عام لوگوں کے ”خاص “ رویے

عام لوگوں کے ”خاص “ رویے
عام لوگوں کے ”خاص “ رویے

  

ہم میںسے بہت سے لوگ، مَیں ان میں پیش پیش ہوں، مسلسل شاکی رہتے ہیںکہ صورت ِ حال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ہم گزرے ہوئے اچھے وقت اور فراموش کردہ قدروں کو یاد کرکے اور اپنے ارد گر د بداطوارا فراد کو معززین کے روپ میں دیکھ کر نوحہ کناں رہتے ہیں۔ ہم یاد کرتے ہیں تو دل سے ہوک اٹھتی ہے کہ کبھی اس وطن میں اتنا اچھا وقت تھا کہ آدمی انسان تھا اور اُسے شائستگی اور مہذب قدروں کا پاس تھا۔

مری کے پُرشکوہ پہاڑی مقام پر سہ پہر کو چائے سے لطف اندوز ہونا، دن کے ڈھلتے سایوں کے ساتھ ”مال روڈ “ پر چہل قدمی کرنا، نتھیا گلی کی پُرسکون اورخاموش فضا جومری سے بھی زیادہ کیف آفریں محسوس ہوتی تھی ، میں دل کش منظر ، جو قلب و نظر کو تابندگی عطاکرتے تھے۔ وہاں قیام کرنا زندہ جذبوں کو مزید توانا کر دیتا، مگر اب افسوس وہ دل گداز فطرت سیمنٹ کی عمارتوں اور برق رفتار کیبل کاروں ، جن میں چپسوں کے پیکٹ کے پیکٹ کھاتے ہوئے خود پسند بچے، فربہ اندام خواتین، پان کھا کر جا بجا نقش و نگار بناتے ہوئے افراد یا پھر ہوا کے مخالف سمت میں نسوار کھا کر تھوکنے والے دوست سوار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ صفائی پسند ”تہذیب“ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ منہ سے اگلنے والے مواد کے بارے میں احتیاط برتی جائے کہ یہ زمین پر گرنے نہ پائے، بلکہ اس کا نشانہ کوئی دو قدموںپرچلنے والی مخلوق ہی بنے ۔ ہم یہاں موجود بندروں، جو کھانے کی تلاش میں ادھر اُدھر پھر رہے ہوتے ہیں، کو دیکھ کر بدکتے ہیں کبھی سوچا ہے کیوں ؟ہم خوف کے عالم میں سہمے سہمے مال روڈ پر موجود کھانے پینے کے سٹالوںکو دیکھتے ہیں۔ یہاں پر کبھی ”ریڈ اونین “ تھا، مگر اب ”بلیو اونین“ اور ”گرین اونین“ یا شاید ”ارغوانی اونین“ خدا جانتا ہے کہ مزید کتنے رنگ سامنے آنے والے ہیںکے شیڈز دکھائی دیتے ہیں۔ اشیائے خورو نوش کی مشہور دکانوں کی نقل صرف مری تک ہی محدود نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر مربع انچ میں ”نقل “ ہی اصل کی دعویدار دکھائی دے گی۔ خوشاب کے مرکزی بازار میں ”انور دودھا “ کے نام سے نہایت عمدہ مٹھائی بنانے والے ایک حلوائی کی دکان ہوا کرتی تھی، مگر اب خدا جھوٹ نہ بلوائے تو وہاں سینکڑوں ”انور دودھا “ ہیں اور ہر ایک اپنے آپ کو ”اصلی “ قرار دیتا ہے۔ اس عالم میں سیر کو آنے والے سیاح حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہوتے ہیںکہ وہ اصل چیز کس سے خرید کر بطور سوغات گھر لے کر جائیں۔

