضمن میں خود والدین کو بھی ان پروگراموں کو دیکھنے سے اجتناب برتنا چاہیے جو فحاشی و عریانی پھیلانے اور اخلاق و کردار کو متاثر کرنے والے ہوں۔[کالم نگار رکن قومی اسمبلی، قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور، پانی و بجلی، قانون و انصاف ہیں] ٭

مزید :

کالم -