لاہور میں تو یہ معاملہ نہایت ”سنگین“ ہو چکا ہے ، خاص طور پر تلی ہوئی، مچھلی کھانے کے شوقین، جو مزنگ میں واقع مچھلی کی ایک مشہور دکان ”بشیر دارالماہی “ پر جاتے تھے، اب اس کے درجنوں ہم نام ہیں اور ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہ ”اصلی “ ہے۔ اب اس بات کا فیصلہ کیسے کیا جائے کہ کون اصل ”بشیر دارلماہی “ ہے ؟اس ضمن میں، مَیں نے ایک گاہک سے پوچھا کہ وہ اس بات کا کیسے تعین کرتا ہے کہ یہ اصل دکان ہے تو اُس کا کہناتھا کہ ”رش “ کی وجہ سے، یعنی جہاں رش ہوگا، وہ”اصلی “ دکان ہو گی۔ میرا خیال ہے سری پائے بنانے کا بے تاج بادشاہ”پھجا “ راہی ِ ملک ِ عدم ہو چکا ہے، مگر لاہور والوںکو ، کم از کم نام کی حد تک، اُس کی کمی محسوس نہیںہوتی ۔ جہاں تک رش کا تعلق ہے تو ان دکانوںپر پاکستان کے نو دولتیوں کا ہجوم رہتا ہے۔اس صورت ِ حال نے فن کے اصل دلدادہ افراد کو افسردہ کر دیا ہے۔ ایک دوست ، جو گناہ کے تو قائل ہیں، مگر گناہ کی لذت کو گناہ نہیں سمجھتے ، اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ”نرخ “ بہت بڑھ گئے ہیں اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ لاہور کی مارکیٹوں میںکام کرنے والے لڑکے ، جو دن کو اپنے باس کی نظروںکے سامنے تو چیزیں بیچتے ہیں ، مگر سورج ڈوبنے پر اُ ن کا ”خریداری “ وقت شروع ہو جاتا ہے۔ یہ باتیں سن کر پرانی نسل جو جان کیٹس پڑھ کر خوش ہو جاتی تھی، اس کی زبان غصے سے گنگ ہو جاتی ہے۔

اب ایک نیا پاکستان ابھر رہا ہے۔ اس کی جھلک آپ کو ملک کے طول و عرض کے علاوہ پی آئی اے کے کاﺅنٹرز اور فلائٹس کے دوران بھی دیکھنے کو ملے گی بد تہذیبی، خودسری، بلند آواز میں فون پر چیخ و پکار.... تاہم ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں بقول یوسفی صاحب، ایک تاریک اور دوسرا زیادہ تاریک اور مری کے حوالے سے اس دوسرے رخ کی جھلک ڈاکٹر عادل نجم نے مری کی حالیہ سیر کے دوران دیکھی۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوںنے دنیا کے کسی مربع فٹ پر اتنے آدمی انسان کہیں خال خال ہی ملا ہو گا نہیں دیکھے، جتنے مری میں دیکھنے کو ملے ہیں۔ میرا خیال ہے ”درستگی “ کے لئے فی مربع انچ کا پیمانہ استعمال کرنا چاہیے۔ ان کے مشاہدے کے مطابق مری میں اب شائستگی اور تہذیب کا داخلہ ممنوع قرار دے دینا چاہیے۔ اب وہاں خاموشی سے چائے پی کر پُرسکون ماحول سے لطف اٹھانے والوں کی کوئی جا نہیں ہے ۔ یہاں ”سکون کے متلاشیوں “ کا ایک بپھرا ہوا ہجوم ہوتا ہے جو مال روڈ پر اس طرح چنگاڑتے پھر رہے ہوتے ہیں، جیسے کہ انقلاب ِ فرانس کے دوران انقلابی جتھے ”بیسٹائل جیل “ پر حملہ آور ہونے جا رہے ہوںجبکہ ہر خاتون میڈم ڈیفارج نظر آتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ مری میں ”سیزن “ پر جانے کی استطاعت رکھنے والے افراد کے لیے تعلیم یافتہ یا تہذیب یافتہ ہونا ضروری نہیںہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان افراد کا تعلق فن کارطبقے سے ہو، مگر یہاں وہ فن سے زیادہ اپنے مالی وسائل کا ہی دکھاوا کرتے ہیں۔ ہر معاملے میں اُن کا رویہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ روپے اور اب انٹر نیٹ نے ان کی ”کارکردگی “ بڑھا دی ہے۔ گنجان آباد محلوں میں رہنے والی لڑکیاں بڑے غور سے دیکھتی ہیںکہ قطرینہ کیف غسل کے بعد کیسے باتھ ٹب سے باہر آتی ہے اور وہ کس چیز سے غسل کرتی ہے ، یا پھر وہ پرانے فیشن میگزینوں میں نوجوان ماڈلز کے لباس دیکھتی ہیں۔ ان لڑکیوںکو پتا ہے کہ وہ نہ تو ایسی نظر آتی ہیں اور نہ ہی بن سکتی ہیں کالی جینز، بہت ہی مختصر ، بلکہ ”نامکمل “ شرٹ جس کا کمر سے کوئی واسطہ نہیںہوتا اور چمک دار سنگ ِ مرمر کی طرح ملائم اورگداز بازو ، کالے بوٹ یا ایسی اونچی ایڑھی والی جوتی جو بیچارے نیوٹن کے تمام قوانین کا بے باکی سے منہ چڑاتی پھرتی ہے ،سیل فون، مسکارا، گہری اور بوجھل پلکیں(مصنوعی یہ بتانے کی ضرورت نہیںتھی) ،نہایت ماہرانہ طریقے سے لگائی گئی لپ سٹک سے شخصیت کو دیا گیا ”فائنل ٹچ“، سانسوں کو مہکانے والا ماﺅتھ فریشنر، سٹائلش ہینڈ بیگ جو بڑی ادا سے کندھے، جس پر بیگ کی بیلٹ کے سوا کچھ نہیںہوتا، پر لٹکایا گیا ہوتا ہے، جبکہ ان اداﺅںپر قریب سے بی ایم ڈبلیو پر گزرنے والامحویت کے عالم اس طرح بریک لگاتا ہے کہ گاڑی رگوں میں ریت بھر دینے والی آواز کے ساتھ وہیں سڑک کے ساتھ چپک جاتی ہے۔

یہ سب نازک ادائیں زبان کھولتے ہی ”چنگیزی “ ہو جاتی ہیں، مگر اس بات کا احساس آپ کو رات گئے ، ”کافی دیر “ بعد ہوتا ہے۔ یہ مخلوق بھی پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح مری میں مل جاتی ہے اور اچھا ”سیزن “ گزار رہی ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ اگر عام لوگ بھی ”خواص “ کے نقش ِ قدم پر چل نکلے ہیں تو اس میں آخر ”برائی “ کیا ہے؟ اب مری میں صرف اشراف کی ہی اجارہ داری نہیں، بلکہ اس میں اب نئے نئے دولت مند زیادہ نظر آتے ہیں، چنانچہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ لوگ پاکستان کی بلیک اکانومی سے، (اس کو سفید کیوں نہیں کہا جا سکتا؟)، جو سرکاری اعداد وشمار سے تین گنا زیادہ ہے، اپنی محنت کے مطابق حصہ لیتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اب ہمیں ان چیزوںکے ساتھ نباہ کرنا سیکھ لینا چاہیے۔ ہم کب تک پرانی چیزوں کے ساتھ چمٹے رہیںگے ؟ ا ب تو ہم ایسے ایسے ریستورانوںمیں روزانہ جاتے ہیں، جن کا نام بھی ہم ادا نہیں کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر نجم کا کہنا ہے کہ ہمیں ”نئے مری “ کی حقیقت کوقبول کر لینا چاہیے۔ ہم کب تک ریت میں سرچھپائے بیٹھے رہیںگے؟ملک ریاض صاحب نے نہایت عمدہ گالف کلب بنائے ہوئے ہیں، جہاں میرے دوست فوجی جنرل ہٹ تو عمدہ لگاتے ہیںآگے گیند کی مرضی ۔ہمیں تنقید کرنے کی بجائے اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں یہ جو بدتہذیبی اور غیر شائستگی موجود ہے۔ اسے کھلے دل سے قبول کر لینا چاہیے۔  ٭

مزید :

کالم -